Thursday, 5 March 2020

سندھ، پیپلز پارٹی اور نواز شریف 2012-4-26

Thu, Apr 26, 2012 at 10:55 AM
سندھ، پیپلز پارٹی اور نواز شریف  
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔۔۔ سہیل سانگی 
ملک میں سیاسی سرگرمیاں اب انتخابی سرگرمیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ہوائی جہازٹیک آف  کے وقت اڑنے کی پوزیشن لیتا ہے اور جہاز کا کپتان باضابطہ ایسا اعلان بھی کرتا ہے اور عملے کو خبردار کرتا ہے اسی طرح سیاسی پارٹیاں بھی ٹیک آف کی پوزیشن لے رہی ہیں۔ملک کے دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ جس کے گرد باقی سیاسی جماعتیں جمع ہوتی ہیں ان جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے مدنظر اپنے اپنے حلقوں خواہ ایک دوسرے کے حلقوں تک پہنچنے کیکوششیں شروع کردی ہیں۔ انہیں دوجماعتوں کو کامیاب کرانے یا ہارنے کے لیے کوششیں ہوتی ہیں اور حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں۔ 
پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین صدر آصف علی زرداری لاہور میں پارٹی کارکنوں سے اجلاس کرنے کے بعد ملتاں اور دیگر پنجاب کے بعض شہروں کا دورہ کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا زور سرائیکی بیلٹ پر ہے جبکہ نواز لیگ  اپنی سیاست پیپلز پارٹی کے روایتی گڑھ سندھ میں اتار رہی ہے۔
 سندھ پیپلز پارٹی اور نواز شریف  کی سیاست کو بڑی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم پیپلز پارٹی کی طرف سندھ کے لوگوں کا رویہ دو رخی ہے۔پیپلز پارٹی سے ان کو ناراضگی بھی ہے تو  لگاؤ بھی ہے۔1970ع کے انتخابات میں پیپلز پارٹی  پنجاب کی پارٹی کے طور پر ابھری۔ کیونکہ  یہاں اس جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔لہٰذا اس پارٹی نے آئین سازی کے وقت پنجاب کے مفادات کو بھرپور خیال رکھا۔
1979ع  میں بھٹو کی پھانسی کے بعد صورتحال کچھ تبدیل ہوئی۔پیپلز پارٹی  کو جدیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس نے سندھ کارڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔نتیجے میں وسطی پنجاب اس کے ہاتھوں سے نکل گیا۔جنرل ضیا نے سیاست میں کچھ نئے کھلاڑی پرانے سیاست کے ساتھ متعارف کرائے۔ 
مذہبی جماعتوں مسلم لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے پیپلز پارٹی کوسینٹرل پنجاب سے نکال کے باہر کیا۔وہاں  1988 کے بعد وجود میں آنے والی مسلم لیگ  نواز نے قوم پرستی بنیاد پر پنجاب کے وسطی اور پوٹوہار کے علاقوں میں اپنا گڑھ بنا لیا۔پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے میں ضیا دور کے بعد پنجاب میں خالصتا پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں بن سکی ہے۔ پیپلز پارٹی صرف سندھ اور سرائیکی بیلٹ تک محدود ہو گئی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی پارٹی سے غیر پنجابی پارٹی بن گئی۔ یہ سفر بہت  دلچسپ بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ اس کو 
سمجھے بغیر ملک کی سیاسی صف بندی کوصحیح معنوں میں سمجھا نہیں جا سکتا۔

