Showing posts with label Politics. Show all posts
Showing posts with label Politics. Show all posts

Tuesday, 10 March 2020

سیاست یا فیملی بزنیس - Apr 8, 2013

Mon, Apr 8, 2013 at 5:11 PM
سیاست یا فیملی بزنیس
 سہیل سانگی
جس طرح سے ایوب خان کے زمانے میں ملکی معیشت پر بائیس خاندان  مسلط تھے، اسی طرح سندھ میں ڈیڑھ درجن خاندان سیاست پر مسلط ہیں۔ یہ خاندان  صرف معاشی یا سماجی طور پر ہی وڈیرے نہیں بلکہ سیاسی وڈیرے بھی ہیں۔ان خاندانوں کی سیاست پر اجارہ داری گزشتہ دو تین پشتوں سے چلی آرہی ہے اور اب ان کی اجارہ داری مسلمہ ہے کہ ان کی موجودگی میں عام یا درمیانہ طبقے کا کوئی آدمی انتخابات  جیت نہیں سکتا۔یہ صورتحال صرف سندھ تک محدود نہیں۔ اور صوبوں میں بھی  خاندانی سیاست موجود ہے۔
سیاسی جماعتیں امیدوار نامزد کرتے وقت یہ دیکھتی ہیں کہ کون بااثر ہے۔ اور یہ بااثر ملک کے دوسرے حصوں کی طرح یہاں بھی  وڈیرہ یا جاگیردار ہی نکلتا ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی ہر الیکشن میں ایک دو  کارکن طبقے یادرمیانہ طبقے کے لوگوں کو ٹکٹ دیتی تھی۔ مگر اب یہ دروازہ بھی بند ہوچکاہے۔ سیاست جاگیر بن گئی ہے جو ایک باپ سے بیٹے کو منتقل ہویی ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ دو تین پشتوں سے چل رہا ہے۔ 
 بعض اضلاع میں ایک یا دو خاندانوں کا تسلط ہے۔اکثر خاندان ایک ہی پارٹی سے امیدوار ہیں۔بلکہ بعض خاندانوں نے اپنی سیاسی جماعتیں بنا رکھی ہیں۔ نوشہروفیروز کے جتوئی اور تھر کے ارباب خاندان نے اپنی پارٹیاں بنائی ہوئی ہیں۔ 

صدرآصف علی زرداری کی دو بہنیں فریال تالپورلاڑکانہ سے اورعذرا پیچوہونوابشاہ سے انتخاب  لڑرہی ہیں۔ فریال تالپور خواتین کی مخصوص نشست سے بھی امیدوار ہیں۔یہ دونوں خواتین گزشتہ اسمبلی کی بھی رکن تھیں۔ فریال تالپور کے شوہر میر منورعلی تالپور میرپورخاص سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے کے امیدوار ہیں۔ میر منور تالپوربھی رکن اسمبلی رہے ہیں۔اس کے علاوہ نوابشاہ میں سید اور انڑ خاندان بھی خاندانی سیاست کرتے رہے ہیں۔
مخدوم اور جاموٹ خاندان خاندان مٹیاری پرچھایا ہوا ہے، جہاں مخدوم امین فہیم، ان کے ایک بھائی مخدوم رفیق الزمان اور بیٹے مخدوم جمیل الزمان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر امیدور ہیں۔ جبکہ مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم نعمت تھرپارکر سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ مخدوم امین فہیم دو مرتبہ وزیراعظم ہوتے ہوتے رہ گئے۔ پیپلز پارٹی مخالف سیٹ اپ میں جاموٹ خاندان  کے پس نشستیں ہوتی ہیں۔
بلدیاتی انتخابات ہوں یا غیر جماعتی شیرازی خاندان ٹھٹہ میں ترپ کارڈ بناہوا ہے۔ حال ہی میں قاف لیگ سے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے اور اسی کی ٹکٹ میں کل سات میں سے  چار پراس گروپ کے امیدوار ہیں۔شیرازی خاندان سے ایاز علی شاہ شیرازی، اعجاز علی شاہ شیرازی،  ان کے بیٹے شاہ حسین شاہ شیرازی، انتخابات لڑ رہے ہیں۔ 
سید اور جتوئی گروپ نوشہروفیروز کی سیاست پرحاوی ہیں۔ این پی پی کے سربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی، ان کے بھائی مسرور جتوئی، اور عارف جتوئی نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں ظفر علی شاہ گروپ ہے۔
خیرپور میں  پاگارا، سید، وسان اور پیر خاندان حاوی ہیں۔فنکشنل لیگ کے رہنما پیر صدرالدین شاہ، اور ان کے بھتیجے پیر راشد شاہ ف، پیر محمد اسماعیل شاہ، پیر عمر مصطفےٰ شاہ، نکشنل لیگ کے امیدوار ہیں۔رانیپور کے پیروں میں سے پیر فضل شاہ اور پیر نیاز حسین شاہ امیدوار ہیں۔خیرپور کی تحصیل ٹھری میرواہ سے آج تک  مقامی آبادی کو پنا امیدوار کھڑا کرنا نصیب نہیں ہوا، کیونکہ امپورٹیڈ بااثر خاندان حاوی رہے ہیں۔اس ضلع سے سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ،  پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ان کی بیٹی نفیسہ شاہ خواتین کی مخصوص نشست سے پیپلز پارٹی کی امیدوار ہیں۔ قائم علی شاہ کے بیٹے اسد شاہ بھی رکن اسمبلی رہے ہیں۔ خیرپور سے ہی  وسان فیملی سے منظور وسان اور نواب وسان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ 

