Showing posts with label Gilani. Show all posts
Showing posts with label Gilani. Show all posts

Thursday, 5 March 2020

عدالت کا فیصلہ عوام کا فیصلہ الگ الگ 2012-4-30

Mon, Apr 30, 2012 at 12:32 PM
نہ ان کی ریت نئی۔۔۔ 
عدالت کا فیصلہ عوام کا فیصلہ الگ الگ۔
عوام کو فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی 
پاکستان میں وزیراعظم کو سزا کوئی نئی بات نہیں۔ لیاقت علی خان کو یہ سزا گولی کی شکل میں ملی۔ حسین شہیدسہروردی کو زبردستی ہٹایا گیا۔ اور بغداد پیکٹ کے موقع پر جو بعد میں سیٹو کہلایا، بیوروکریسی نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعد میں اسی تسلسل میں اسمبلی توڑ دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔ جونیجو حکومت کو برطرف کیا گیا۔ دو مرتبہ باری باری بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو برطرف کیا گیا۔اور اب سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں معمولی یا مختصر ہی صحیح سزا سنا دی گئی ہے۔ جس کے اثرات دور رس ہونگے۔فی الحال تو انکو عدالت کے کٹہڑے تین بار کھڑا کر کیا گیا اور اب انہیں مجرم وزیراعظم ٹہرایا گیا ہے۔ مطلب ”نہ یہ ان کی ریت نئی نہ ہماری روایت نئی“والا معاملہ ہے۔
یہ فیصلہ تو خاصے عرصے سے متوقع تھا۔حکومت کے لیے بھی اور عوام کے لے لیے بھی۔ جس طرح عدالتی کارروائی چل رہی تھی اس سے عیاں تھا۔یہ تو ہونا ہی تھا۔مگر عوام کے فیصلوں اور عدالتی فیصلوں کے میں فرق رہا ہے۔ عوام نے مولوی تمیزالدین کے کیس میں قومی اسمبلی توڑنے سے متعلق عدالت کے فیصلے کو کبھی بھی نہیں مانا۔ آگے چل کر جسٹس منیر کو برسوں بعد یہ اعتراف کرنا پڑا کہ انہوں نے غلط فیصلہ دیا تھا۔ مگر تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ بھی عوام نے آج تک قبول نہیں کیا۔ اب عدالت اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے جا رہی ہے۔ 
وزیر اعظم گیلانی کے خلاف اس فیصلے کو بھی عوام دل سے قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔اس کو سیاسی محرکات کا حامل فیصلہ  قرار دیا جا رہا ہے۔ایسے میں پیپلز پارٹی کے اس دعوے میں وزن لگتا ہے کہ عوام کی عدالت میں وزیر اعظم نے مقدمہ جیت لیا ہے۔
 اس فیصلے نے پیپلز پارٹی کو واپس اپنی مرغوب پچ یعنی احتجاجی سیاست پر لا کر کھڑا کیا ہے۔عدلیہ نے زبردست بالنگ کی ہے۔ اب تو چھکا لگے ہی لگے۔ پارٹی کے کارکن، اور اس کے حامی اس سیاست کے خاصے عادی ہی بھی ہیں اور ماہر بھی۔ بقول شخصے انکو اس میں مزا بھی آتا ہے۔ لہٰذا عملی سیاست کرنے والی اس پارٹی کے لیے یہ مشکل نہیں کہ وہ سڑکوں پر آکر اپنے وزیراعظم کے لیے احتجاج کریں۔اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی مزیدمضبوط اور منظم ہو جائے گی۔
 عدالت نے گیلانی کی شکل میں ایک مضبوط مہم چلانے والا فراہم کر دیا ہے۔ان کے خلاف کرپشن یا اخلاقی جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام نہیں۔ بس یہ ہے کہ انہوں نے عدلیہ کی تضحیک کی ہے۔میہڑ اور ٹنڈو باگو کا نبی بخش یا خمیسو خان یہ سمجھتا ہے اب معاملہ برابر ہو گیا ہے۔اگر وزیر اعظم نے ججوں کی توہین کی تو اب سزا کی شکل میں یوسف رضا گیلانی کی بھی تضحیک ہوچکی کہ انہیں ”مجرم مجرم“کر کے پکارا جا رہا ہے۔ 
