Showing posts with label Bashir Khan. Show all posts
Showing posts with label Bashir Khan. Show all posts

Thursday, 5 March 2020

بشیرخان قریشی کا کیس اور مبہم رپورٹ 2012-4-23

Mon, Apr 23, 2012 at 12:03 PM
بشیرخان قریشی کا کیس اور میڈیکل  بورڈ کی مبہم رپورٹ
 میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی
 بعد از خرابی ء بسیار حکومت سندھ نے قوم پرست رہنما بشیر خان قریشی کے جسم کے اجزا کا کیمیائی تجزیہ بیرون ملک کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان نے کا کہنا ہے کہ جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم)کے چیئرمن بشیر خان قریشی کے ورثاء نے برطانیہ سے اجزا کا معائنہ کرانے کی درخواست دی تھی جسے وزیر اعلیٰ سندھ نے منظور کر لی ہے اور اس امر کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔قوم پرست رہنما کاتقریبا دو ہفتے انتقال ہو گیا تھا اور ابتدائی طور پر یہ بتایا گیا کہ ان کی موت حرکت قلب بند ہونے سے واقع ہوئی ہے۔ لیکن اٹھتے ہی پارٹی کی قیادت نے شبہہ ظاہر کیا کہ یہ موت طبعی نہیں لہٰذا معاملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ حکومت سندھ نے چانڈکا میڈیکل ہسپتال میں انکا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور پندرہ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا۔
 گزشتہ ہفتے محکمہ صحت سندھ نے سندھ کی سب سے بڑی قوم پرست پارٹی کے سربراہ کی موت کے اسباب معلوم کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ مرحوم لیڈر کے جسم میں فاسفورس کے اجزا ملے ہیں جن کو عام طور پر زہر بھی کہا جاتا ہے۔ سیکریٹری صحت اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں میڈیکل رپورٹ کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ مائکرواسکوپ معائنے سے پتہ چلا ہے کہ وہ عارضہ دل میں بھی مبتلا تھے۔رپورٹ میں دعوا کیا گیا ہے کہ انہیں دو مرتبہ دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔ مگر اہلخانہ اور پارٹی کی قیادت اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہیں کبھی بھی دل کا دورہ نہیں پڑا تھا۔رپورٹ کا اعلان کرتے وقت بورڈ کا کوئی ور ممبر پریس کانفرنس میں موجو نہ تھا۔
بورڈ نے یہ تجویز کیا کہ موت کے اسباب معلوم کرنے کے لئے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے اس کیلئے عالمی معیار کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔میڈیکل بورڈ سے ایک ہی سوال پوچھا گیا تھا کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ ان کی موت کیسے واقع ہوئی۔ مگراس رپورٹ نے اس سوال کا جواب دینے کے بجائے بہت سارے سوالات اور شبہات کو جنم دیا ہے۔ اگر مرحوم لیڈر کے جسم کے اجزا میں فاسفورس ملا ہے تو یہ کتنی مقدار میں ہے۔اس کے بارے میں رپورٹ میں کوئی معلومات نہیں دی گئی ہے۔مطلب میڈیکل بورڈ یہ نہیں واضح کر سکا کہ موت کے اسباب کیا تھے بلکہ مزید خدشات اور وہم وگمان پیدا کردیئے ہیں۔ بورڈ نے ایسی رپورٹ بنائی ہے جس سے موت کی وجوہات کا پتہ ہی نہیں چلتا۔بتایا جاتا ہے کہ سندھ حکومت کے پاس جدید مشنری، ماہر عملے کی کمی وغیرہ کے باعث یہ رپورٹ مبہم ہے۔میڈیکل بورڈ کے ایک رکن ڈاکٹر قیوم راجپر کا کہنا ہے کہ بشیر قریشی کی موت زہر دینے سے واقع ہوئی ہے۔