 لیاقت جتوئی، ان کے بھائی صداقت جتوئی اور بیٹے کریم جتوئی دادو میں امیدوار ہیں۔لیاقت جتوئی مشرف دور میں قاف لیگ کے ساتھ تھے اور وفاقی وزیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال نون لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔لیاقت جتوئی کے والد عبدلاحمید جوتئی، ان کے بھائی اعجاز جوتئی بھی رکن اسمبلی رہے ہیں۔
یوسف تالپور اور ان کے بیٹے تیمور تالپور عمرکوٹ سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے امیدوار ہیں۔  ان کے دوسرے بیٹے یونس تالپور فنکشنل لیگ کی ٹکٹ پر انتخاب لڑرہے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر علی مردان شاہ اور انکے بھانجے سردار شاہ عمرکوٹ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ 
گھوٹکی سے سابق وزیراعلیٰ سندھ سردار علی محمد مہر، ان کے بھائی علی نواز عرف راجا مہر امیدوار ہیں۔ جام سیف اللہ دھاریجو اور ان کے بھائی جام اکرام اللہ دھاریجو نے گھوٹکی سے ہی کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں۔ اسی ضلع سے لنڈ برادران بھی میدان میں ہیں۔ دھاریجو برادران کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کے دوران رد ہوئے ہیں اور وہ اپیل میں جا رہے ہیں۔ 
تھرپارکر میں ارباب خاندان سے ارباب غلام رحیم، ارباب انور،  ارباب توگاچی، ارباب نعمت اللہ امیدوار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنی پارٹی بنائی ہے۔ تھرپارکر  میں بااثر امپورٹیڈ امیدوار ہی جیتتے رہے ہیں۔
 قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا اور ان کے بیٹے حسنین مرزا بدین  سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں۔مرزا فیملی کے مقابلے میں سید علی بخش شاہ عرف پپو شاہ اور ان کی بیگم یاسمین شاہ امیدوار ہیں۔ 
سکھر سے سابق وفاقی وزیر خورشید شاہ  اور ان کے بھتیجے سید اویس شاہ امیدوار ہیں۔خورشید شاہ اپنے خاندان کے سیاست میں بانیکار ہیں۔
لاڑکانہ قمبر کے بگھیو خاندان سے حزب اللہ بگھیو اور ان کے بھائی نذیر احمد بگھیو، چانڈیو برادران میں سے  نواب سردار خان چانڈیو،  اور انکے بھائی برہان خان چانڈیو  پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔  شہداد کوٹ سے سابق وزیر خوارک میر نادر علی مگسی اوراور انکے بھائی میر عامر علی مگسی میدان میں ہیں۔ گورنربلوچستان ذوالفقار مگسی اس  فیملی سے ہیں۔  ٹنڈوالہیار سے مگسی خاندان ہے۔ سابق ضلع ناظمہ راحیلہ مگسی، ان کے بھائی عرفان گل مگسی نواز لیگ کی ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔جبکہ صوبائی کی نشست پر ادیبہ مگسی کے بجائے اس مرتبہ  اس نشست  پرراحیلہ کے بیٹے محسن کو کھڑا کیا گیا ہے۔
جیکب آباد میں بابل خان جکھرانی اور اعجاز جکھرانی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ سابق وفاقی وزیر میر ہزار خان  بجارانی اور ان کے بیٹے شبیر خان بجارانی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ میر حسن کھوسو اور شفیق کھوسو ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔ دو بھائی سہراب خان سرکی اور ذوالفقار سرکی بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ 
سانگھڑ میں جونیجو خاندان سے روشن علی جونیجو، اور محمد خان جونیجو امیدوار ہیں۔  جبکہ شازیہ مری کے مقابلے میں ان کے بھائی نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔
جامشورو میں ملک اسد خاندان اور  ٹنڈومحمد خان میں سید اور سرہندی خاندان سیاست پر حاوی رہے ہیں۔موجودہ انتخابات میں ان خاندانوں کی جانب سے ایک ایک امیدوار میدان میں ہے۔

 اس کے علاوہ ایک دوسری بھی لسٹ ہے۔ جس کے مطابق  پرانے امیدوار میدان میں یا پھر ان کے بھائی اور بیٹوں کو باری دی گئی ہے۔  
ہمارا انتخابی نظام کلوزڈ کلب کی مانند ہے جس میں کوئی نیا بندہ داخل نہیں ہوسکتا۔پارلیمانی سیاس میں داخلا  فیملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
پاکستان کا سیاسی نظام اب ایسا ہوچکا ہے کہ آپ ووٹ دیتے رہیں کبھی آپ کو بھی کوئی ووٹ دے اس کی باری نہیں آئے گی۔پارٹیاں اور سیاست ایک فیملی بزنیس بن گیا ہے۔

Thursday, 5 March 2020

سیاست میں حرف آخر کیوں نہیں؟ 2012-5-17

Thu, May 17, 2012 at 9:20 AM
سیاست میں حرف آخر کیوں نہیں؟
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی  کالم  
سب کچھ بدل گیا ہے۔ سیاست کے معیار، اس کے قوائد وضوابط یہاں تک کہ مقاصد بھی۔ پہلے سیاست عوام کی خدمت، لوگوں کے حقوق کے لیے کی جاتی تھی۔ مگر سیاست ایک پیشہ ایک کاروبار بن گئی ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی کاروبار نہیں۔ کم از کم پاکستان اور بعض دیکر ترقی پذیر ممالک پر یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ جہاں برسوں بعد جمہوریت بھی ایک جھلک ہی دکھلا پاتی ہے۔لہٰذا یہاں پر جمہوری اقدار بھی کمزور ہیں اور وہ نہ سیاست کا حصہ ہیں اور نہ ہی ایمان کا حصہ۔ ایسے ممالک میں پارٹی بدلنا چائے کے کپ پینے سے زیادہ اہم نہیں۔
نظریے اور نظریاتی سیاست ختم ہو گئی۔پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں کوئی فرق نہیں۔ اکثر اوقات  عام آدمی کو مذہبی جماعتوں کے درمیان فرق ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیاں اور بایاں بازو اپنی اپنی شناخت کھو بیٹھا ہے۔ ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ یہ مظہر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کا ہے۔مطلب دیوار کیا گری میرے گھر کی، راستے بنا لیے لوگوں نے۔ 
 کبھی وہ بھی وقت تھا جب سیاست میں اصول ہوتے تھے لوگ سیاست اور اصولوں کے لیے بھگت سنگھ، ہیموں کالانی، حسن ناصر، نذیر عباسی، جیولس فیوچک کی طرح اپنی جانیوں کا نذرانہ دیتے تھے۔اب ایسا کچھ نہیں۔ ہر جگہ پر بالکل مخصوص کاروباری ذہنیت کے ساتھ سوچا جاتا ہے کہ ایسا کچھ کرنے میں دو پیسے کا فائدہ ہے یا نہیں۔ یہی کسوٹی ہے سیاست میں کچھ کرنے یا نہ کرنے کی۔بقول شخصے آج کنزیومر سوسائٹی اور کمرشل ازم کے دور میں میں ہر چیز کمرشلائز ہو گئی ہے۔ آئے دن یہ خبریں بھی نظر سے گذرتی ہیں جس میں ہمارے سیاستدانوں کے اثاثے بتائے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس ترقی پذیر ملک  کے غریب عوام کے سیاسی رہنما کنتے امیر ہیں بلکہ امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں۔یہ معاملہ صرف سیاسدانوں تک ہی محدود نہیں جو بھی حکومت میں آتا ہے خواہ وہ سول بیروکریٹ ہو، ٹیکنوکریٹ ہو یا عسکری شعبے سے تعلق رکھتا ہو، بس ایک بار حکومت آئے اس کے بعد اس سے نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ حساب مانگنے والا۔