جب پیپلز پارٹی  سندھ  کی پارٹی بن گئی تو نواز لیگ نے قوم پرستی کے نعرے جاگ پنجابی جاگ تیری پگڑی نوں لگ گیا داغ سے سیاست کا آغاز کیا۔ پارٹی کو ملک گیر  ہونے کا تاثر دینے کے لیے سندھ اور بلوچستان میں سرداروں وڈیرون کو لالچیں دیکر اپنے ساتھ ملایا۔اور مرکز کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ کرکے سندھ اور خیبر پختونخو ا میں بھی حکومتیں بنائیں۔ بلوچستان میں بھی کبھی اپنی تو کبھی مخلوط حکومت بنانے کے جتن کئے۔ 
نواز لیگ کی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک گیر پارٹی ک کے دعوؤں اور کوششوں کے باوجود نواز شریف نے مختلف مواقع پر پنجاب کی قوم پرستی کا  زبردست دفاع کیا۔پانی کا مسئلہ ہو یا این ایف سی ایوارڈ یا انتطامی یا سیاسی، نواز لیگ کی سیاست کا محور پنجاب رہا ہے۔ یہاں تک کہ سندھ اور بلوچستان میں رہنے والے آبادکاروں کو بھی اپنانے کی کوشش کی۔ تاہم صرف پنجاب اور پوٹوہار کی نشستوں کی بنیاد پریہ پارٹی ملک گیر پارٹی نہیں بن سکی ہے۔اس لیے اس پارٹی کی مجبوری ہے کہ وہ ملک گیر پارٹی کا دکھاوا دے۔اور اس مقصد ک لیے اسے دوسرے صوبوں سے مدد چاہیئے۔
 اگرچہ پیپلز پارٹی  اور نواز لیگ دونوں کو  اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد حاصل رہی ہے۔ جس کا ثبوت  باری باری  دونوں پارٹیوں کااقتدار میں آنا ہے۔ مگر دونوں پارٹیاں وہی کی ہو کے رہ گئی ہیں جہاں کی ان کی قیادت تھی۔اب نواز لیگ پنجاب کی اور پیپلز  پارٹی سندھ کی پارٹی ہے۔مگر دونوں میں بڑا فرق ہے۔ پیپلز پارٹی غیر پنجابی پارٹی ہونے کے باوجود سندھ کے اشوز  یا مفادات پر واضح نہیں ہے۔سندھ کے لوگ اسکا جھکاؤ پنجاب کی طرف محسوس کرتے ہیں اور اس قسم کی شکایت بھی کرتے ہیں۔اس کے برعکس نواز لیگ پنجاب کے مفادات پر واضح ہے۔اور ان مفادات کو تحفظ بھی کر رہی ہے۔سندھ کے لوگ نوز لیگ کی اس پالیسی میں کسی تبدیلی کی توقع بھی نہیں رکھتے۔اس لیے کئی حلقوں یہ کہا جاتا ہے کہ نواز لیگ کو پنجاب کے مفادات اتنے عزیز ہیں کہ دوسرے صوبوں کو  پانچ فیصد بھی حصہ دینے کو تیار نہیں۔ 
دونوں کا یہ خاصہ ہے کہ دونوں پارٹیاں 1973 کے آئین کو  ہی فیڈریشن کا سماجی معاہدہ سمجھتی ہیں۔اور سندھ اور بلوچستان میں 1940 کی قرارداد سے متعلق جو نئی بحث چلی ہیاس کے بارے میں دونوں کا موقف یکساں ہے
 پنجاب سے بے دخلی کے بعد پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ صرف سندھ کے ووٹوں پر مرکز میں حکومت نہیں بنا سکتی۔جبکہ مسلم لیگ سینٹرل پنجاب کے ووٹوں پر مرکز میں حکومت بنا لیتی ہے۔اس لیے پی پی پی  اب سرائیکی کارڈ کھیل رہی ہے۔پیپلز پارٹی سندھ کے مفادات کا تحفظ کئے بغیر دوسرے علاقوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے۔نواز شریف نے پنجاب کے مفادات کی خاطرچارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت مرکز میں اقتدار کو خیرباد کہا۔اور پیپلز پارٹی حکومت بنانے کے لیے راضی ہو گئی۔
نواز لیگ سمجھتی ہے کہ اس کا گڑھ پنجاب ہے اور دوسرے صوبوں سے اسے صرف مدد چاہئے۔ان صوبوں کو برائے نام کچھ دینے سے کام چل جائے گا۔پیپلز پارٹی مرکز میں حکومت سندھ کی بنیاد پر  پر کرتی ہے جسکو سندھ کے قوم پرست سندھ کی قیمت پر حکومت کرنا قرار دیتے ہیں۔ سندھ کے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آج تک جو بھی معاہدے بشمول این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم کے ہوئے ہیں وہ سب سندھ کے مفادات کے خلاف ہوئے ہیں۔بعض صورتوں میں پی پی پی 1973 کے آئین سے بھی پیچھے ہٹی ہے مگر نواز لیگ اس آئین کا تحفظ کرتے ہوئے اس آئین میں پنجاب کو حاصل برتری کو برقرار رکھا اور آگے بڑھایا۔