 اس سے قبل میڈیا میں یہ بھی خبریں بھی شایع ہوئی کہ اجزا کی برنیاں ٹوٹ گئی تھیں اور یہ اجزا 12 اپریل کو لیبارٹری میں دیئے گئے مگر وصول کرنے کی تاریخ 9اپریل ڈالی گئی۔سوال یہ کہ اگر بشیر قریشی کی موت طبعی تھی تواس کو ایسے اقدامات کر کے پراسرار کیوں بنایا جا رہا ہے۔؟ میڈیکل بورڈ بھی کوئی آسانی سے نہیں بناگیا۔ جسقم کی صوبے بھر میں کامیاب اور پہیہ جام ہڑتال کے بعد 15رکنی بورڈ ڈاکٹر عمر میمن کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا۔ جس نے رپورٹ پیش کرنے کی روز سے ایک دن قبل یہ مبہم رپورٹ جاری کردی۔
 پریس کانفرنس میں سیکریٹری صحت کا یہ جملہ بہت ہی معنی خیز تھاکہ چھت پہلے ہی کمزور تھی جو معمولی بارش میں گر پڑی۔اس مطلب یہ تھا کہ بشیر قریشی کسی خطرناک مرض میں مبتلا تھے، چلنے پھرنے سے لاچار تھے۔ مگر ا س دعوے کے برعکس سندھ بھر کے لوگ جانتے ہیں کہ بشیرقریشی چاک و چوبند تھے انہیں کوئی بیماری نہیں تھی۔اس طرح کی باتوں نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے
 جسقم قیادت نے اس رپورٹ کو رد کردیا اور اسکی اپیل پر سندھ بھر میں ایک بار پھر ہڑتال کی گئی۔جسقم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔ان کے رہنما کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔معاملے کی تحقیقات کسی عالمی ادارے سے کرائی جائے۔جسقم عدم تشدد کی راہ پر چل رہی تھی۔بشیر قریشی کو راہ سے ہٹانے والوں نے یہ کام کسی ایسی ٹیکنیک سے کیا ہے کہ کوئی ثبوت نہیں چھوڑا۔ 23 مارچ کا کراچی میں فریڈم مارچ بعض حلقوں کے لیے واقعی پریشانی کا باعث بنا تھا۔خود کراچی شہر پر حکمرانی کا بلا شرکت غیرے کرنے والوں کو بھی چونکا دیا۔
 لگتا ہے کہ سندھ حکومت بشیر قریشی کی پراسرارموت کی تحقیقات کرانے میں لاچار ہے۔ جب اجزاء کے معائنے پر اتنی پراسراریت پیدا کی گئی تو آگے چل کر تحقیقات میں کیا ہوگا۔یہ کیس بھی بے نظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کے کیسز کی طرح تاریخ اور ناہلی کے صفحات میں دب جائے گا۔
سندھ میں سیاسی قتل کی تاریخ ہے۔ سندھ کے بہادر لوگوں کو چن چن کر کسی نہ کسی بہانے قتل کردیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔ انکے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کی موت پراسرار حالات میں پیرس کے فلیٹ میں واقع ہوئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو کو کلفٹن کراچی میں انکی رہائش گاہ سے چند گز کے فاصلے پر پولیس کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔بے نظیر بھٹو کو جلسے سے واپسی پر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قتل کیا گیا۔
 جیئے سندھ کے تین کارکنوں کو گذشتہ سال سانگھڑ کے قریب گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد ان کے لاشوں کو جلا دیا گیا۔اس سوچ اور سلسلے نے سندھ میں عجیب مائینڈ سیٹ بنایا ہے کہ پنجاب، اسٹیبلشمنٹ یا کچھ اس طرح کے خفیہ ہاتھ سندھ کے نمائندوں کو طاقتور دیکھنا نہیں چاہتے۔
 جسقم کی آئندہ پالیسی کیا ہوگی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔جسقم کے اندر پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے تین رجحانات پائے جاتے ہیں۔معاملہ ترجیحات کے تعین کا ہے ایم کیو ایم  اور پنجاب کی طرف کیا رویہ ہو۔ دوسرا  لڑائی جھگڑے کا حامی ہے۔ تیسرا حلقہ پنجاب اور ایم کیو ایم کے بارے میں ایک متوازن اور محتاط ریوہ رکھنا چاہتا ہے۔اس میں پنجاب مخالف رجحان زیادہ ہے۔ بشیر خان قریشی ان تینوں رجحانات کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔یہ امر بھی قابل ذکرہے کہ جسقم میں ایک مضبوط راجحان یہ بھی موجودہے کہ جیئے سندھ کے نعرے پر سیاست کرنے والی تمام جماعتیں اور گروپوں کا اتحاد یا انضمام ہو۔ اس ضمن میں فریڈم مارچ سے پہلے اور بعد میں بھی مختلف گروپوں کے درمیاں بات چیت چل رہی تھی۔ بعض حلقوں کا دعوا ہے کہ بشیر خان قریشی اس اتحاد اور انضمام کے لیے کوشاں تھے۔
 آئندہ انتخابات میں اقتدارکی سیاست کرنے والوں کی رسہ کشی میں قوم پرست سیاست کو اہم کردار دا کرنا ہے۔ انکا یہ کردار بشیر قریشی کی زندگی میں بھی تھا اور انکی موت کے بعدتبدیل شدہ صورتحال میں اور بڑھ گیا ہے۔قوم پرست سندھ میں توازن کا تعین کرنے والی قوت رہے ہیں۔ان کی حکمت عملی پیپلز پارٹی کو نواز لیگ کے مقابلے میں فائدہ پہنچا رہی تھی یا پھر انکا ساتھ نواز شریف کو مضبوط کر رہا تھا جو سندھ میں پاؤں رکھنے کی جگہ کی تلاش میں تھا۔اس صورتحال میں  بشیر قریشی کی موت صرف سندھ کے سیاسی منظرنامے پر ہی نہیں ملکی منظر نامے پر بھی اثرانداز ہوگی۔
 آج سندھ تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔لگتا ہے کہ پارلیمانی یا وفاقی سیاست کا پچھلا پہر ہے۔ بشیر خان قریشی کے قتل کے بعد سندھ ریڈیکلائزیشن کے زبردست طوفان کی زد میں ہے۔جہاں پارلیمانی سیاست پس منظر میں چلے جانے کا اندیشہ ہے۔بشیر قریشی کاا پنا شاید کوئی  بہت بڑاووٹ بینک نہ ہو (یہ آپشن انہوں نے کبھی آزمایا بھی نہیں تھا)مگر سیاست میں ایک مضبوط رجحان کے طور پر ان کی سیاست موجود تھی۔ جو کئی ایک چیزوں پر اثرانداز ہوتی تھی۔اب جسقم پہلی بار ایک پاپولر پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے جس سے پیپلز پارٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ 

قوم پرست سیاست کا عوامی رنگ بشیر خان قریشی 2012-4-9

Mon, Apr 9, 2012, 1:28 AM
قوم پرست سیاست کا عوامی رنگ  بشیر خان قریشی 
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی 
دو ہفتے قبل کراچی میں منعقد کی گئی فریڈم مارچ اور وہاں اس کی تقریر کی ان الفاظ کی گونج ابھی فضاؤں میں باقی تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وہ انتقال کر گئے۔بشیر خان قریشی جس نعرے پر جدوجہد کر رہے تھے اس پر ان سے پہلے بھی بلکہ ابھی کچھ مختلف لیڈر کام کر رہے ہیں، مگر ان جماعتوں یا لیڈر کو مقبولیت نہ مل سکی جو بشیر خان نے حاصل کی۔اس کی وجہ انکا اسٹائل اور مخصوص طبیعت تھا۔لہٰذا انکی سیاست، طریقہ کار اور ذاتی تجربہ مطالعہ کی تقاضا کرتا ہے۔