 وہ بھی وقت تھا جب لوگ حکومت سے ٹکر کھاتے تھے۔ نیلسن منڈیلا، جی ایم سید، جام ساقی وغیرہ نوجوانوں کے ہیرو سمجھے جاتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں ے اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں گزارے اور اپنے اصولوں اور سیاست سے نہیں ہٹے۔ان لوگوں نے زندگی کا بیشتر حصہاجتماعی مفادات کے لیے قید میں گزارا۔اب لوگ حکومت سے براہ راست ٹکر نہیں کھاتے۔وہ بیچ بچاؤ کرکے میانہ روی کی سیاست کرتے ہیں اور رویہ بھی ایسا ہی رکھتے  ہیں۔
 کنفیڈریشن کا نعرہ لگانے والے اور 1940 کی قرارداد سے کم کوئی بات نہ ماننے والے ممتاز بھٹو مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو سکتے ہیں اور نواز شریف انکو قبول بھی کر لیتے ہیں۔
 ذاتی مفادت کے لیے سیاست کے معیار بدل دیئے گئے ہیں۔ ہر ایک اپنے ذاتی معاملے کو اولیت اور ترجیح دے رہا ہے۔اس مکہ مکا کے دھندے میں ہر ایک کو اپنا حصہ مل رہا ہے۔وزارت، سنیٹ۔ صوبائی یا قومی اسمبلی کی نشست۔ کچھ نہ کچھ مل رہا ہے۔جس کی جو حیثیت ہے۔ ضلع والے کو ضلع، تحصیل والے کو تحصیل، تھانے والے کو تھانیدار اور اسکول ٹیچر کو ٹیچری۔ مطلب جو جس کی حیثیت ہے اس کو اس کے مطابق مل رہا ہے۔
چونکہ آج کے دور میں سب کام اکیلے نہیں ہو سکتے اور اکیلے ذاتی مفادات کا تحفظ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ذاتی مفادات کے ساتھ ساتھ گروہی مفادات بھی پروان چڑھے ہیں۔پختونوں کو اپنے صوبے کا نام خیبر پختونخوا چاہئے تھا، وہ ان کو مل گیا۔پنجاب کو بعض سوشل سروسز چاہئیں تھیں ان کو شہباز شریف مل گیا۔ سندھ والوں کو دین ایمان کی سلامتی چاہئے تھے تو انہیں سائیں قائم علی شاہ مل گئے۔ بلوچستان ولاوں کو کچھ دینا ہی نہیں تھا تو رئیسانی صاحب مل گئے۔ جو کہتے رہتے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی۔
وہی معاملہ ایم کیو ایم کا ہے۔ جس کی سیاسی تشریح اور توضیح کی جائے تو اس کی سیاست گروہی سیاست کے خانے میں فٹ ہوگی۔ اس پارٹی کے ساتھ جس طرح سے حکمران جماعت پیپلز پارٹی چل رہی ہے وہ سدا ناراض محبوبہ کی طرح ہے جو چوبیس میں سے چھتیس گھنٹے ناراض رہتی ہے۔ لہٰذا یہ روٹھنا اور منانا نت نئی فرمائشوں کے ساتھ عمل جاریہ ہے۔ اور یہاں پیپلز پارٹی کے اصول اس کے ووٹ بینک کے مفادات اور حقوق  وغیرہ کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ پیپلز پارٹی کم از کم سندھ کی حد تک  یہی سمجھتی ہے کہ سمجھتی ہے کہ لوگوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ووٹ تو اسی کو دینگے۔ اگر اقتدار میں رہنا ہے تو کسی چھوٹی سی چیز پر بھی اس اتحادی پارٹی کی ذرا برابر بھی ناراضگی برداشت نہیں ہوتی۔