 نقصان کس کا ہوا؟ پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل سنور گیا۔ عدلیہ کی بھی واہ واہ ہوگئی۔گھاٹے میں تو عمران خان اور نواز شریف گئے۔ عمران خان جنہوں نے ٹائیم میگزین میں چیف جسٹس کا پروفائل لکھا تھا۔ اور نواز شریف جو گیلانی صاحب کو کم از پانچ سال جیل میں دیکھنا چاہتے تھے۔تاکہ پیپلز پارٹی کے پاس انتخابی مہم چلانے والا کوئی مضبوط شخصیت نہ ہو۔مگر فیصلے نے تو سیاسی بساط ہی الٹ دی۔اب گیلانی کے پاس یہ کارڈ بھی ہے کہ توہین عدالت تو قبول کی مگر آئین کا تحفظ کیا۔
سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کو سزا ملنے پر پیپلز پارٹی کو اس بیلٹ میں مزید ہمدردیاں ملیں گی۔اسی طرح سندھ میں بھی پیپلز پارٹی فعال اور سرگرم ہو جائے گی۔یہ سب چیزیں پیپلز پارٹی جیسی جماعت کے لیے حکومتی دور میں کسی غنیمت سے کم نہیں خاص طور پر جب اس پر خراب حکمرانی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، منہگائی وغیرہ جیسے الزامات لگ رہے ہوں۔ ایسے میں سیاسی شہید بنا کر اس کی پکی ضمانت کرادی گئی ہے۔ اب یہ جماعت جب عوام کے پاس جائے گی تو اس کے پاس مضبوط دلیل ہوگی کہ اسے عدلیہ اور میڈیا دونوں نے کام نہیں کرنے دیا۔ بلکہ سانس بھی نہیں لینے دی۔لہٰذا عوام کے مسائل حل ہونے سے رہ گئے۔
 دو درجن کے قریب ٹی وی چینل جو خود کا عوام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں اس مہم میں بھرپور طریقے سے شریک رہے۔فیصلہ آنے سے پہلے والے دن ڈھول پیٹے رہی کہ قوم استعیفا چاہتی ہے۔
ایک سزا یافتہ وزیر اعظم کی حکمرانی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔اور اس سے ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ پارلیمان اور انتظامیہ میں سرگرمی برح جائے گی۔الیکشن کمیشن اہم ہو جائیگا۔ایک نروس حکومت کو نظام چلانا ہوگا جبکہ اپوزیشن اپنی تمام تر زور لگائے گی کی مہنگائی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ وغیرہ کے معاملات کو اٹھائے۔
 ایک منتخب وزیر اعظم کو صرف خط نہ لکھنے پر سزا دے دی گئی۔اس پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جنہوں نے آئین کی  بنیادیں ہلا دیں صریحا خلاف ورزی کی، ملک کو تباہ کیا انکو کچھ نہیں کہا جا رہا ہے۔
 حکومت کو چار سال پورے نہیں کرنے دیا گیا۔ لوگوں میں جو بے چینی تھی اس کا اظہار الیکشن میں نہیں کرنے دیا گیا۔عوام کو اس حقیقی نقطہ تک جانے سے روک دیا گیا۔ 
افراتفری کی زد میں آئے ہوئے پاکستان کو مالیاتی اداروں کو قرضے ری شیڈیول کرنے کی درخواست دینی پڑے کی۔ جن کے دباؤ کی وجہ سے ڈالر اور روپے کے درمیاں تواز ختم ہو جائے گا۔یہ معاملہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو روک دے گا۔
عوامی احتجاجوں اور مالیاتی صورتحال سے بچنے کا پرامن حل یہ ہوگا کہ جلد انتخابات کرائے جائیں۔اس سے پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان کو پینگ پانگ ہو رہی ہے اس کا خاتمہ ہو پائے گا۔اگر عدلیہ سے ٹکراؤ جاری رہتا ہے تو کوئی نگراں حکومت نئے انتخابات کرانے کے لیے آ جائے گی۔

Wednesday, 4 March 2020

کوئی تو ثالث تھا۔۔۔ 2011-12-19

 Mon, Dec 19, 2011 at 12:52 AM
میرے دل میرے مسافر۔ سہیل سانگی
کوئی تو ثالث تھا۔۔۔
لگتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا۔ صدر آصف علی زرداری  واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ ویسے تو بہت سارے سوالات ہیں جن میں سے بیشتر کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے، تاہم کچھ ساوالات کے جوابات آنے والے وقتوں میں ملتے رہینگے۔
