Mon, Jun 25, 2012 at 10:18 AM
تیسرے آپشن کی طرف بڑھتے ہوئے قدم
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔سہیل سانگی
جب قومی اسمبلی میں نئے وزیراعظم کا انتخاب ہورہا تھا تو اس انتخاب سے بے نیاز ملک کی دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہ یعنی میاں نواز شریف اور عمران خان سندھ میں جلسوں سے خطاب کر رہے تھے۔تحریک انصاف کی تو خیر قومی اسمبلی میں موجودگی نہیں، پر نواز لیگ ایوان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ ان دونوں کی طرف سے وزیراعظم کے انتخاب میں اتنی عدم دلچسپی معنیٰ خیزلگتی ہے۔کییہ کوئی حسن اتفاق نہیں تھا۔ا اس کی یہ معنی لی جائیں کہ ان پارٹیوں کے نزدیک پارلیمنٹ غیر متعلق ہو گئی ہے یا بنادی گئی ہے؟ یا اس منتخب ادارے کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے بغیر بھی معاملات چل سکتے ہیں؟ ایسے حالات میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کہتے ہیں کہ جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں بند کی جائیں تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں کام کریں۔ سیاسی جماعتیں آنے والت انتخابات کا انتظار کریں ایسا نہ ہو کہ جھگڑے میں ملک اور جمہوریت تباہ ہو جائے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ سب کا احتساب ہوگا۔
عمران خان پھر ایکشن میں آگئے ہیں۔ ایک وقفے کے بعدان کی سرگرمیوں کومبصرین بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی سندھ کا دورہ کیا۔ حیدرآباد میں جلسہ سے خطاب کیا، میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈومحمدخان، کا بھی دورہ کیا کچھ لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ کراچی میں چیمبر آف کامرس کے عشائیے میں شرکت کی۔ان کا انداز گفتگو اور طریقہ کار ووٹ مانگنے کا نہیں بلکہ عام مقبولیت حاصل کرنے کا تھا۔
حیدرآباد میں نیاز اسٹیڈیم کے قریب واقع ایس آر ٹی سی گراؤنڈ پر دس بارہ ہزار لوگ جمع ہو گئے۔ اسٹیج پر سندھی قوم پرستی کے گیت بار بار بجائے جارہے تھے۔ نوجوان رقص کر رہے تھے۔حالانکہ سندھ کے لوگ جن چیزوں کو کور اشوز سمجھتے ہیں ان پر عمران خان نے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔اس تضاد کے علاوہ یہ تضاد بھی ناقابل فہم ہے کہ رقص اور گیت کے مخالف طالبان کے حامی خان نے اپنے جلسوں جلوسوں میں گیت اور رقص کی اجازت دی۔سندھ کے سیاسی حلقے اس رویے کودکھاوا قرار دے رہے ہیں۔ان کے مطابق پھر اسٹیج پر نماز پڑہنا ان کی نمائشی طبیعت کا خاصہ ہے۔ وہ ایک روز پہلے حیدرآباد میں آئے تھے۔ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے اور خود کو ڈسپلن اور قاعدے کا پابند ہونے کے دعویدارخان سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادمگسی کے عشائیہ میں شرکت کی۔ حیدرآباد میں موجودگی کے باوجودوہ جلسہ گاہ ساڑھے تین گھنٹے دیر سے آئے۔
بمشکل دس بارہ ہزار افراد۔حیدرآباد میں سونامی بس اتنی ہی تھی۔ شرکاء کی اکثریت پشون تھی، کو کوٹری، حیدرآباد کے علاوہ سندھ کے دوسرے شہروں سے آئی ہوئی تھی۔ پشتونوں کا یہ وہ حصہ ہے جو ابھی تک خود کو ای این پی سے کسی نہ کسی وجہ سے جوڑ نہیں پایا ہے۔تحریک انصاف کے لیے حیدرآباد میں اتنے لوگ جمع کرنا بڑی بات ہے۔ ورنہ حیدرآباد میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم یا پھر قوم پرست ہی بڑا جلسہ کر پاتی ہیں۔
بہرحال عمران خان کا سونامی سندھ کے روایتی سیاستدانوں کو اپنی طرف کھینچ نہیں سکا۔ ویسے اس مرتبہ عمران خان کی کوشش بھی ان روایتی سیاستدانوں کو اپنی طرف لانے کی کم لگ رہی تھی۔ عمران خان کا زور سندھ کے مسائل کے بجائے ڈرون حملوں کی طرف زیادہ تھا۔
عمران خان کی حکمت عملی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں کو نشانہ بنانے ولی ہی تھی۔ ان کی تقریر میں نئے انتخابات کی جھلک نہیں نظر آرہی تھی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، نواز لیگ اور اے این پی پر تنقید کی۔وہ پورے نظام کی بساط لپیٹنے کی بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔اب ان کو انتخابات کے لیے کسی حلقہ انتخابات میں مقبولیت یا وہاں امیدوار نہیں چاہئے۔صرف جنرل قسم کی مقبولیت چاہئے۔جو معاشرے میں انہیں قبولیت اور legitmacy دے۔ حکومتی معاملات چلانے کے لیے ان کے پاس ٹیکنوکریٹس ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی معیشت اور سیاست پر الیٹ کلاس یا بااثر طبقہ حاوی ہے۔دراصل یہ طبقہ ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔میڈیا جسکا رول دنیا بھر میں مانا جاتا ہیوہ ایک طاقت کے طور پر تھی ہی، مگر گزشتہ چند برسوں سے ملک میں ہونے والی سرگرمیوں کے بعداب وکیل بھی طاقتور ہو گئے ہیں۔