Tue, Mar 20, 2012 at 10:20 AM
ایم کیوایم کی بڑھتی ہوئی فرمائشیں
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں بھتہ خوری کے خلاف غیر معمولی ردعمل کا اظہار کیا جس پر بعد میں معذرت کا ا ظہار بھی کیا۔یہ دونوں عمل سوچ سمجھ کر کئے گئے یا ایک غیر دانستہ عمل پر دانستہ طور پر معذرت کی گئی۔ اس سوال پرمبصرین کی رائے منقسم ہے۔ بھتہ خوری ایک پرانا مرض ہے جس میں چندے کی چٹھیوں سے لیکر فطرے، زکوات، اور قربانی کے کھالوں تک کی جبری وصولی کے طریقے شامل ہیں۔
سنیچر کے روزایم کیو ایم کا بھتہ خوری پر اس قدر شدید ردعمل سامنے آیا جو کئی نیوز چینلز پر یہ فتوے جاری ہونے لگے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ اس سے پہلے سینیٹ کے انتخابات کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھی کہ انتخابات سے پہلے حکومت کو چلتا کیا جائے گا۔ مگرایوان بالاکے انتخابات معمول کے مطابق منعقد ہوئے جس کے بعد متحدہ کے اس عمل نے تجزیہ نگاروں کو اپنے تجزیے نئے ایندھن سے روشن کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ متحدہ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے مسائل کا حل صدر زرداری کے پاس ہے۔اور ان کی یہ بات بعد میں درست ثابت ہوئی۔ صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس کے بعد متحدہ نے صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کے موقع پر بائکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔ مگر کراچی سمیت دیگر شہروں میں ہڑتال کافیصلہ برقرار رکھا۔وزیر اعلی سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو کچھ غلط فہمیاں ہو گئی تھیں جو صدر زرداری نے دور کردی ہیں۔مگریہ غلط فہمیاں کیا تھیں لاکھوں لوگ ایک مرتبہ پھر سننے اور سمجھنے سے محروم رہے۔ ہاں ا تنا ضرور ہوا کہ ایک مرتبہ پھر رحمان ملک کراچی پہنچ گئے۔ صوبائی سبجیکٹ ہونے کے باوجود کراچی میں امن امان کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی اور ایک مرتبہ پھر مخصوص علاقوں میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے جب کراچی کی صورتحال کا از خود نوٹس لیا تھا تو عدالت میں پیش کی گئی بھتہ خوری لینے والوں کی لسٹ میں سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے ساتھ بعض مین اسٹریم پارٹیوں کے نام بھی شامل تھے۔ عدالت نے کراچی کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو کہا تھا۔ یوں امن امان کی ذمہ داری بھی عدلیہ کو دی گئی۔ عدالت کی اس ہدایت کے بعد آئی جی سندھ پولیس اور رینجرز وقتا فوقتا سندھ ہائی کورٹ کو رپورٹ پیش کرتے رہے ہیں۔
جہاں تک بھتہ خوری یا بدامنی کا تعلق ہے، وہ صرف کراچی میں ہی نہیں سندھ بھر میں ہے۔ کراچی میں ایم کیو کے پاس مضبوط نیٹ ورک ہے۔اسے میں کون بھتہ خوری ی اسٹریٹ کرائیم کر سکتا ہے۔
جمع کے روز ایم کیو ایم کے اراکین کے احتجاج کی وجہ سے اسمبلی کی کارروائی معطل ہو گئی۔ اس دوران نیشنل پیپلز پارٹی کے رکن عارف مصطفی جتوئی سے ایم کیوایم کے اراکین کی جھڑپ بھی ہوئی۔ جس کے خلاف سندھ کے مختلف شہرو میں احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ عارف جتوئی کو اس وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا کیونکہ انہوں نے سندھ کی وحدت کے حوالے سے صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی جو ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے حوالے سے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل کے خلاف تھی۔اس سے پہلے کراچی میں مہاجر صوبے کی قیام کی چاکنگ اور وال پوسٹر کے خلاف فنکشنل لیگ کی خاتون رکن نصرت عبای نے مذمتی قرارداد پیش کی تھی جس کے بعد انکو دھمکی آمیز فون اور موبائل پر میسجز آنے لگے۔
جمع کے روز ایم کیو ایم نے نہ صرف سندھ اسمبلی کے اندر احتجاج کیا بلکہ کارکنوں کو اسمبلی باہر جمع ہو کر احتجاج کرنے کو کہا۔ جس پر ریڈ زون قرار دیئے گئے اس علاقے میں ہزاروں کارکن پہنچ گئے اور اس ایریا میں گھومتے رہے۔اور یوں اراکین اسمبلی ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کی لپیٹ میں آگئے۔
آخر ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے ایم کیو ایم یہ سب کر رہی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت امریکہ کے دباؤ ہی نہیں اپنے اتحادیوں کی اس فرمائش پر خاصی پریشان ہے۔ اسی طرح ایم کیو بھی اس سے Do more کے فارمولے پر کام کر رہی ہے۔
اس وقت ایم کیو ایم کے پاس وفاق میں دو وزارتیں یعنی بابر غوری کے پاس شپنگ اینڈ پورٹس اور فاروق ستار کے پاس سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت ہے۔ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ بازگشت ہے کہ اب ایم کیو ایم نو منتخب سینیٹر مصطفی کمال کے لئے بھی وزارت لینا چاہتی ہے۔صدر زرداری خاصے فراخدل نظر آتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے ایم کیو ایم کو سینیٹ میں ایک اضافی نشست دیدی تھی۔تو اس مرتبہ تیسری وزارت بھی دے سکتے ہیں۔
مگر ایک کیو ایم کا دوسرا مطالبہ ذرا سخت ہے۔وہ چاہتی ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی آزادانہ طور پر کام نہ کر سکے۔شاید اس جماعت پر پابندی بھی چاہتی ہے۔ایسا کرنا حکومت کے لئے ناممکن ہے کیونکہ حکمراں جماعت سے لیکر مختلف اداروں تک اس خیال کے ہیں کہ حقیقی کو بھی اسپیس دیا جائے۔Do more کے مطالبے پر صدر زرداری کے لئے یہ تو آسان ہے کہ کسی کو ایڈجسٹ کریں مگر بندش ڈالیں توکس بنیاد پر؟ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی پر دہشتگردی کا کوئی بھی الزام تاحال ثابت نہیں ہوا۔ مگر اتحادی جماعت کا کہنا ہے کہ اللہ اکبر اللہ اکبر گروپ کی بنیاد پر حقیقی پر پابندی عائد کی جائے۔ گذشتہ دنوں صوبائی وزارت داخلہ نے حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد کو ایم پی او کے تحت نظربند کردیا تھا۔یہ دلچسپ امر ہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ اور حقیقی کے کارکنوں پر مشتمل ایک گروپ کو اللہ اکبر گروپ قرار دیا جاتا ہے جس پر تخریب کاری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ الزامات تاحال ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ چونکہ حقیقی ایم کیو ایم کی ہی صفوں سے نکلی ہوئی ہے اس لئے متحدہ اس
کو اپنے لئے چیلینج سمجھتی ہے۔ اردوداں حلقوں میں یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی کا راستہ روکنے کیلیے کراچی کی دیواروں کو مہاجر صوبے کے نعروں سے رنگا گیا۔
حقیقی اس وقت لانڈھی تک محدود ہے اور خاموشی سے اپنے سیاسی ساتھی تلاش کرنے میں مصروف ہے۔
اس حوالے سیایم کیو ایم حقیقی کے عوامی نیشنل پارٹی اور امن کمیٹی کے ساتھ روابط قابل ذکر ہیں۔ یہ تینوں گروہ یا جماعتیں تین مختلف قومیتوں یعنی مہاجر، بلوچ اور پٹھان لسانی گروہوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔مستقبل میں یہ تینوں ایک دوسرے کی مدد کر سکتی ہیں۔ آئندہ انتخابات میں ان تینوں گروہوں کے الحاق سے ایم کیو ایم مخالف لابی بن سکتی ہے۔شاید یہ بات متحدہ نے بھانپ لی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کا دعوا ہے کہ وہ کراچی کی واحدنمائندہ جماعت ہے اور وہ یہ دعوا کسی کے ساتھ شیئر کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس اے این پی کے نو منتخب سینیٹر شاہی سیدنے ان خطوط پر کام کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ شہر سب کا ہے۔کسی ایک پارٹی کے پاس یرغمال بننے نہیں دیں گے۔ ایم کیو ایم حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد کا موقف بھی اس سے ملتا جلتا ہے جن کا دعوا ہے کہ کراچی میں عوام کا مینڈیٹ یرغمال ہے۔
بعض گروپ اپنا سیاسی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو دوسرے اپنا دائرہ اثر بڑھانے کے لیے بضد ہیں۔ جس کی وجہ سے صورتحال کشیدہ رہتی ہے۔ کراچی کے مینڈیٹ کی حالت بھی آنے والے انتخابات میں کچھ ایسی ہی ہونی ہے جیسی عیدالاضحی کے موقعے پر قربانی کی کھالوں کی ہوتی ہے۔ جس کے بازؤں میں جتنا دم ہوگا اتنا ہی اس کو مینڈیٹ ملے گا۔
No comments:
Post a Comment