Thursday, 5 March 2020

سندھ میں قوم پرست سرگرم ہونے لگے - 2012-3-27

Tue, Mar 27, 2012 at 11:48 AM
سندھ  میں قوم پرست  سرگرم ہونے لگے
میرے دل میرے مسافر  ۔۔ سہیل سانگی 
ملک گیر پارٹیوں کے جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں کے بعدسندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے سندھ کی تین قوم پرست جماعتوں نے جلسے کئے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔بشیر خان قریشی کی قیادت میں جیئے سندھ قومی محاذ  (جسقم) نے 23مارچ کوکراچی بہت بڑی ریلے نکالی۔ اس سے قبل ڈاکٹر صفدر سرکی کی قیادت میں جیئے سندھ تحریک نے بھی صوبائی دارالحکومت میں ریلی نکالی اور کراچی کی سڑکوں پر مارچ کیا۔سندھ ترقی پسند پارٹی نے حیدرآباد میں جلسہ کیا۔ ان تین ریلیوں نے قوم پرست سیاست کو تقویت دی ہے۔
 اس وقت سندھ میں جب کوٹہ سسٹم، کراچی کو صوبہ بنانے کی چاکنگ اورسندھ اسمبلی میں بحث وغیرہ کے حوالے سے صوبے کی دو بڑے لسانی گروہوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی پائی جاتی ہے۔اور ایم کیو ایم کراچی، سکھر اور حیدرآباد میں اپنی سیاسی قوت کے اظہار کے طور پر جلسے منعقد کر کے کر چکی ہے۔اگرچہ سندھی آبادی کی پارلیمانی نمائندگی پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ مگر سندھ کا سیاسی اظہار قوم پرستوں کی جانب سے ہی ہوتا رہا ہے۔ ایسے میں سندھی آبادی کی طرف سے قوم پرستوں کا یہ اظہار اہمیت کا حامل ہے۔
ان تینوں جماعتوں کی سیاست اور نقطہ نظر میں فرق ہے۔  بشیر خان قریشی نے  1940 کی قرارداد کو لوداع کرنے اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ سندھ کی نجات کے لیے ساتھ دیں۔انکا کہنا ہے کہ  ملک کے تینوں آئین بشمول  73 کے آئین کے 1940 کی قرارداد کے منافی بنائے گئے ہیں۔وہ بھی سندھ کی اردو دان آبادی کو سندھی قوم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ 
ڈاکٹر صفدر سرکی کے مطابق سندھ کے اردو بولنے والے مستقل باشندے ہیں وہ وال چاکنگ کے بجائے سندھ کے حقوق کی جدوجہدمیں ساتھ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ قوم پرستی کے نام پر انتخابات لڑتے ہیں اور لوگ انہیں مسترد کرتے ہیں۔ہم انتخابات کا بائکاٹ کریں گے۔وہ پنجاب کی بالادستی کی مخالفت کو پہلے نمبر پر رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کی سندھ پر پنجاب کی شہنشاہیت مسلط ہے اب وہ چلنے نہیں دینگے۔وسائل پر قبضہ اب زیادہ دن تک نہیں چلے گا۔ سندھ کی نجات کے لیے ریفرینڈم کرایا جائے۔
 سندھ ترقی پسند پارٹی پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہے۔ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی  کو انہوں نے  ہدف تنقید بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زرداری کا مقابلہ نعروں اور باتوں سے نہیں پورے سندھ میں انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے کریں گے۔سندھی زبان اور ثقافت خطرے میں ہے۔ملازمتیں کوٹہ پر بانٹی جا رہی ہیں۔جس کی وجہ سے سندھ میں بے روزگاری ہے۔ہم انتخابات جیت کر بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا دیں گے۔انہوں نے ایک کیو ایم کی قیادت اور اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ 
 ان تینوں سیایس مظاہروں میں صرف سندھ ترقی پسند پارٹی کا موقف ایم کیو ایم کے خلاف ہے جبکہ باقی دونوں جماعتوں نے اردو بولنے والوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اگر سندھ کے بیٹے بنتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی تنقید نہیں ہے۔جبکہ ڈاکٹر قادر مگسی نے ایم کیو ایم پر سخت تنقید کی۔ڈاکٹر مگسی  قوم پرستوں کے اس اتحاد میں شامل ہیں جنہوں نے مشترکہ پلیٹ فارم سے آئندہ انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور نواز شریف کے ساتھ اتحاد بھی کرنا چاہ رہے ہیں۔ اگر ایک نظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر مگسی کی مخالفت کی مین ڈائریکشن ایم کیو ایم کے خلاف ہے جبکہ ڈاکٹر صفدر سرکی اور بشیر خان قریشی کی پنجاب کے خلاف ہے۔ڈاکٹر قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو نواز شریف کے اس لندن میں بنائے گئے اس اتحاد کا حصہ رہے ہیں جو انہوں نے بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے بعد اپنی الگ شناخت کے لئے بنایاتھا۔
 سندھ کے لوگ عرصہ دراز سے سندھ کے وجود، اہمیت اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔اور سندھ کو حق حاکمیت دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسکا اظہار وہ مختلف شکلیوں میں کرتے رہے ہیں۔حال ہی میں سندھ میں ریلوے کی پٹریوں کو اڑایا  گیا تو  صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ احساس محرومی کا نتیجہ ہے۔