قانون کے محافظ قانون کو اپنی مرضی کے مطابق بنانا اور چلانا چاہ رہے ہیں۔ملک کی سیاست اور معاملات میں اب یہ نیا قبیلہ بن گیا ہے۔لاہور میں منعقدہ آل پاکستان وکلاء کنوینشن نے وزیر اعظم کی تقرری مسترد کردی ہے۔27جون کو مہنگائی، لوڈشیڈنگ، لاقانونیت اورکرپشن کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ان بات سے ہٹ کر کہ یہ معاملات ملک کے لیے خاصے اہم ہیں، خودوکلاء برادری کے دائرہ اختیار میں عوام کو سستا اور جلدیانصاف فراہم کرنا ہے انس کو یقینی بنانے کے بجائے ایسے مسائل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ان کادائرہ اختیار نہیں۔اسکو کہتے ہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنا۔
ایک اور صورتحال بھی ہے۔ مختلف سرکاری ادارے اور خود سرکار عوام سے پیسے تو لیتی ہے مگر اس کا حساب دینے کے لیے تیار نہیں۔یہ ادارے اور وہ سرکار لی ملازم ہے مگر سرکار کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہی حال عدلیہ کا ہے۔ اس پر اب عام لوگ بھی بحث کر رہے ہیں کہ یہ ایک برادری بن گئے ہیں۔ پولیس اور بیوروکریسی ایک دوسرے کو تحفظ دیتی ہیں۔عجیب بات ہے کہ سیاستداں واحد قبیلہ ہیں جن کی آپس میں نہیں بنتیوہ ایک دوسرے کی مخالفت میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔
عدلیہ اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر قومی اسیمبلی کے ممبر اور پوری پارلیمنٹ سے منتخب وزیر اعظم کو توہین عدالت کے جرم میں قومی اسمبلی کی رکنیت اور وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیتی ہے۔ اس سے عدلیہ کی تو یقیننا بالادستی قائم ہو گئی مگر اس کے نتیجے میں جمہوریت کو کوئی استحکام نہیں ملا۔ عوام کو کوئی سہولت مسیر نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کو نظرثانی کا اختیار ہے۔
ایک ادارے نے انتہا پسندی کی سزا نواز شریف کو دی گئی جب انہوں نے اپنی پسند کا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا۔وہ بھی ملک کے منتخب وزیراعظم تھے۔ اب دوسرے ادارے نے انتہا پسندی کر کے وزیر اعظم کو سزا دے ہے۔ جیسے نواز شریف کے خلاف کارروائی کر کے ملک میں بحران میں دھکیل دیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق ملک میں ایسی ہی صورتحال دوبارہ بننے جا رہی ہے۔ صرف ایک دو دو ادارے ہی نہیں سیاسی جماعتیں بھی انتہا پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
باقی انتخابات میں دن کتنے رہ گئے ہیں؟ مگر احالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ ملک سے پارلیمنٹ کو نکالا جا رہا ہے۔اس آپشن پرکام ہورہا ہے کہ تین سال تک فوج اور عدلیہ اپنی پسند کی ٹیکنوکریٹ حکومت لانا چاہتی ہیں۔ جوجارہ رہے گی۔ اس کے لیے آئیں میں گنجائش نکالنااب اتنا مشکل نہیں رہاکیونکہ اس وقت آئین کی حتمی تشریح کا اختیار صرف عدلیہ کے پاس ہے۔ ایسا ایک تجربہ بنگلادیش میں کیا گیا تھا۔ مگرمشکل یہ ہے کہ ہمارے پاس تو دو اہم اداروں پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ہونا یہ چاہیے کہ اداروں کی ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت بند ہو۔ انتہا پسندی کے اسبابکا خاتمہ ہونا چاہئے۔معاشرے میں مجموعی طور پر رواداری اور برداشت کے رجحان پروان چڑھایا جائے۔اپنے عقائد سے وفاداری کے ساتھ ساتھ دوسروں کے عقائدکے احترم کو بھی اپنے عمل کا حصہ بنانا چاہئے۔
ملکی بحران بڑی تیزی سے طے شدہ یا منطقی نتیجے کی طرف بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے مطابق حکومت اور اپوزیشن مل کر صوبوں اور مرکز میں نگراں حکومت قائم کریں گی۔ اختلاف کی صورت میں الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔مگر تاحال الیکشن کمشنر پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔اور اس بات کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔ لہٰذا چیف جسٹس نے جسٹس شاکراللہ جان کو نگراں الیکشن کمشنر مقرر کردیا ہے۔ملطب نگراں حکومت کا قیام حکومت الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کے مشورے سے ہی عمل میں لائے گی۔اگر نگراں حکومت سمجھے گی کہ معاشی صورتحال، یا خاجہ پالیسی، اجیسے معاملات کوپہلے نمٹنا ضروری ہیں تو ایک پٹیشن ڈالنے سے ہی کام ہوجائے گا۔ بنگلادیش میں بھی کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک عبوری حکومت وجود میں لائی گئی تھی۔ویسے ہی عمران خان سب کا احتساب کا نعرہ لگا چکے ہیں
No comments:
Post a Comment