اب یہ طے ہو چکا ہے کہ میمو گیٹ دفنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مک از کم وقتی طور پر میمو گیٹ سے پیدا ہونے والے اختلافات بھول جانے کا فیصلہ کیا ہے۔دو اہم اداروں کا حکومت سے ٹکراؤ اچانک چند گھنٹوں میں حل ہو گیا۔ بڑی بات ہے۔کہنے کو تو چند گھنٹے ہیں اور بظاہر ایک دو ملاقاتیں ہیں مگر معاملات کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہاس پورے معاملے کو  طے  حل کرنے میں کئی گھنٹے اور اور کئی  ملاقاتیں صرف ہوئی ہیں۔
 بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ ہفتے ایک اعلی سطحی اجلاس میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا گیاکہ میمو کیس میں سپریم کورٹ میں عسکری قیادت اور حکومت ایک جیسا موقف پیش کریں۔ اور آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا کے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرنے سے پہلے وزیر اعظم کو بھیجے جائیں گے۔ لیکن یہ بیل جلدی مونڈے نہیں چڑھی۔ عسکری قیادت اور حکومت نے  الگ الگ بلکہ ایک دوسرے سے متصادم جوابات داخل کئے۔آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا موقف تھا کہ میمو ایک حقیقت ہے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔
 عسکری قیادت کی شاید اس لئے بھی اس کیس میں دلچسپی کم ہو گئی کہ تمام ریکارڈ منصور اعجاز رلیز کر چکے تھے۔ اور جنرل شجاع پاشا امریکہ میں ملاقات کر کے تمام شواہد کٹھے کر چکے ہیں۔جو ریکارڈ میڈیا کو ریلیز کیا گیا ہے اس میں  یہ بات بھی کہی گئی ہے کہمسٹر پی نے مبینہ طور زرداری حکومت کو گرانے کے لئے بعض عرب ممالک سے منظوری لے لی تھی۔ اگرمیڈیا میں شور ہوتا رہا اور سپریم کورٹ میں اس معاملے پر کھل کر بحث کی تو مسٹر پی کی پوری کہانی کھل جائیگی۔ اور میمو گیٹ کا رخ کسی اور طرف ہو جائیگا۔
عسکری قیادت کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ میمو گیٹ کے تکرار میں صدر زرداری یا  وزیراعظم گیلانی میں سے کسی ایک کو بھی ہٹایا گیا تو  متبادل قیادت موجود نہیں ہے۔ فوجی قیادت نواز شریف سے پہلے سے بیزار ہے۔لہذا اس کے ساتھ چلنا خاصا مشکل ہوگا۔ عمران خان کو پاؤں جمانے میں ابھی وقت لگے گا۔ لہذایہی بہتر ہے کہ صدر آصف زرداری اور گیلانی پر ہی گذارا کیا جائے۔ 
 اس اثناء میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں پورے معاملے کو عوام میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔  
مقتدرہ حلقوں  کے پاس ایک اور تجویز زیر غور رہی جسکا عندیہ وزیر اعظم گیلانی نے بھی دیا تھا۔ وہ تھا قومی حکومت۔ قومی حکومت میں فیصلہ سازی مشکل ہوتی اور یہ بات امریکہ اور عسکری قیادت دونوں کو پسند نہیں کہ ایک فیصلے کے لئے اتنے سارے لوگوں  کے محتاج ہوں۔ اس بات نے نواز شریف کو بھی ڈرا دیا۔ اس سے قبل قومی اسیمبلی میں وزیر اعظم نے متنبیہ کیا کیا کہ مسلم لیگ (ن)  والے خوش نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت جاتی ہے تو انکی حکومت بھی نہیں آئے گی۔ بلکہ موجودہ نظام ہی ختم کردیا جائیگا۔اور خاصے عرصے تک انتخابات نہیں ہونگے۔ وزیر اعظم کے اس بیان  کے بعد چوہدری نثار علی نے قومی اسیمبلی کے اجلاس میں نرم رویہ رکھا۔ ان کو یقین تھا کہ اگر انکی پارٹی کو حکومت میں آنے کا موقعہ نہیں مل رہا تو ابھی زرداری  اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانا گناہ بے لذت ہو جائیگا۔چوہدری نثار علی قومی اسیمبلی میں یہ تک کہا کہ انکی پارٹی جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا ھصہ نہیں بنے گی اور حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ 
 آرمی چیف سپریم کورٹ میں  جواب داخل کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ سپریم کورٹ نہایت ہی قابل احترام ادارہ ہے۔ اس ایکشن سے یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ کل اگر سپریم کورٹ نے اگر کسی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی  تو اس پر عمل کیا جائیگا۔اس طرح سے سپریم کورٹ کی طاقت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں  جوابات داخل کرنے کے بعد  عدالت اور آرمی چیف دونوں نہیں چاہتے تھے کہ  اب میڈیا اس معاملے پرزیادہ شورمچائے۔ 
اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے آرمی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اور ا س تین گھنٹے کی میٹنگ کے دوران فون پر صدر نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل کیانی سے بھی بات کی۔ اس ملاقات کے بعد ہورا ماحول ہی بدل گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ فوج اور عدلیہ دونوں جمہوریت کے ساتھ ہیں اور یہ دونوں ادارے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرینگے۔
امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جیمز جونز کے حلفیہ بیان نے حکومت کی پوزیشن دو حوالوں سے مضبوط کردی۔ ایک تو یہ کہ اس میمو سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ابھی تک امریکہ اس حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔
 تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے امریکہ پاکستان میں ہونے والی سرگرمیوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور بظاہر اس پر اظہار خیال نہیں کر رہا تھا۔ تاہم وہ مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ہمیشہ اس فریق کی حمایت کرتا ہے جس کے ساتھ عوام کھڑے ہوں یا جس کے پیچھے عوام کو کھڑا کیا جا سکے۔ دو ہفتوں کی سرگرمیوں کے مطالعے اور ہر فریق کی طاقت کا  اندازہ لگانے کے بعد  بالآخر اس نے  اپنی حمایت کا  وزن حکومت کے دامن میں ڈالا۔مبصرین کے مطابق ملک کے تین سرکردہ اداروں کے درمیان اتنا بڑا ٹکراؤ تھا کہ کسی کی ثالثی کے بغیر اسکا حل ہونا ممکن نہیں تھا۔کوئی تو ثالث تھا جس نے یہ معرکہ سرانجام دیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ثالث کون تھا جس نے متصادم سب  اداروں کو منوا بھی لیا اور ہر فریق کو ضمانت بھی دے دی؟ ایسے معاملات حل کرنے کے لئے ملک کے اندر نہ مکینزم ہے اور نہ ہی کوئی ایسی شخصیت۔ ایک بار پھر کسی باہر کی شخصیت یا ملک کا کمال  دکھائی دیتا ہے۔جس پر تمام فریقین کو بھروسہ بھی ہے۔
 بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جب آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے بیانات پر بحث کریگی تو اور صورتحال واضح ہو جائے گی۔ کیونکہ عدالت عظمی کے ریمارکس صورتحال کو واضح کرے گی۔ یہ صرف کہنے کی بات ہے۔ البتہ اس بات کا ضرور امکان ہے کہ ایک دو سماعتوں  کے بعد کسی اچھے وقت کے انتظار میں یہ درخواست پینڈنگ میں چلی جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے اصغر خان کی درخواست التوا میں پڑی ہوئی ہے۔کیونکہ ایسی درخواستیں جس میں خفیہ اداروں کے معاملات زیر بحث آئیں اس کو منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا اور نہ ہی  عدالت سے کوئی فیصلہ لیا جا سکتا۔لہذا میمو گیٹ کو دفنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور آئندہ چند روز میں ٹی وی چینلز کا رویہ بھی تبدیل ہو جائیگا  میڈیا بھی کچھ اور کرنے لگے گی۔