Thu, May 17, 2012 at 9:20 AM
سیاست میں حرف آخر کیوں نہیں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی کالم
سب کچھ بدل گیا ہے۔ سیاست کے معیار، اس کے قوائد وضوابط یہاں تک کہ مقاصد بھی۔ پہلے سیاست عوام کی خدمت، لوگوں کے حقوق کے لیے کی جاتی تھی۔ مگر سیاست ایک پیشہ ایک کاروبار بن گئی ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی کاروبار نہیں۔ کم از کم پاکستان اور بعض دیکر ترقی پذیر ممالک پر یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ جہاں برسوں بعد جمہوریت بھی ایک جھلک ہی دکھلا پاتی ہے۔لہٰذا یہاں پر جمہوری اقدار بھی کمزور ہیں اور وہ نہ سیاست کا حصہ ہیں اور نہ ہی ایمان کا حصہ۔ ایسے ممالک میں پارٹی بدلنا چائے کے کپ پینے سے زیادہ اہم نہیں۔
نظریے اور نظریاتی سیاست ختم ہو گئی۔پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں کوئی فرق نہیں۔ اکثر اوقات عام آدمی کو مذہبی جماعتوں کے درمیان فرق ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیاں اور بایاں بازو اپنی اپنی شناخت کھو بیٹھا ہے۔ ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ یہ مظہر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کا ہے۔مطلب دیوار کیا گری میرے گھر کی، راستے بنا لیے لوگوں نے۔
کبھی وہ بھی وقت تھا جب سیاست میں اصول ہوتے تھے لوگ سیاست اور اصولوں کے لیے بھگت سنگھ، ہیموں کالانی، حسن ناصر، نذیر عباسی، جیولس فیوچک کی طرح اپنی جانیوں کا نذرانہ دیتے تھے۔اب ایسا کچھ نہیں۔ ہر جگہ پر بالکل مخصوص کاروباری ذہنیت کے ساتھ سوچا جاتا ہے کہ ایسا کچھ کرنے میں دو پیسے کا فائدہ ہے یا نہیں۔ یہی کسوٹی ہے سیاست میں کچھ کرنے یا نہ کرنے کی۔بقول شخصے آج کنزیومر سوسائٹی اور کمرشل ازم کے دور میں میں ہر چیز کمرشلائز ہو گئی ہے۔ آئے دن یہ خبریں بھی نظر سے گذرتی ہیں جس میں ہمارے سیاستدانوں کے اثاثے بتائے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس ترقی پذیر ملک کے غریب عوام کے سیاسی رہنما کنتے امیر ہیں بلکہ امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں۔یہ معاملہ صرف سیاسدانوں تک ہی محدود نہیں جو بھی حکومت میں آتا ہے خواہ وہ سول بیروکریٹ ہو، ٹیکنوکریٹ ہو یا عسکری شعبے سے تعلق رکھتا ہو، بس ایک بار حکومت آئے اس کے بعد اس سے نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ حساب مانگنے والا۔
وہ بھی وقت تھا جب لوگ حکومت سے ٹکر کھاتے تھے۔ نیلسن منڈیلا، جی ایم سید، جام ساقی وغیرہ نوجوانوں کے ہیرو سمجھے جاتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں ے اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں گزارے اور اپنے اصولوں اور سیاست سے نہیں ہٹے۔ان لوگوں نے زندگی کا بیشتر حصہاجتماعی مفادات کے لیے قید میں گزارا۔اب لوگ حکومت سے براہ راست ٹکر نہیں کھاتے۔وہ بیچ بچاؤ کرکے میانہ روی کی سیاست کرتے ہیں اور رویہ بھی ایسا ہی رکھتے ہیں۔
کنفیڈریشن کا نعرہ لگانے والے اور 1940 کی قرارداد سے کم کوئی بات نہ ماننے والے ممتاز بھٹو مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو سکتے ہیں اور نواز شریف انکو قبول بھی کر لیتے ہیں۔
ذاتی مفادت کے لیے سیاست کے معیار بدل دیئے گئے ہیں۔ ہر ایک اپنے ذاتی معاملے کو اولیت اور ترجیح دے رہا ہے۔اس مکہ مکا کے دھندے میں ہر ایک کو اپنا حصہ مل رہا ہے۔وزارت، سنیٹ۔ صوبائی یا قومی اسمبلی کی نشست۔ کچھ نہ کچھ مل رہا ہے۔جس کی جو حیثیت ہے۔ ضلع والے کو ضلع، تحصیل والے کو تحصیل، تھانے والے کو تھانیدار اور اسکول ٹیچر کو ٹیچری۔ مطلب جو جس کی حیثیت ہے اس کو اس کے مطابق مل رہا ہے۔
چونکہ آج کے دور میں سب کام اکیلے نہیں ہو سکتے اور اکیلے ذاتی مفادات کا تحفظ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ذاتی مفادات کے ساتھ ساتھ گروہی مفادات بھی پروان چڑھے ہیں۔پختونوں کو اپنے صوبے کا نام خیبر پختونخوا چاہئے تھا، وہ ان کو مل گیا۔پنجاب کو بعض سوشل سروسز چاہئیں تھیں ان کو شہباز شریف مل گیا۔ سندھ والوں کو دین ایمان کی سلامتی چاہئے تھے تو انہیں سائیں قائم علی شاہ مل گئے۔ بلوچستان ولاوں کو کچھ دینا ہی نہیں تھا تو رئیسانی صاحب مل گئے۔ جو کہتے رہتے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی۔