 1873 کا آئین جو کئی حلقوں سے برداشت نہیں ہو سکا، سندھ کے لوگ اس کو بھی ناکافی سمجھتے رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ ملک میں بننے والے تمام آئین بشمول 1973 کے آئین، 1940کی قراردادکے منافی ہیں جو کہ قیام پاکستان کی بنیاد بنی تھی۔
 جیئے سندھ قومی محاذ کا فریڈم مارچ جو ان تینوں سیاسی مظاہروں سے بڑا تھا، سندھ میں سیاسی رعب تاب رکھنے والے حلقوں کو بھی ایک پیغام تھا کہ چیزیں اس طرح سے نہیں ہیں جس طرح سے بظاہر نظر آ رہی ہیں۔اس ریلی کی خوبی یہ بھی تھی کہ اس میں اسلحہ کی کوئی نمائش نہیں کی گئی۔
 اس مارچ میں صرف جیئے سندھ قومی محاذ کے کارکن اور حامی ہی موجود نہیں تھے بلکہ مختلف پارٹیوں کے لوگ شامل تھے۔
 اگرچہ شرکا ء کی زیادہ تر تعداد اندرون سندھ سے آئی تھی تاہم اس کراچی کے باشندوں پر مشتمل تھی۔جس میں کراچی کے پرانے باشندوں کے نمائندے شفیع محمد جاموٹ اور دوسرے لوگ شامل تھے۔
پیپلز پارٹی  سندھ کے اس احساس محرومی اور نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو کبھی کچھ دے کر تو کبھی ڈرا دھمکا کر وفاق کے ساتھ سندھ کو جوڑے ہوئے تھی۔ اب پیپلز پارٹی کے اقتدار میں ہوتے ہئے بھی شدید احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی بھی اسکو دور نہیں کر سکی ہے۔ تیل اور گیس کی کل پیداوار کا  69فیصد سندھ سے ہے۔ مگر وہاں کی تعلیم تباہ ہے۔اکثر آبادی غربت کی لکیر سے نہچے کی زندگی گذار رہی ہے۔وفاقی محکموں اور نیم خودمختار کارپوریشنوں میں مقررہ کوٹہ پر عمل نہیں کیا جاتا۔
 سندھ میں قوم پرست سیاست منقسم ہے۔ کچھ پارٹیاں مثلا ڈاکٹر قادر مگسی کی ترقی پسند پارٹی، عوامی تحریک اور جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں۔ یہ تینوں پارٹیاں انتخابات لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔اور انہوں نے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن بھی کرالیا ہے۔ جبکہ بشیر خان کی  جیئے سندھ قومی محاذ اور ڈاکٹر صفدر سرکی کی جیئے سندھ تحریک پارلیمانی سیاست یا الیکشن میں یقین نہیں رکھتیں اور اپنی جدوجہد غیر پارلیمانی طریقوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
 کراچی کے فریڈم مارچ سے یہ بات ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ سندھ کے نجات کی سیاست  نہ صرف وجود رکھتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئی ہے۔ اب قوم پرست سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور وہ بھی صوبائی دارالحکومت کراچی کی سڑکوں پر جہاں بعض گروہ سیاسی اجارہداری کا دعوا کرتے ہیں اورکسی بھی فریق کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
 بلوچستان کے حوالے سے جو نئی بحث چلی ہے۔ اس کے بعد اس لانگ مارچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ایک نئے سوشل کانٹریکٹ کی ضرورت ہے۔ جس کی بنیاد لوگوں کی خواہشات پر ہونی چاہئے۔ کیونکہ فیڈریشن ہمیشہ تبھی بہتر طور پر چل سکتے ہیں اور مضبوط ہوتے ہیں جب وحدتوں کی خواہشات کو اکموڈیٹ کرتے ہیں۔لوگوں کی خواہشات پر کھڑ ی ہوئی یا بنائی ہوئی ریاست سیکیورٹی کے حوالے سے خواہ ریاست کی ہو یا لوگوں کی سیکیورٹی صرف ایسی ہی ریاست ضمانت بن سکتی ہے۔ در اصل ایک سوچ کے انداز میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ 
پاکستان میں فیڈرل ازم کے بحران ملک میں ہر جگہ نمودار ہو رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں قوم پرست تحریکیں ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں انتہا پسندی ہے۔ جو فیڈریشن کے حقیقی منیجروں  کے لئے چیلینج ہے کہ وہ اپنی ان پالیسیوں پر نظر ثنی کریں جو وہ گذشتہ 65 سال سے چلا رہے تھے۔ 
 سندھ میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کی قوم پرست جماعت جسقم کی اپیل پر چار لاکھ افراد نے23مارچ کو کراچی کی سڑکوں پر مارچ کیا۔اور 23 مارچ1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور کو قرارداد منظور کی تھی کس میں مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس قرارداد کو خداحافظ کہا۔
تعجب ہے کہ قومی  ہونے کی دعویدار میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اس  بڑی سیاسی سرگرمی کو اہمیت نہیں دی نہ کوریج میں اور نہ ہی بعد میں اس کوزیر بحث نہیں لایا گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔سندھ کے لوگوں کے اس بھرپور اظہار کے بعد پیپلز پارٹی کے لیے بھی راہ نکل آئی ہے کہ اگر وہ کچھ کرنا چاہتی ہے مگر کسی اتحادی فریق یا بعض دیگر حقوں کی جانب سے اگر کوئی رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی تو وہ رکاوٹ اب دور ہو چکی ہے۔ اور کچھ کرنے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔
قوم پرستوں اور عوام کے درمیاں اعتماد کی کمی ہے۔ اگر یہ کمی کسی طرح سے پوری ہو جائے تو صورتحال بہت بدل سکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment