Showing posts with label Liyari. Show all posts
Showing posts with label Liyari. Show all posts

Wednesday, 11 March 2020

لیاری سے انتقال آبادی - Jul 14, 2013

Sun, Jul 14, 2013 at 11:19 PM
لیاری  سے انتقال آبادی
سہیل سانگی
پورے سندھ کونقل مکانی  درپیش ہے۔ تھر میں جب قحط پڑتا ہے تو چالیس فیصد سے زیادہ آبادی نقل مکانی کرتی ہے۔ گزشتہ دو سال کی بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے ساٹھ فیصد سے زائد آبادی کو نقل مکانی  کرنی پڑی۔ ان میں سے ہزاروں افراد آج تک  اپنے آبائی گاؤں نہیں لوٹ سکے ہیں۔ اب میٹروپولیٹن شہر کراچی میں کی قدیم بستی لیاری سے کچھی برادری کے ہزاروں افراد کو گینگ وار اور لاقانونیت سے تنگ آکر اپنے گھر چھوڑ کر ٹھٹہ، بدین، ٹنڈومحمد خان، جھڈو وغیرہ میں پناہ حاصل کرنی پڑی۔ عجب کہانی ہے۔ کراچی دنیا بھر کے بھگوڑوں اور بھٹکتے لوگوں اپنے اندر پناہ دیتا ہے۔ مگر آج اس شہر کے قدیمی باشندے زیر عتاب ہیں۔

سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کے گڑھ اس علاقے کی یہ بھی پہچان رہی ہے کہ نصف صدی تک قومی حقوق اور جمہوری تحریک میں بھرپور کردار ادا کرتا رہا  اور اسی بستی نے کئی نامور ترقی پسند دانشور اور سیاسی کارکن پیدا کئے۔ مگر اب لیاری کا پروفائل بدل رہا ہے۔جرائم، مار  ا ماری،  اور عدم برداشت  اسکی پہچان بن گئی ہے۔اب تو اس میں نقل مکانی کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔پیپلزپارٹی کی حکومت اس لیاری کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو سمجھنے اور اس کا احساس کرنے میں ناکام رہی۔کوئی سیاسی اور انتظامی اقدامات نہیں کئے گئے۔اب یہاں گینگ اور اور لاقانونیت کی وجہ سے لوگ خود کو سیاسی اور سماجی طور پر غیر محفوظ اور لاوارث سمجھنے لگے ہیں۔
لیاری بلوچوں، کچھیوں اور سندھیوں کی ملی جلی آبادی کا علاقہ رہا ہے جہاں بلوچوں کی اکثریت ہے۔مگر ان  کے درمیان نسلی یا لسانی ٹکراؤ نہیں ہوا۔ کبھی اگر کوئی چھوٹا موٹا ذاتی یا گروہی ٹکراؤ ہوا بھی توبرادریوں کے معززین  مل بیٹھ کر اسکو حل کرتے تھے اور متحارب گروپ واپس شیر وشکر ہوجاتے تھے۔ مگر  لاقانونیت  اور حکومت کی نااہلی ہی نہیں بلکہ کوتاہی اور ناکامی نے اس بستی کو مافیاؤں کی گود میں پھینک دیا ہے۔اب روایتی بندھن ٹوٹ چکے ہیں۔ جھگڑوں اور ٹکراؤ کو حل کرنے کے برادرانہ طریقے ختم ہو چکے ہیں۔ 

تاریخی طور پر سندھ اور کچھ کے علاقے کے  قدیمی تعلقات رہے ہیں۔ اور وہاں کی آبادی سندھ میں آکر آبادہوتی رہی ہے۔ کچھیوں کی بڑی آبادی1850 سے1940 کے درمیان سندھ میں آئی۔  اور سندھ کے مختلف شہروں میں آباد ہوئی۔ کچھی برادری کاایک حصہ قیام پاکستان کے بعد بھی آیا۔ان کی زبان اور ثقافت وہی ہے جو سندھ کی ہے۔آج بھی انڈیا کے کچھ بھوج کے علاقے  کے لوک گیت سندھی میں ہی ہیں۔کچھی برادری کی ذاتیں ہنگورو، سومرو، نہڑے، راہموں، کمبھر، وغیرہ ہیں۔ یہی سندھ کے زیرین علاقے  میں بھی ہیں۔ کراچی میں آباد کچھیوں کو شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری، سندھی لوک ادب اور کہانیاں اسی طرح یاد ہیں جس طرح سندھ کے کسی آدمی کو ہوسکتی ہیں۔ استاد محمد ابراہیم، عبداللہ کچھی اور دیگر گائکار سندھی کے بڑے فنکار بھی اسی کمیونٹی سے پیدا ہوئے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ادبی  خواہ سرکاری حلقوں نے کراچی میں رہنے والی اس لسانی آبادی کو سندھی ثقافت کا حصہ بنانے کی کئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔یہی صورتحال سیاسی، سماجی حوالے سے بھی رہی۔ 

 اس کے علاوہ کراچی میں رہائش، وہاں مارکیٹ کی زبان،  اور وہاں کے رہن سہن نے کچھی برادری کو سندھی ثقافت کا حصہ بننے میں رکاوٹ پیدا کردی۔مہاجر غیر مہاجر کی لسانی سیاست اور لیاری میں لاقانونیت  نے انکو مجبور کردیا کہ وہ اپنی الگ شناخت کرائیں۔کراچی جہاں فتح کرنے اور کنٹرول کرنے کی جو مسلح جنگ چل رہی تھی کچھی برادری بھی اس جنگ میں چلی گئی۔ 

کچھی برادری کی تنہائی نے کراچی میں ایک اور لسانی گروہ کو ابھارا۔ورنہ یہ گروہ سندھ اور بلوچ آبادی کا حصہ تھا۔شمالی سندھ قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے بٹا ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جو سیاسی، سماجی، انتظامی اور ترقی کے حوالے سے پیچیدگیوں سے ہرکوئی بخوبی واقف ہے۔مگر کراچی جو اس سے پہلے لسانی کی سیاست کی وجہ سے مہاجر اور غیر مہاجربنیاد پر بٹا ہوا تھا مگر بلوچ سندھی اور کچھی ایک مشترکہ فریق کے طور پر تھے۔ان میں تضاد پیدا ہوگیا ہے۔یہ تضاد کراچی کے پرانے باشندوں اور مجموعی طور پر سندھ  کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ یہ ایک اور بڑی تقسیم ہے،جو پرانے باشندوں کی صفوں میں ہورہی ہے۔لیاری کو سیاسی اور انتظامی طور سنبھالینے میں ناکامی کی وجہ ایم کیو ایم نے اپنی جگہ پیدا کی۔ اطلاعات کے مطابق کچھی برادری کے ایک حصہ کی ایم کیو ایم  سے قربت ہوگئی ہے۔

دراصل کراچی کے میٹروپولیٹن شہر سے ایک ہی لسانی گروہ  کے ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی حکومت کی ناکامی کا ثبوت تو ہے ہی مگر اسکے ساتھ ایک انسانی المیہ پیدا ہوگیا ہے۔

صوبائی حکومت اور پیپلز پارٹی جس کی حکومت ہے اور لیاری جس کا حلقہ انتخاب بھی ہے اس نے اس ضمن میں کوئی موثر اقدامات نہیں کئے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ حکومت اپنے سیاسی خواہ انتظامی و انٹیلیجنس نیٹ ورک کے باوجود اس امر سے بے خبر رہی کہ ہزاروں افراد ایک ہی علاقے سے ایک ہی کمیونٹی کے نقل مکانی کرنے والے ہیں۔پشیگی معلومات نہ رکھنا حکومت کی نااہلی پر ایک اور ٹھپہ ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایسے حالات کے باوجودپیپلز پارٹی کو اپنی صفوں میں نہ تین سال قبل اور نہ اب کوئی ایک شخص ایسا ملا جس کو محکمہ داخلہ کا قلمدان دیا جاسکے۔ 

 حال ہی میں جب نقل مکانی ہوئی توایسے افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا اس معاملے نہ تعلق ہے، نہ مہارت اور ویزن ہے۔وزیر قانون سکندر مندھرو کا کسی حد تک تعلق بنتا ہے کہ ان کی کچھی برادری سے تعلق داری ہے۔ باقی تین افراد کی نہ لیاری میں، نہ حکومت میں اور نہ ہی عام لوگوں میں کوئی  سے ہے۔ جس کو دیکھتے ہوئے لوگ ان کی بات مان لیں یا ان کی سفارشوں کو وزن مل سکے۔ لگتا ہے کہ حکومت نے خانہ پوری کے لیے کمیٹی بنائی ہے۔ 

کمیٹی کے ممبران جب متاثرہ افراد سے ٹھٹہ اور بدین میں ملے تو  تو انہوں نے حکومت کی طرف سے جاری کردہ پانچ  پانچ  ہزار روپے فی خاندان کی امداد لوٹا دی۔وزیرقانون کے ضلع بدین میں چاول کی دیگیں پکا کر متاثرین کو دی گئیں تو انہوں نے کہا کہ ہمیں چاول نہیں چاہئے، امن چاہئے تاکہ ہم واپس گھروں کو جاسکیں۔ سکندر مندھرو کے ہی ضلع میں متاثرین نے ایک درگاہ کے پاس کیمپ لگا کر پانہ لینے والے متاثرین کو انتظامیہ  نے اٹھادیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کمیٹی کتنی موثر ثابت ہوگی۔ 

اس صورتحال میں وفاقی حکومت کو بھی موقعہ مل گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے وفاقی سیکریٹری داخلہ اور انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کو کراچی بھیجا کہ وہ صورتحال کے بارے میں رپورٹ پیش کریں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران وفاقی حکومت تین مرتبہ تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کہ چکے ہیں کہ اگرچہ امن وامان وبائی معاملہ ہے مگر انہیں موقعہ دیا جائے تو وہ حالات ٹھیک کرسکتے ہیں۔چوہدری نثار علی خان نے کیا سوچ کے یہ بات کہی ہے؟ کیا وفاق صوبائی حکومت کو ہٹاکر صوبے میں گورنر راج لاگو کرکے یا کسی دوسرے ایسے اقدام سے معاملات نمٹانا چاہ رہے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو درخواست کرے کہ وہ  اسکی مدد کے لیے آئے۔جیسا کہ نوے کے عشرے میں مظفر حسین شاہ کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔کیا چوہدری نثار وفاقی اداروں کو اس کا م میں ملوث کرنا چاہتے ہیں؟

سندھ کے معاملات خاص طور پر کراچی کے حوالے سے وفاق کی مداخلت کوئی نئی بات نہیں۔نواز شریف کی حکومت نے کراچی میں آپریشن کیا۔اس کے بعد بینظیر بھٹو کے وزیر داخلہ جنرل نصیراللہ بابر نے ڈنڈا گھمایا۔مشرف دور تو ویسے بھی وفاق کا ہی تھا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک وفاق کے نہیں بلکہ سندھ کے وزیرداخلہ تھے۔ ویسے بھی سندھ حکومت کو  توفیق نہیں ہوئی کی کسی کو وزیرداخلہ مقرر کرتی۔

 ان روایات کو دیکھتے ہوئے اگر نواز شریف حکومت ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے دو تین بار سوچنا چاہئے۔ کیونکہ کسی ایک صوبے میں عدم استحکام صرف اس صوبے تک محدود نہیں رہتا۔اگر زلزلے کا مرکز کراچی بنتا ہے تو اسلام آباد بھی اسکے جھٹکوں سے بچ نہیں سکے گا۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے گزشتہ حکومتوں میں یہ تجربے ہم دیکھ چکے ہیں۔ 

Monday, 9 March 2020

لیاری میں کیوں گولیاں چل رہی؟ 2012-5-3

Thu, May 3, 2012 at 2:43 AM
لیاری میں کیوں گولیاں چل رہی؟
کالم  میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
گزشتہ چند روز سے کراچی کی قدیمی اور گنجان آدبادی والی بستی لیاری میدان جنگ بنی ہوئی ہے۔  بغیر وقفے کے گولیاں چل رہی ہیں۔ جب گولیوں کی آواز تھم جاتی ہے تو اس کی جگہ پر راکٹ لانچرز یا گرنیڈ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور کئی ایک زخمی ہو چکے ہیں۔ لیاری کے باشندے قیدی اور یرغمال بن کر رہ رہے ہیں۔ لیاری کے تمام علاقوں میں بارود کی بوپھیل گئی ہے پانی اور بجلی غائب ہیں۔ تین روز تک پانی بند رہا۔کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئی۔ بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں کیونکہ اب تو اس علاوے میں دکانیں ہی نہیں کھلتی۔ ایسے میں زیر آپریشن  علاقے میں رہنا ناممکن ہو گیا ہے۔ کئی خاندان نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ رائے عامہ انتظامیہ کے مقابلے میں سخت ہوتی جا رہی ہے۔ اب تویہ کہا جا رہا ہے کہیہ آپریشن ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جو پیپلز پارٹی کو  ووٹ دینے والی قدیمی بستی  کے رہائشیوں کے دشمن ہیں۔ جو لیاری میں عوامی حمایت نہ رکھنے کے باوجود لیاری پر حکم چلا رہے ہیں۔یوں یہ رائے رکھنے والے یہ آپریشن کو ایک سازش  قرار دے  رہے ہیں۔اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپریشن کی وجہ سے لیاری میں پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔دوسری طرف احتجاج شدید تر ہو گیا ہے۔آئی سی آئی پل سے لیکر برنس روڈ تک پہنچنے والے لیاری کے احتجاج  اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کے ووٹرز اب اس سے مایوس ہو رہے ہیں۔
 اگر ہم کراچی میں جرائم کے منظر کا تجزیہ کریں کئی علاقے لیاری سے زیادہ بدامنی کا شکار ہیں۔مگر تشدد کراچی کی اس قدیم اور غربت میں گھری ہوئی آبای کی مستقل علامت بن چکا ہے۔  جیسے لیاری میں بسنے والی پندرہ لاکھ سے زائد سب کی سب آبادی جرائم پیشہ ہو۔لیاری کا وہ تعارف کہیں کھو گیا ہے جس میں لال بخش رند، رحیم بخش آزاد، گاجیان بلوچ جیسے سچے اور پر خلوص سیاسی کارکن یا صدیق بلوچ اور غلام علی جیسے بے باک صحافی بھی ہوا کرتے تھے۔میر غوث بخش بزنجو  جیسے رہنما اس بستی کا  باقاعدگی سے دورہ کیا کرتے تھے۔ لیاری برسہا برس تک نے نڈر، محنتی اور اپنے کاز سے وفادارسیاسی کارکنوں کی کھیپ پیدا کرتی رہی ہے۔لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ کیا لیاری کی کوکھ بانجھ ہوگئی ہے؟ لیاری کا یہ نیا تعارف کہاں سے آیا؟
 لیاری میں اب سیاسی جلسے یا سیاسی لیکچر پروگرام نہیں ہو رہے ہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں سے گینگ وار یا مافیا کی جنگ ہو رہی ہے۔ جس کے پاؤں تلے لاکھوں افراد روندے جا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما ملک مخمدخان کو اٹھ چوک پر قتل کیا گیا جب وہ وزیر اعظم کی سزا کے خلاف ایک جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کا الزام کالعدم پیپلز امن کیٹی پر عائد کیا ہے۔ یہ تنظیم کبھی پیپلز پارٹی کے ساتھ الحاق میں تھی۔کیا یہ سمجھا جائے گا کہ اس تنظیم کے افراد  پر مشتمل تنظیم نے اپنے بڑوں پر بندوق تان لی۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ کمیٹی یا وہ گروہ جو گزشتہ کئی روز سے کراچی شہر کے سب سے بڑے بھتہ خور گروپ سے تضاد میں تھا ملک محمدخان اس کا شکار ہوا ہو۔
امن کمیٹی کے ہمدردوں کا کہنا ہے کہ تنظیم کا ایک گروپ جس کی قیادت بابا لاڈلا کر رہے ہیں اس کو آپریشن میں مستثنیٰ حاصل ہے۔جبکہ ارشد پپو گینگ کے جرائم پیشہ افراد کو امن کمیٹی کے لڑاکو کارکنوں کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ٹارگٹیڈآپریشن نے پیپلز امن کمیٹی کو پیپلز پارٹی سے دور کردیا۔ بعض مقامی رہنما پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سوچ رہے ہیں۔ نواز لیگ کے رہنما سید غوث علی شاہ کا دورہ اس سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی سے بیگانگی اور دوری کا معاملہ صرف امن کمیٹی تک محدود نہیں بلکہ اس نے لیاری کی تمام آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ کیونکہ آپریشن کے دوران یہ آبادی بری طرح سے صائب کا شکار ہوئی ہے۔