وہی معاملہ ایم کیو ایم کا ہے۔ جس کی سیاسی تشریح اور توضیح کی جائے تو اس کی سیاست گروہی سیاست کے خانے میں فٹ ہوگی۔ اس پارٹی کے ساتھ جس طرح سے حکمران جماعت پیپلز پارٹی چل رہی ہے وہ سدا ناراض محبوبہ کی طرح ہے جو چوبیس میں سے چھتیس گھنٹے ناراض رہتی ہے۔ لہٰذا یہ روٹھنا اور منانا نت نئی فرمائشوں کے ساتھ عمل جاریہ ہے۔ اور یہاں پیپلز پارٹی کے اصول اس کے ووٹ بینک کے مفادات اور حقوق وغیرہ کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ پیپلز پارٹی کم از کم سندھ کی حد تک یہی سمجھتی ہے کہ سمجھتی ہے کہ لوگوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ووٹ تو اسی کو دینگے۔ اگر اقتدار میں رہنا ہے تو کسی چھوٹی سی چیز پر بھی اس اتحادی پارٹی کی ذرا برابر بھی ناراضگی برداشت نہیں ہوتی۔
یہ گروہی سیاست کا نتیجہ ہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے دائیں مسلم لیگ (ق) ہے، بائیں ایم کیو ایم ہے اور پیچھے اے این پی ہے۔حکومت کی پشت بہت مضبوط ہے۔سندھ میں فنکشنل لیگ اور نیشنل پیپلز پارٹی ہیں۔سندھ میں عجب جمہوریت ہے جہاں غیر دوستانہ تو چھوڑیئے دوستانہ اپوزیشن بھی نہیں۔اتحادیوں کو خوش رکھنے اور گروہی مفادات کے تحفظ کے لیے وفاق میں اتنی وزارتیں بنائی گئی ہیں کہ اتنے محکمے ہی نہیں۔ اور تو اور شاید ہی وفاق ی وزراء کے نام یاد ہوں۔
اس کے باوجودیہاں کوئی کوئی ڈھنگ کی سرکارہے نہ ڈھنگ کی حکمرانی۔ عوام اس صورتحال سے نالاں ہیں۔ حکومت ایک بحران کے گڑھے سے نکلتی ہے تو دوسرے میں گرتی ہے، باقی میدان میں صرف بڑے دعوے لمبی باتیں، ناقابل عمل یقین دہانیاں اور نئے ایڈجسٹمنٹ کے لیے احتجاج اور ناراضگیاں۔
میڈیانے بھی گروہی سیاست کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ٹی وی چینلز کے اینکر ز سے لیکر زیر بحث آنے والے موضوعات، پروگراموں میں شرکت کرنے والے لوگ سب کے سب گروہی سیاست کے دام میں پھنسے ہوئے ہیں۔
عوام بھی توعجیب ہیں۔اس کی لمبی لمبی فرمائشیں ہیں۔وہ حکومت کی خواہشات کا خیال نہیں رکھتے پھر حکومت کیسے ان کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھے گی۔عوام روز نئے نئے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ آٹا سستا کرو، کبھی کہتے ہیں کہ روزگار دو۔ کبھی کہتے ہیں کہ بدامنی ختم کرو۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرو؟ حکمرانوں اور بیوروکریسی کو فرصت ہی نہیں کہ ایسے کاموں کے بارے میں سوچے یا کچھ کرے۔اب صورتحال یہ ہے کہ ایسی کوئی ہی شاید پارٹی ہو جو حکومت میں شامل نہ ہو۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن کی پارٹی مسلم لیگ (ن) ملک کے سب سے بڑے صوبے پر جہاں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی ہے وہاں یہ اپوزیشن کی پارٹی حکمران پارٹی ہے۔حکمرانی کر رہی ہے۔لسانی مذہبی یا کسی اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی ہر پارٹی حکومت میں شامل ہے۔اسفندیار ولی سے لیکر چوہدری برادران، فنکشنل لیگ سب حکومت میں ہیں۔پورا معاملہ فارسی کی اس کہاوت کے مطابق چل رہا ہے کہ تم مجھے حاجی کہو میں تہمیں قاضی کوں، لوگوں کے درمیان ہم دونوں معزز کہلائیں گے۔
چہدری نثار کہتے تھے کہ جنرل پاشا کی رٹائرمنٹ کے بعد عمران خان سیاسی یتیم ہو گئے ہیں۔ بظاہر یہ بات ٹھیک بھی لگتی ہے۔ پہلے ایک لہر اٹھی تھی جس میں سیاستدان ان کی پارٹی میں شامل ہو رہے تھے مگر اچانک یہ سلسلہ رک گیا۔ اب میاں نواز شریف کی باری ہے۔سیاستداں اب اس کی طرف آرہے ہیں۔چند دنوں کے انتظار کے بعد عمران خان پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔عمران خان کی سونامی اور پنجاب کے شیر کو قابو کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔سیاست میں معیار اتنے بدل گئے ہیں کہ کوئی بھی چیز کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment