Showing posts with label Swiss. Show all posts
Showing posts with label Swiss. Show all posts

Monday, 9 March 2020

سوئس حکام کو خط کی یقین دہانی - Sep 20, 2012

Thu, Sep 20, 2012, 10:38 AM
 سوئس حکام کو خط  کی یقین دہانی
 کالم۔۔ سہیل سانگی
 حکومت نے ہاں کردی۔ اب سوئس حکام کو خط لکھا جائے گا۔وزیر اعظم پرویز اشرف نے اب  سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کرا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے مشرف دور میں جاری ہونے والے این آر او کو سپریم کورٹ نے 16دسمبر 2009 کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ جس کو اب تین سال ہونے کو ہیں۔ اب صدر زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق حکومت کے موقف میں اچانک تبدیلی حیران کن ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت  نے چند ماہ قبل سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے وزارت عظمی کے عہدہ اور قومی اسمبلی کی نشست کی قربانی دی۔اور اس کے بعد سیاست پر سیاست چلتی رہی۔
یہ صحیح ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتا۔سیاست سودے بازی ہے بارگیننگ ہے۔مگر ایسا بھی نہیں ہوتا کہ 180 درجے موقف بدل جائے۔ اپنے موقف سے ہٹنا موجودہ حکومت کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ کیونکہ اس طرح سے موقف سے ہٹنے کا خاصاریکارڈ رکھتی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی بحالی، آئی ایس آئی کو سول انتظامیہ کے ماتحت کرنے بلدیاتی نظام کے حوالے سے صوبہ سندھ میں کمشنری نظام رائج کرا اور پھر اس فیصلے کو واپس لینا  چند بڑی مثالیں ہیں۔ جبکہ چھوٹے موٹے  ایسے کئی معاملات   کی لسٹ بنائی جاسکتی ہے۔
 موجودہ حکومت کا این آر او کیس پر عدلیہ کے فیصلے پرشروع سے یہ موقف رہا ہے کہ این آر او کے تحت مقدمات کھولنے کا مطلب شہید بنیظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل ہے اور اس ٹرائل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ خاصا جذباتی اور خوبصورت نعرہ تھا۔پارٹی کے کارکنوں کو بھی اچھا لگا۔لیکن یہ بہت بڑی کمنٹمنٹ تھی۔جس پر کھڑا ہونا ضروری تھا۔تین سال کے عدالتی تکرار کے بعد اپنے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی قربانی دینے کے بعد اب جب موجودہ حکومت سوئس حکام کو بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات  بند کرنے کے لیے سابق اٹارنی جنرل کا  جو خط لکھا تھا وہ  ایک اور خط لکھ کر واپس لینے  کے لیے تیار ہوگئی ہے۔ کیا یہ بینظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل نہیں؟ 
 حکومت کا دعوا ہے کہ اس نے جمہوری حکومت کو زیادہ سے زیادہ وقت دینے کے لیے معاملے کو  طول دیا۔اب حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے۔صدر آصف علی زرداری بھی اپنے عہدے کے چار سال پورے کرنے والے ہیں۔اب خط لکھنے سے  جمہوری حکومت کی مدت پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔اور سوئس عدالتوں میں مقدمہ دوبارہ کھلنے تک صدر  زرداری بھی اپنی مدت مکمل کر چکے ہونگے۔اس کا واضح مطلب یہ لیا جائے کہ حکمراں جماعت کو اقتدار سے محبت تھی جو اب اپنی مدت مکمل کرنے والی ہے۔اب اگر کسی کا تقدس پامال ہوتا ہے  یا کسی کا ٹرائل ہوتا ہے اس سے حکومت کا کیا جائے۔
 بینظیر بھٹو کی شہادت پر انتخابات جینتے اور حکومت میں آنے والی پیپلز پارٹی  بینظیر بھٹو کی قبر کے تقدس اور عوامی مسائل حل کرنے کا دعوا کرنے والی پیپلز پارٹی عوام کو کچھ دے سکی ہے یا نہیں۔مگر راولپنڈٰی کے لیاقت باغ میں شہید ہونے والی پارٹی کی سربراہ کی شہادت کے اسباب اور قاتلوں کو عوام کے سامنے نہیں لا سکی ہے۔
 یوسف رضا گیلانی کی جگہ ر وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والے پرویز اشرف نے سوئس حکام کو اپنے شریک چیئرمن کے خلاف خط لکھنے کا جو وعدہ کیا ہے لوگ اس پر حیران ہیں۔اس صورتحال کے بعد اب لوگوں کے پاس اہم سوال یہ ہیں کہ اگر یہی کچھ کرنا تھا توپھر قوم، اور ملک اور معیشت کے تین سال ضایع کرنے کا کیافائدہ تھا؟ یہ تین سال کس کھاتے میں گئے۔شدید آئینی بحران ہوا، حکومت اور عدلیہ دونوں کی توجہ باقی ملکی مسائل سے ہٹ کر  صرف اسی مقدمے پر مرکوز ہوگئی، اب سب باتوں سے عوام کو کتنا نقصان ہوا۔
بہرحال دیر آید درست آید۔ یہ ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔کیونکہ اس معاملے پر عدلیہ اور حکومت کے درمیان کھچاؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔اس پیش رفت کا خیرمقدم کرنا چاہئے  اوریہ امر یقینی بنانا چاہئے کہ جس جگہ پر ملک کے سیاسی معاملات پہنچے ہیں وہ پیچھے جانے کے بجائے آگے جائیں۔ سے معاملہ اس مرحلے پر جو بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ پیپلز پارٹی نے کچھ اورمہلت حاصل کرلی ہے۔ واقعی سوئس حکام کو خط بھیجا بھی جائے گا یا نہیں؟ اس کا  دارومدار خط کی متن اور زبان پر ہے کہ یہ دونوں ایسی ہوں جس پر حکومت اور سپریم کورٹ دونوں متفق ہوسکیں۔ یعنی حکومت ایک ایسا مسودہ بنائے جس کو عدالت بھی قبول کرلے۔اس تمام رام کہانی میں یہ ایک اور دلچسپ اور فیصلہ کن موڑ ابھی باقی ہے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ صورتحال نہیں بدلے گی۔مجوزہ چٹھی عدالتی تقاضوں کو کس حد تک پوراکرتی ہے اور عدالت کو مطمئن کرتی ہے۔یہ بہت بڑا سوال ہے۔ جس سے  ملک کے باشعور لوگ خاصے ڈرے ہوئے ہیں۔ بہرحال اس نقطے پر عدلیہ اور حکومت دونوں ایک دوسرے کے موقف کے قریب آئی ہیں کہ خط لکھا جائے۔اب خط کے متن پر قریب آنے کے لیے بھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض حلقے جن کو بہت سارے معاملات میں بہت جلدی ہے ان کو یہ بات  برداشت نہ ہو اورایک مرتبہ پھر جو اقتدار کی رسہ کشی کا بحران آخری مرحلے میں ہے ایک بار پھر سر اٹھائے  اور عدلیہ خواہ حکومت کی جانب سے جو بھی اقدامات کئے گئے ہیں ان پر پانی پھیر دے۔
بہت ہو گیا اب خط لکھ دینا چاہئے۔اور عدلیہ کو بھی چاہئے کہ وہ اس معاملے کو ٹھنڈا رکھے۔کیوں کہ اب آخری مرحلے میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات  اور لفظوں پر نہیں جانا چاہئے۔بات اصل روح کی ہے۔آج کی صورتحال میں جب انتخابات کی بساط بچھائی جانے والی ہے اس طرح کے معاملات اٹھانا نقصاندہ ہی ہوگا۔ اب جب ایک منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے اورانتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت کو اقتدار سونپا جائے گا۔ ایسے میں انتخابی مہم اداروں کے ٹکراؤ یا اقتدار کی جنگ کے معاملات پر نہیں ہونی چاہئے بلکہ حقیقی اشوز عوام کے مسائل پر ہونی چاہئے۔ خط میں کیا لکھا جائے وغیرہ کا معاملہ اگر اٹکا رہا تو انتخابی مہم  اقتدار کی رسہ کشی پر ہی مبنی ہوگی۔ جو کسی طور پر عوام کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔
پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ  اب اپنی سیاست کو تبدیل کریں۔ اور مثبت رویہ اور حکمت عملیاں ترتیب دیں۔ اب سیاست کو واپس اس نقطے پر لے آئیں کہ عوام کو کیا ملا  اور کیا نہیں ملا؟ اور یہ بھی کہ موجودہ حالات میں حقیقی معنوں میں عوام کو کیا مل سکتا ہے؟پیپلز پارٹی کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ نگراں حکومت  یا نئی حکومت کے قیام سے پہلے سوئس کیس اور خط لکھنے کی کہانی ختم کرے اور اپنے گلے سے یہ گھنٹی نکال لے ورنہ  یہ گھنٹی ہمیشہ کے لیے  بجتی رہے گی۔اور پیپلز پارٹی اور صدر زرداری مشکل میں پھنسے رہیں گے۔

Thursday, 5 March 2020

عدالت کا فیصلہ عوام کا فیصلہ الگ الگ 2012-4-30

Mon, Apr 30, 2012 at 12:32 PM
نہ ان کی ریت نئی۔۔۔ 
عدالت کا فیصلہ عوام کا فیصلہ الگ الگ۔
عوام کو فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی 
پاکستان میں وزیراعظم کو سزا کوئی نئی بات نہیں۔ لیاقت علی خان کو یہ سزا گولی کی شکل میں ملی۔ حسین شہیدسہروردی کو زبردستی ہٹایا گیا۔ اور بغداد پیکٹ کے موقع پر جو بعد میں سیٹو کہلایا، بیوروکریسی نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعد میں اسی تسلسل میں اسمبلی توڑ دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔ جونیجو حکومت کو برطرف کیا گیا۔ دو مرتبہ باری باری بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو برطرف کیا گیا۔اور اب سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں معمولی یا مختصر ہی صحیح سزا سنا دی گئی ہے۔ جس کے اثرات دور رس ہونگے۔فی الحال تو انکو عدالت کے کٹہڑے تین بار کھڑا کر کیا گیا اور اب انہیں مجرم وزیراعظم ٹہرایا گیا ہے۔ مطلب ”نہ یہ ان کی ریت نئی نہ ہماری روایت نئی“والا معاملہ ہے۔
یہ فیصلہ تو خاصے عرصے سے متوقع تھا۔حکومت کے لیے بھی اور عوام کے لے لیے بھی۔ جس طرح عدالتی کارروائی چل رہی تھی اس سے عیاں تھا۔یہ تو ہونا ہی تھا۔مگر عوام کے فیصلوں اور عدالتی فیصلوں کے میں فرق رہا ہے۔ عوام نے مولوی تمیزالدین کے کیس میں قومی اسمبلی توڑنے سے متعلق عدالت کے فیصلے کو کبھی بھی نہیں مانا۔ آگے چل کر جسٹس منیر کو برسوں بعد یہ اعتراف کرنا پڑا کہ انہوں نے غلط فیصلہ دیا تھا۔ مگر تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ بھی عوام نے آج تک قبول نہیں کیا۔ اب عدالت اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے جا رہی ہے۔ 
وزیر اعظم گیلانی کے خلاف اس فیصلے کو بھی عوام دل سے قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔اس کو سیاسی محرکات کا حامل فیصلہ  قرار دیا جا رہا ہے۔ایسے میں پیپلز پارٹی کے اس دعوے میں وزن لگتا ہے کہ عوام کی عدالت میں وزیر اعظم نے مقدمہ جیت لیا ہے۔
 اس فیصلے نے پیپلز پارٹی کو واپس اپنی مرغوب پچ یعنی احتجاجی سیاست پر لا کر کھڑا کیا ہے۔عدلیہ نے زبردست بالنگ کی ہے۔ اب تو چھکا لگے ہی لگے۔ پارٹی کے کارکن، اور اس کے حامی اس سیاست کے خاصے عادی ہی بھی ہیں اور ماہر بھی۔ بقول شخصے انکو اس میں مزا بھی آتا ہے۔ لہٰذا عملی سیاست کرنے والی اس پارٹی کے لیے یہ مشکل نہیں کہ وہ سڑکوں پر آکر اپنے وزیراعظم کے لیے احتجاج کریں۔اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی مزیدمضبوط اور منظم ہو جائے گی۔
 عدالت نے گیلانی کی شکل میں ایک مضبوط مہم چلانے والا فراہم کر دیا ہے۔ان کے خلاف کرپشن یا اخلاقی جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام نہیں۔ بس یہ ہے کہ انہوں نے عدلیہ کی تضحیک کی ہے۔میہڑ اور ٹنڈو باگو کا نبی بخش یا خمیسو خان یہ سمجھتا ہے اب معاملہ برابر ہو گیا ہے۔اگر وزیر اعظم نے ججوں کی توہین کی تو اب سزا کی شکل میں یوسف رضا گیلانی کی بھی تضحیک ہوچکی کہ انہیں ”مجرم مجرم“کر کے پکارا جا رہا ہے۔ 
 نقصان کس کا ہوا؟ پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل سنور گیا۔ عدلیہ کی بھی واہ واہ ہوگئی۔گھاٹے میں تو عمران خان اور نواز شریف گئے۔ عمران خان جنہوں نے ٹائیم میگزین میں چیف جسٹس کا پروفائل لکھا تھا۔ اور نواز شریف جو گیلانی صاحب کو کم از پانچ سال جیل میں دیکھنا چاہتے تھے۔تاکہ پیپلز پارٹی کے پاس انتخابی مہم چلانے والا کوئی مضبوط شخصیت نہ ہو۔مگر فیصلے نے تو سیاسی بساط ہی الٹ دی۔اب گیلانی کے پاس یہ کارڈ بھی ہے کہ توہین عدالت تو قبول کی مگر آئین کا تحفظ کیا۔
سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کو سزا ملنے پر پیپلز پارٹی کو اس بیلٹ میں مزید ہمدردیاں ملیں گی۔اسی طرح سندھ میں بھی پیپلز پارٹی فعال اور سرگرم ہو جائے گی۔یہ سب چیزیں پیپلز پارٹی جیسی جماعت کے لیے حکومتی دور میں کسی غنیمت سے کم نہیں خاص طور پر جب اس پر خراب حکمرانی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، منہگائی وغیرہ جیسے الزامات لگ رہے ہوں۔ ایسے میں سیاسی شہید بنا کر اس کی پکی ضمانت کرادی گئی ہے۔ اب یہ جماعت جب عوام کے پاس جائے گی تو اس کے پاس مضبوط دلیل ہوگی کہ اسے عدلیہ اور میڈیا دونوں نے کام نہیں کرنے دیا۔ بلکہ سانس بھی نہیں لینے دی۔لہٰذا عوام کے مسائل حل ہونے سے رہ گئے۔
 دو درجن کے قریب ٹی وی چینل جو خود کا عوام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں اس مہم میں بھرپور طریقے سے شریک رہے۔فیصلہ آنے سے پہلے والے دن ڈھول پیٹے رہی کہ قوم استعیفا چاہتی ہے۔
ایک سزا یافتہ وزیر اعظم کی حکمرانی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔اور اس سے ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ پارلیمان اور انتظامیہ میں سرگرمی برح جائے گی۔الیکشن کمیشن اہم ہو جائیگا۔ایک نروس حکومت کو نظام چلانا ہوگا جبکہ اپوزیشن اپنی تمام تر زور لگائے گی کی مہنگائی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ وغیرہ کے معاملات کو اٹھائے۔
 ایک منتخب وزیر اعظم کو صرف خط نہ لکھنے پر سزا دے دی گئی۔اس پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جنہوں نے آئین کی  بنیادیں ہلا دیں صریحا خلاف ورزی کی، ملک کو تباہ کیا انکو کچھ نہیں کہا جا رہا ہے۔
 حکومت کو چار سال پورے نہیں کرنے دیا گیا۔ لوگوں میں جو بے چینی تھی اس کا اظہار الیکشن میں نہیں کرنے دیا گیا۔عوام کو اس حقیقی نقطہ تک جانے سے روک دیا گیا۔ 
افراتفری کی زد میں آئے ہوئے پاکستان کو مالیاتی اداروں کو قرضے ری شیڈیول کرنے کی درخواست دینی پڑے کی۔ جن کے دباؤ کی وجہ سے ڈالر اور روپے کے درمیاں تواز ختم ہو جائے گا۔یہ معاملہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو روک دے گا۔
عوامی احتجاجوں اور مالیاتی صورتحال سے بچنے کا پرامن حل یہ ہوگا کہ جلد انتخابات کرائے جائیں۔اس سے پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان کو پینگ پانگ ہو رہی ہے اس کا خاتمہ ہو پائے گا۔اگر عدلیہ سے ٹکراؤ جاری رہتا ہے تو کوئی نگراں حکومت نئے انتخابات کرانے کے لیے آ جائے گی۔