 انتظامی حلقوں میں یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ ایس پی اسلم چوہدری نے اپنی پرائیویٹ آرمی آپریشن میں استعمال کی ہے جس کا تعلق نہ پولیس سے ہے نہ ہی کسی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سے۔انکا کہنا ہے کہ اسلم چوہدری رحمان ڈکیت سے انتقام لینا چاہتا تھا۔ کیونکہ امن کمیٹی جب اس کی قیادت میں چل رہی تھی تو انہیں خاصی بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
 گزشتہ تین روز تک سندھ میں نہ وزیر اعلیٰ موجود تھے نہ کوئی اور اعلیٰ حکومتی اہلکار۔ کیونکہ وزیرداخلہ منظور وسان مستعفی ہو کے ہیں۔ یہ آپریشن صرف آئی جی سندھ سید مشتاق شاہ چلا رہے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، اور وزیر داخلہ منظور وسان کا کہنا تھا کہ یہ بھتہ خوروں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن ہے۔واقعی اگر ایسا ہے تو شہر کے دوسرے علاقوں میں جہاں بڑے پیمانے پر بھتہ وصول یا جاتا ہے وہاں کیوں نہیں شروع کیا جا رہا ہے۔۔ لیاری میں  چھوٹے دکانداروں  یا ٹرانسپورٹروں سے بھتہ لینے والے جب  بھتہ خوری کے لیے کھارادر، جوڑیا بازار، اور ٹاور کی طرف بڑھے، تو ا لوگوں کو اعتراض ہوا جن کی اس دھندے پر اجارہ داری تھی۔ اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیاری کے ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے  جو اپنا دھندے میں توسیع کر رہے تھے۔ 
یہ امر بھی خاصی دلچسپی کا حامل ہے کہ جب پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت اقتدار میں آئی۔تو رحمان ڈکیت نے مستقبل میں سیاست کرنے کی ٹھانی۔ پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے سستی،  اور لاتعلقی  وجہ سے امن کمیٹی نے اس کی جگہ لینا شروع کردی۔اور اپنی تنظیم کو سماجی تنظیم یا کمیونٹی کی تنظیم کے طور پر اپنا نیا تعارف کرایا۔ یہاں کے منتخب نمائندے کبھی کبھا ہی اپنے حلقے کا رخ کرتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لیاری کو نظرانداز کیا ہے۔ امن کمیٹی نے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا شروع کیا  اور اپنا امیج بنانا شروع کیا۔
لیاری میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹرز کو اس طرح سے کوئی اہمیت نہیں دی تو  خود بلاول بھٹو زرداری کے لیے بھی لیاری کی قومی اسمبلی کی نشست جیتنا مشکل ہو جائے گا۔یہ دعوا خواہ سو فیصد صحیح نہ ہو مگر خو پیپلز پارٹی کے لوگ بھی یہ مانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں مگر یہ یقینی بات ہے کہ آئندہ انتخابات میں  پارٹی کا ووٹ بینک سکڑے گا۔
ابھی چند ہی برس پہلے کا قصہ ہے کہ لیاری کو جمہوریت پسند احتجاجوں میں ہراول دستہ سمجھا جاتا تھا۔مگر یہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جب سیاسی طبقے نے عام آدمی اور ووٹرز کو کی بری طرح سے نظرانداز کیا تو مقامی گینگسٹروں کو کھلااسٹیج مل گیا۔ان میں سے کئی  جومقامی طور پر اڈے چلانے میں بھی ملوث ہیں۔انہوں نے سماجی اور فلاحی کاموں میں ہاتھ ڈال کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنا لی ہے۔آگے چل کر جنگجو گروپوں کے درمیاں علاقوں کی حد بندی کے سوال پر  جھگڑے پھوٹ پڑے جو خود کو سیاستداں اور سماجی کارکن کے طور پر پوز کر رہے تھے۔اس تمام قصے میں پیپلز پارٹی کی مقامی اور مرکزی قیادت کاموش تماشائی بنی رہی۔ کئی پرانے پارٹی کے کارکن شکایت کرتے ہیں۔
اب لگتا ہے کہ یہ ایک سیاسی جنگ ہے  جو پیپلز پارٹی ہار رہی ہے۔کیونکہ کہ پارٹی کی قیادت نے دوسروں کو خوش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں سندھ مین بھی لیاری کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔ سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے کسی ایسے اقدام کے خلاف سندھ میں لوگ باتیں کر رہے ہیں مگر مقامی قیادت حکومت کے اس قدام کا دفاع نہیں کر پا رہی ہے۔