سندھ کی قوم پرست سیاست میں تیں بڑے رجحانات ہیں۔ایک گروہ پارلیمانی سیاست کے ذریعے سندھ کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔جس میں جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ممتاز بھٹو شامل ہیں۔ دوسرا گروہ علحدگی چاہتا ہے اور سندھ کی آزادانہ حیثیت کا خواہان ہے۔اس رجحان کی نمائندگی بشیر خان قریشی، خالق جونیجو، عبدالواحدآریسر، صفدر سرکی وغیرہ کرتے ہیں۔بشیر خان قریشی دوسرے رجحان کے اہم نمائندے اور سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں اور گروپوں میں سب سے بڑی جماعت کے رہنما تھے۔قوم پرست سیاست میں جی ایم سید کے بعد سب سے زیادہ مقبول رہنما بن گئے۔ اگرسندھ کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر مگسی رسول بخش پلیجو کی سیاست میں مین ڈائریکشن ایم کیو ایم کے خلاف ہے جبکہ بشیر خان قریشی اور ڈاکٹر صفدر سرکی  کی پنجاب کے خلاف ہے۔ڈاکٹر قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو نواز شریف کے اس لندن میں بنائے گئے اس اتحاد کا حصہ رہے ہیں جو انہوں نے بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے بعد اپنی الگ شناخت کے لئے بنایاتھا۔
قوم پرست سیاست جو صرف تعلیمی اداروں تک محدود تھی۔ زمانہ طالب علمی  میں سیاست میں قدم رکنھنے والے بشیر قریشی نے جیئے سندھ تحریک کو ایک نیا رخ دیا۔ اس کو عوام تک لانے کی بھرپور کوشش کی جس کا ثبوت بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں ہیں۔یہ ان کی دو دہائیوں کی انتھک محنت تھی۔وہ دراصل ایک کارکن لیڈر تھے۔سندھ میں قوم پرست سیاست کرنے والے چھوٹے بڑے گروپ اور ان کے زیادہ تر رہنما باتوں کے بادشاہ ہیں۔ عام آدمی کو موبلائز کرنے یا دیہات میں جاکر مشکل حالات میں کام کرنے کے بجائے ڈرائنگ روم کی سیاست پر اکتفا کرتے ہیں۔بشیر قریشی نے باتوں کی بادشاہی کے بجائے عمل کے میدان کو منتخب کیا اور یوں لوگوں کے درمیاں پلتھی مار کر بیٹھنے والا بڑے بڑے اکابرین اور دانشوروں سے زیادہ مقبول ہو گیا۔
 قدیم تہذیب موہن جو دڑو کے علاقے میں جنم لینے والے بشیر قریشی نے صوفیانہ اور سادہ طبیعت کے مالک تھے اور مخصوص سندھی اسٹائل میں ہاتھ جوڑ کر سلام کرکے اس شخص نے سندھ بھر میں رابطوں نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا۔ قوم پرست سیاست جواس سے قبل کارنر میٹنگز، ہوسٹلوں کے کمروں یا قومی کارکنوں کے اوطاقوں تک محدود تھی اسے وہاں سے سے نکال کرپہلی مرتبہ سڑکوں پرلے آیا۔وہ احتجاج کو  جلسوں سے آگے لے گئے اور احتجاج کی نئی شکل دھرنوں کی سیاست کوسندھ میں متعارف کرایا۔ دھرنوں کے باعث وہ صوبے میں خواہ ملک میں توجہ کا مرکز بن گئے۔ لوگوں کو موبلائز کرنے اور مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اور انہوں نے ان دھرنوں کے ذریعے بعض مقامی مسائل بھی حل کرائے۔
 پانی کی قلت کا معاملہ ہو یا کالاباغ ڈیم کا منصوبہ، این ایف سی ایوارڈ ہو یا سندھ کے لوگوں کی ملازمتوں کا معاملہ ہو یامردم شماری میں ہیراپھیری۔بشیرقریشی نے شہر شہر جا کر لوگوں کومتحرک کیا۔بلاشبہ وہ سندھ کی ہم عصر قیادت میں وہ شخص تھا جن کا عوام سے سب سے زیادہ رابطہ تھااور عوام کو متحرک کیا۔
مشرف دور میں کالا باغ ڈیم کے خلاف خیرپور کے قریب ببرلوئی چوک کے مقام پرپاس دھرنا دینے جا رہے تھے تو فائرنگ کی گئی۔یہ خیرپور کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا تھا۔۔ رانی پور سے کراچی تک لانگ مارچ کیا۔وہ ان لیڈروں میں سے نہیں تھے جو پیدل لانگ مارچ کرنے والے کارکنوں کو چھوڑ کر خود لینڈ کروزر پر شہر سے باہر آکے مارچ میں شامل ہوتے تھے۔ پنجاب کی سرحد سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ کیا تو ان کے پاؤں میں چھالے تھے۔ سندھ کے مختلف اشوز پر زبردست تحریک چلائی۔کئی مرتبہ سندھ پنجاب بارڈر پر دھرنا دیا۔اور پنجاب کی طرف جانے والی ٹریفک کو بلاک کیا۔کموں شہید کے پاس کالاباغ ڈیم کے خلاف بینظیر بھٹو کے ساتھ دھرنا دیا  اور بینظیر نے انہیں تقریر کے لیے بلایا۔ چھوٹے بڑے شہروں میں دھرنے دیئے۔مختلف شہروں سے کراچی تک لانگ مارچ کئے۔
