Thu, Mar 15, 2012, 12:14 PM
نئی تاریخ رقم کرنے کے عزائم!!
کالم ۔۔ سہیل سانگی
پیپلز پارٹی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے۔ حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعلی سندھ اور مسلم لیگ ہم خیال کے بیرون ملک رہائش پذیر رہنما ارباب غلام رحیم کی سندھ اسمبلی میں رکنیت ختم کی جائے۔اس بات کی فنی وجہ یہ ہے کہ ارباب رحیم اسمبلی کے اجلاسوں میں چالیس روز شرکت نہیں کر سکے ہیں۔ مروجہ عوامی نمائندگان کے ایکٹ کے مطابق جو بھی منتخب نمائندہ ایوان کی منظوری کے بغیراجلاسوں سے مسلسل چالیس روز تک غیر حاضر رہے گا، اس کی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے۔پاکستان میں کئی اراکین اسمبلی عموما غیر حاضر رہتے ہیں مگر اس کے لئے ایوان سے چھٹی لینا ضروری ہوتا ہے جس کی باضابطہ درخواست پیش کی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر منتخب ایوان کے اجلاس کے ایجنڈے کا ایک اسم اراکین کی چھٹی کی درخواستیں نمتانا بھی ہوتا ہے۔
موجودہ سندھ اسمبلی وجود میں آنے کے بعد سابق وزیراعلی سندھ ارباب رحیم نے شروع کے ایک دو اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔ جس دوران اسمبلی کے اندر ان کو ایک ناراض نوجوان نے جوتا مارا تھا۔ بعد میں انہوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی اور دبئی میں رہائش پذیر ہیں۔وہی پر اپنے کاروبار کو دیکھ رہے ہیں۔ اور کبھی کبھار سیاست کے لیے بھی وقت نکال لیتے ہیں۔تین سال سے زیادہ عرصے کے دوران وہ متعدد بار ایوان سے اپنی چھٹی منظور کراتے رہے ہیں۔مگر اس بار حکمران جماعت نے ان کی چھٹی کی درخواست منظور نہیں کی اور ایوان میں بحث کے لئے بھی یہ درخواست پیش نہیں کی جا سکی۔
اس اثنا میں سینیٹ کے انتخابات سر پر آ گئے۔ پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ یہ انتخابات سندھ میں بلا مقابلہ ہوں۔ اس غیر ضروری اور بے فائدے مقصد کے لیے پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں سید قائم علی شاہ اور خورشید احمد شاہ نے ارباب سے سینیٹ کے لیے انکی پارٹی کے چار ووٹ مانگے۔ارباب کو اچانک اپنی اہمیت کا اندازہ ہوا اور وہ صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں کی بنیاد پر سینیٹ کی ایک نشست کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطالبے میں نہ کوئی منطق تھی نہ وزن لہذا پیپلز پارٹی نے انکا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔
ارباب رحیم نے اپنے دو محسنون سید قائم علی شاہ اور خورشید شاہ کی بات نہیں رکھی حالانکہ یہ دونوں صاحبان ہمیشہ انکو پروموٹ کرتے رہے ہیں۔ یوں ارباب کی معمولی غلطی نے اب بازی پلٹ دی ہے۔ اور پیپلز پارٹی نے انکو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جس کی سیاسی بنیاد اور وجوہات اپنی جگہ پر مگر یہ حقیقت ہے کہ ارباب غلام رحیم نے چالیس روز تک اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی یہ اقدام کرنے جا رہی ہے تو پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مثال ہوگی کہ کسی کو اجلاس میں مطلوبہ روز تک شرکت نہ کرنے پر نشست سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔
ارباب جنرل مشرف کے لاڈلے رہے ہیں۔جنرل مشرف نے علی محمد مہر کو ہٹا کر انہیں وزیر اعلٰ سندھ بنایا تھا۔وہ مشرف دور میں پیپلز پارٹی کے خلاف سرگرم رہے۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری پر نہ صرف تنقید کی تھی بلکہ خاصی خراب زبان بھی استعمال کی۔ جب آصف زرادری جیل سے رہا ہوئے تو ارباب نے کہا تھا کہ زرداری کو بکری کی چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
ارباب رحیم نے بے نظیر کی وطن واپسی پر کہا تھا کہ پیپلز پارٹی والے ناچتے ہوئے جائیں گے اور روتے ہوئے آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں بے نظیر بھٹو قتل کیس سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی بریفنگ کے دوران سندھ اسمبلی کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ ارباب رحیم کو بھی اس مقدمے میں شامل کیا جائے۔ارباب رحیم کی وزارت اعلی کا دور کراچی اور سندھ کے لئے پر آشوب رہا۔ٹارگیت کلنگز، دہشتگردی کے واقعات اور امن و امان کی خراب صورتحال کے کے علاوہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر کراچی میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد کو کراچی ایئر پورٹ پر روک دیا گیا اور اس موقعے پر کراچی میں قتل کے واقعات ہوئے تھے۔
ضلع کونسل سے سیاست کا آغاز کرنے والے ارباب غلام رحیم کے شروع میں پیپلز پارٹی کے ساتھ Love hate قسم کے تعلقات رہے ہیں۔ان کا ”طریقہ واردات“ یہ رہا کہ انتخابات آزاد امیدوار کے طور پر جیتے مگر بعد میں جو بھی پارٹی حکومت میں آئی اس کا ساتھ دیا۔
ارباب رحیم کو پروموٹ کرنے میں خود پیپلز پارٹی اور موجودہ وزیراعلی سندھ کا بھی کردار رہا ہے۔تھر کے لوگوں کو ابھی تک یاد ہے کہ کنئے ضلع کا کریڈٹ لینے اور پسند کے علاقے ضلع میں شامل کرنے کے لئے ارباب رحیم کے کہنے پر قائم علی شاہ نے چھپ کر نؤں کوٹ میں جا کرنئے ضلع کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد بھی مختلف مواقع پر پیپلز پارٹی ان کو نوازتی رہی ہے۔کم از کم دو مرتبہ تھر کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے انکو رعایت اور سہولت دی۔پیپلز پارٹی پر یہ بھی الزام ہے کہ اس قومی سطح کی پارٹی کبھی بھی تھر کی مقامی قیادت کوآگے نہیں آنے دیا اور جس طرح سے پنجاب کی سیاسی پارٹوں یا اسلام آباد نے ارباب کو تھر کا علاقہ پٹے پر لکھ کر دیا تھا، پیپلز پارٹی نے بھی اسی طرح کا رویہ رکا۔یوں تھر کی ان دو تین نشستوں کی بنیاد پر وہ سیاست کرتے رہے۔یہ الگ بات ہے کہ مقامی لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ یہ نشستیں بھی دھاندلی کر کے جیتی گئی ہیں۔
حال ہی میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ارباب سے دبئی میں ملاقات کی تھی۔جس میں مخدوم شاہ محمود قریشی اور ارباب گروپ کے درمیان تھر کی نشستوں پر انتخابی اتحاد طے پایا ہے۔سندھ کے جنوبی اور ریگستانی ضلع تھر میں ارباب کا جو ووٹ بنک سمیجو، راہموں اور نہڑی برادریوں پر مشتمل ہے یہ برادریاں روایتی طور پر مخدوم شاہ محمود قریشی کی مرید ہیں۔ پیپلز پارٹی جس نے کبھی تھر کی سیاست کو نہ سنجیدگی سے لیا نہ مقامی لوگوں کو آگے لے آئی ان کے لئے یہ اتحاد خاصا پریشانی کا باعث بن گیا۔
ارباب کو ایک طرف کر کے تھر کی نشستیں اپنے حصے میں لینا چاہتی ہے۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ارباب کے خلاف مجوزہ کارروائی کے پس منظر میں ایک نکتہ یہ بھی شامل ہے۔
ارباب رحیم خود کو سیاست میں زندہ رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ تھر کے کوئلے کی ترقی کے لئے اپنے دور اقتدار میں تو کچھ نہیں کیا اب کچھ قوم پرستوں کے ساتھ ریلی نکالی۔اور اسلام آباد کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ قوم پرست ان کے دائرہ احباب میں شامل ہیں۔کبھی سندھ کے ایک اور وزیر اعلی لیاقت جتوئی بھی کرتے رہے ہیں۔مگر اب قوم پرست لیاقت جتوئی کی سیاست کو سمجھ چکے ہیں۔ارباب رحیم پنجاب میں بھی روابط رکھنا اور اس کا دکھاوا دینا چاہتے ہیں۔ لاہور میں ٹیلیفونک خطاب کر کے اپنا دکھڑا وہاں سنایا۔انکا یہ عمل سب کو یہ باتانے کی کوشش ہے کہ وہ سیاسی طور پر تنہا نہیں ہیں۔
اب جب آئندہ چند ماہ میں نے انتخابات کا اعلان ہونے والا ہے۔ پیپلز پارٹی ارباب کو ایسے موقعے پر کیوں ڈی سیٹ کر رہی ہے، یہ توگناہ بے لذت اور سیاسی غصہ ہے۔ایسا اقدام اٹھا کر ارباب کوسیاسی شہیدکا رتبہ دینا چاہ رہی ہے جس سے ان کی سیاسی پوزیشن بہتر ہوگی۔جبکہ اسٹبلشمنٹ اگر ساتھ نہ دے تو ارباب کی کوئی پوزیشن نہیں۔اگر واقعے ارباب سے نمٹنا ہے تو سیاسی طور پر نمٹے۔یہ انتظامی طریقے تو آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔اب اگر کوئی پوزیشن بنے گی بھی تو وہ پیپلز پارٹی کے غلط فیصلوں اور حکمت عملی کی وجہ سے ہوگی۔
No comments:
Post a Comment