  صدر آصف علی زرداری  سینٹرل پنجاب اور سرائیکی بیلٹ کو حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔سینٹرل پنجاب پی پی پی کو ویسے بھی ہاتھ میں نہیں آئے گا، مگر سرائیکی کو صوبہ بنانے کا آسرا دے کر (جس کی آئین میں گنجائش نہیں) سندھ کی وحدت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔  کیونکہ اس کی وجہ سے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ جائیگا۔
 پیپلز پارٹی اور نواز شریف دونوں کے پاس سندھ کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔نواز لیگ سرائیکی صوبے کی مخالفت کر رہی ہے لہٰذا اس سے سندھ کی وحدت کو خطرہ نہیں اس کے برعکس پیپلز پارٹی کا ووٹ بنیک سندھ ہونے کے باوجود اس سے سندھ کی وحدت کو خطرہ ہے۔
 نواز لیگ کا طرز حکمرانی بہتر ہے۔ جیسا کہ میڈیا میں بھی خاصا چرچا کیا جا رہا ہے۔اور سندھ میں اس طرز حکمرانی کو بطور ماڈل پیش کیا جارہا ہے۔چونکہ وہ  پنجاب اور وفاق کی مالک ہے لہٰذا سندھ کے سیاستداں کچھ مراعات  لینے کے لیے بے چین ہیں۔پیپلز پارٹی کے ہاتھوں میں نہ پنجاب ہے اور نہ ہی مرکز، وہ ایک مہمان اداکار ہے جب تک  اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔اس لیے سندھ کی پارلیمانی سیاست کرے والی قوم پرست جماعتیں نواز لیگ سے مذاکرات کر ہی ہیں۔
 سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کو اس لیے ووٹ دیتے رہے ہیں کہ وہ اسے مرکز میں نمائندگی دلائے گی دوسرا یہ کہ بہتر حکمرانی قائم کرے گی۔
 سندھ میں پیپلز پارٹی کو جو بھی ووٹ ملتا ہے وہ قوم پرست ووٹ ہے۔ جب پنجاب لاش بھیجتا ہے اور دیگر شکایات کا موقع  پیدا کرتا ہے تو ے ردعمل میں سندھ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے۔
 یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی اس بات پر پریشان ہے کہ نواز لیگ اس کے حلقہ انتخاب میں کود پڑی ہے۔نواز شریف سندھ میں کوئی اچھی پہل نہیں کرسکی ہے۔وہ عوام کے پاس نہیں وڈیروں کے پاس گئی ہے۔ 
میاں نواز شریف کا ساتھ دینے کے لیے تیار ممتاز بھٹو کا کہنا ہے کہ 26 برس تک جدوجہد کی مگر کوئی ریسپانس نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ سندھ  کے لوگوں نے کبھی بھی قومپرستوں کو ریسپانس نہیں دیا ہے ہمیشہ وفاق پرستوں کو ووٹ دیئے ہیں۔لیاقت جتوئی، ماروی میمن اور کچھ دیگر سیاستداں نواز لیگ میں شمولیت کر رہے ہیں۔جبکہ اس کے پاس سندھ کے عوام کے لیے کوئی خاص پیکیج نہیں ہے۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر سندھ کے لوگ انہیں اسی طرح سے ووٹ دیں جس طرح پنجاب نے سندھ ذوالفقار علی بھٹو کو دیئے تھے تو وہ سندھ کے مفادات کا پابند ہو جائے گا۔
 سندھ آج کل عجیب موڑ سے گذر رہا ہے۔ بشیر قریشی کی موت کی تحقیقات سے متعلق خالی بیان سندھ کے لوگوں کے مرہم نہیں رکھ سکا ہے۔سندھ ر بھرپو  ر یڈیکلائیزیشن کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ 
جہاں پارلیمانی سیاست بلوچستان کی طرح پس منظر میں چلے جانے کا خدشہ ہے۔ممکن ہے کہ سندھ اور بلوچستان آئندہ انتخابات میں غیر متعلق بنے رہیں۔ اسکا فائدہ شاید اقتداری سیاست کرنے والوں کو ملے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اب شاید سندھ میں صرف پیپلز پارٹی ہی واحد فیکٹر نہ ہو۔کیونکہ جسقم بھی میدان میں موجود ہوگی۔
نواز شریف قوم پرستوں سے بات چیت میں تو مصروف ہے مگر وہ سندھ کو کیا دے سکتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔وہ کچھ قوم پرست سیاستدانوں کو تو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں مگر قوم پرست سیاست کو اپنے ساتھ لے لے یہ خاصا ناممکن لگتا ہے۔سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا تعین آئندہ چند ماہ میں سندھ میں صورتحال میں تبدیلی اور قوم پرستوں خاص طور پر بشیر قیریشی کی جسقم کی حکمت عملی پر ہے۔

No comments:

Post a Comment