سندھ میں قبائلی جھگڑے روز کا معمول ہیں۔ یہ جھگڑے ہر ماہ کئی انسانی جانیں نگل جاتے ہیں۔کئی مقامات پر یہ جھگڑے معیشت، تعلیم اور عام سماجی زندگی پر برے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ان قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے کاروکاری پر عورتوں کا قتل اور بعد میں ان قتل کا فیصلہ جرگے کے ذریعے کرنا خاصا عام تھا۔انہوں نے قبائلی جھگڑوں اور خون خرابے کو روکنے کے لیے منت سماجت ”منتھ میڑ“ قافلوں کی رویت ڈالی۔وہ ْرآن مجید اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا مجموعہ لے کر پہنچے اور فریقین کو راضی نامہ کرنے پر قائل کیا۔یہ ایک سوشل ورک کی فیلڈ تھی لیکن اس کو انہوں نے سیاست کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔
عام طور پر قوم پرست سیاست کا مرکز حیدرآباد رہا ہے۔ جہاں مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما موجود بھی ہوتے ہیں اور انکے دفاتر اور انکی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔بشیرقریشی پہلے قوم پرست لیڈر تھے جنہوں نے نہ صرف کراچی میں سیاسی مقصد کے لیے رہائش اختیار کی بلکہ کراچی کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔انہوں نے کئی شہروں سے کراچی تک کا مارچ کیا۔ کراچی میں ہر سال بڑی بڑی ریلی نکالنا ضروری قراردیا۔
 بنیادی طور پرزراعت کے طالبعلم سیاست کی طرف آئے، مگر وہ کوئی بہت زیادہ کتابیں پڑھنے والا نہیں تھا۔مگر جذبہ اور سچائی ان کے لیے رہنمائی تھے۔یوں کہیئے کہ علم پیچھے رہ گیا اور عمل آگے نکل گیا۔وہ اتنی بڑی ریلیاں نکالتے تھے تو یہ علم کا نہیں عشق کا کارنامہ تھا۔
بشیر یاروں کا یار تھا۔ کارکنوں سے ذاتی تعلق اور وابستگی ان کی کامیابی کا سبب بنی۔ روپوشی کے زمانے میں وہ گاؤں گاؤں گئے جس نے ان کے طریقے کار کو نیا رخ دیا۔ اور کامیابی کی بھی وجہ بنی۔ 
وہ پارلیمانی سیاست سے دور رہے۔ نہ کسی کو انتخابات کا آسرا نہ اقتدار میں حصہ پتی کی لالچ۔اس کے باجود خاصی مقبولیت حاصل کی جو ابھی تک کسی قوم پرست سیاستداں کا صرف خواب ہی ہو سکتا ہے۔
 سیاست بڑی عجیب چیز ہے۔ خاص طور پر آج کے دور میں۔ تھوڑی مقبولیت کے بعد لیڈر کے گردن میں بل آجاتا ہے۔ مگر اتنی بڑی مقبولیت کے باوجود انکا  نہ کوئی پروٹوکول نہیں۔ ہر وقت کارکنوں کے درمیان ہوتے تھے۔بشیر کی ایک اور خصوصیت عدم تشدد تھا۔انہوں نے کراچی میں 23مارچ کو جو آخری ریلی نکالی اس میں کوئی ہتھیاروں کی نمائش نہیں تھی۔ورنہ کراچی میں سیاست بغیر ہتھیاروں کے کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔
 بشیر قریشی نے سیاست کرنے کا عوامی ڈھنگ اپنایاجو یا تو تحریک آزادی کے دوراں رہنماؤں نے اختیار کیا تھا یا پھر کمیونسٹوں کا تھا۔ یعنی نچلی سطح پرجا کر کام کرنا۔یہ وہ خصوصیات تھیں جس کی وجہ سے بشیر قریشی منفرد اور مقبول لیڈر بنے۔