 یہ گروہی سیاست کا نتیجہ ہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے دائیں مسلم لیگ (ق) ہے،  بائیں  ایم کیو ایم ہے اور پیچھے اے این پی ہے۔حکومت کی پشت بہت مضبوط ہے۔سندھ میں فنکشنل لیگ اور نیشنل پیپلز پارٹی ہیں۔سندھ میں عجب جمہوریت ہے جہاں غیر دوستانہ تو چھوڑیئے دوستانہ اپوزیشن بھی نہیں۔اتحادیوں کو خوش رکھنے اور گروہی مفادات  کے تحفظ کے لیے وفاق میں اتنی وزارتیں بنائی گئی ہیں کہ اتنے محکمے ہی نہیں۔ اور تو اور شاید ہی وفاق ی وزراء کے نام یاد ہوں۔
اس کے باوجودیہاں کوئی کوئی ڈھنگ کی سرکارہے نہ ڈھنگ کی حکمرانی۔ عوام اس صورتحال سے نالاں ہیں۔ حکومت ایک بحران کے گڑھے سے نکلتی ہے تو دوسرے میں گرتی ہے، باقی میدان میں صرف بڑے دعوے لمبی باتیں، ناقابل عمل یقین دہانیاں اور  نئے ایڈجسٹمنٹ کے لیے احتجاج اور ناراضگیاں۔
 میڈیانے بھی گروہی سیاست کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ٹی وی چینلز کے اینکر ز سے لیکر  زیر بحث آنے والے موضوعات، پروگراموں میں شرکت کرنے والے لوگ سب کے سب گروہی سیاست کے دام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 
 عوام بھی توعجیب ہیں۔اس کی لمبی لمبی فرمائشیں ہیں۔وہ حکومت کی خواہشات کا خیال نہیں رکھتے پھر حکومت کیسے ان کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھے گی۔عوام روز نئے نئے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ آٹا سستا کرو، کبھی کہتے ہیں کہ روزگار دو۔ کبھی کہتے ہیں کہ بدامنی ختم کرو۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرو؟ حکمرانوں اور بیوروکریسی کو فرصت ہی نہیں کہ ایسے کاموں کے بارے میں سوچے یا کچھ کرے۔اب صورتحال یہ ہے کہ ایسی کوئی  ہی شاید پارٹی ہو جو حکومت میں شامل نہ ہو۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن کی پارٹی مسلم لیگ (ن) ملک کے سب سے بڑے صوبے پر جہاں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی ہے  وہاں یہ اپوزیشن کی پارٹی حکمران پارٹی ہے۔حکمرانی کر رہی ہے۔لسانی مذہبی یا کسی اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی ہر پارٹی حکومت میں شامل ہے۔اسفندیار ولی سے لیکر چوہدری برادران،  فنکشنل لیگ سب حکومت میں ہیں۔پورا معاملہ فارسی کی اس کہاوت کے مطابق چل رہا ہے کہ تم مجھے حاجی کہو میں تہمیں قاضی کوں، لوگوں کے درمیان ہم دونوں معزز کہلائیں گے۔
 چہدری نثار کہتے تھے کہ جنرل پاشا کی رٹائرمنٹ کے بعد عمران خان سیاسی یتیم ہو گئے ہیں۔ بظاہر یہ بات ٹھیک بھی لگتی ہے۔ پہلے ایک لہر اٹھی تھی جس میں سیاستدان  ان کی پارٹی میں شامل ہو رہے تھے  مگر اچانک یہ سلسلہ رک گیا۔ اب میاں نواز شریف کی باری ہے۔سیاستداں اب اس کی طرف آرہے ہیں۔چند دنوں کے انتظار کے بعد عمران خان پھر  سرگرم ہو گئے ہیں۔عمران خان کی سونامی اور پنجاب کے شیر کو قابو کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
 سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔سیاست میں معیار اتنے بدل گئے ہیں کہ کوئی بھی چیز کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