Wednesday, 11 March 2020

ساتویں مالیاتی ایوارڈ سے پیچھے ہٹنے کی تیاریاں - Jul 18, 2013

 Thu, Jul 18, 2013 at 10:59 AM
ساتویں مالیاتی ایوارڈ سے پیچھے ہٹنے کی تیاریاں 
 میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی
ابھی اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمدکا انتظار تھاکہ اسلام آبادسے یہ کوشش  شروع ہو کر رہے ہیں کہ اس ترمیم کے تحت بعض محکموں اور وسائل کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی کسی طرح سے روک دی جائے۔ اور ساتویں مالیاتی ایوارڈ کو تبدیل کیا جائے۔ایسا کیوں کیا جارہاہے؟ سندھ میں یہ سوال  کیا جارہا ہے۔ اسکی وجہ ایک مرتبہ پھر  وفاقی اداروں میں پنجاب کی  اجارہ داری کی حد تک بالادستی ہے یا  وفاق اپنی پرانی سوچ پر اتر آیا ہے۔یا کوئی تیسرا سبب ہے۔کچھ بھی ہو یہ کوششیں کوئی اچھا شگون نہیں۔ 
 پاکستان میں بعض حلقے اس صورتحال کو سیاسی مظہر قرار دے رہے ہیں۔ اختیارات اور وسائل کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی صرف  پاکستان کا مظہر نہیں۔ انڈیا میں بھی مرحلہ وار ایسا کیا گیا ہے۔ جہاں اگرچہ پہلے ہی صوبوں کو زیادہ اختیارات تھے۔  دراصل یہ بدلے ہوئے حالات  میں وقت کی ضرورت ہے۔
 اسلام آباد اور لاہور کے کچھ تھنک ٹینک اخباری  کالموں  اور سرکاری حلقوں میں یہ مہم چلا رہے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بہت زیادہ اختیاراتا ور  وسائل دے دیئے گئے ہیں۔ اگر مکمل طور پر عمل کیا گیا تو وفاق کے پاس نہ اختیارات بچیں گے اور نہ ہی وسائل۔ ان حلقوں کی یہ بھی دلیل ہے کہ وفاق کی لسٹ جو مشترکہ مفادات کی کونسل کے دائرے میں دی گئی ہے اس سے اس ادارے کی الگ بادشاہت قائم ہوگئی ہے۔ اس سے اس ادارے میں ہمیشہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان دنگل رہے گا۔ ان حلقوں کو اٹھارہویں ترمیم اور مشترکہ مفادات کی کونسل کا رول کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔ مگر اس ترمیم کو ختم کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ آئینی معاملہ ہے۔ اب ان کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ پروسیجرل طریقے سے کچھ چیزوں کو تبدیل کریں کچھ کو روکیں۔ ان حالات میں مشترکہ مفادات کی کونسل اور اسکے ممبران  کی رائے، صلاحیت اور اہلیت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ 
 عملی طور پر مشترکہ مفادات کی کونسل کی تصدیق یا منظوری کے بغیرپاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مجوزہ قرضہ حاصل نہیں کرسکتا۔نواز شریف حکومت نے آئی ایم ایف سے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت یہ ادارہ پاکستان کو 5.3 ارب ڈالر کا قرضہ دے گا جس سے مالی بحران سے نکلنے کے لیے پاکستان کی ضمانت ہو جائے گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ قرضہ پرانا قرضہ اتارنے کے لیے لیا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری سے پہلے پاکستان کو بعض شرائط پوری کرنی ہیں اور یہ شرائط مشترکہ مفادات کی کونسل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ 
آئی ایم ایف کا خیال ہے یا اسلام آباد نے اسے بانور کرایا ہے کہ ساتویں این ایف سے ایوارڈ کے بعد وفاق کے پاس مالی اختیارات اور مالی وسائل نہیں ہیں۔ لہٰذا وہ مالی ضابطہ(فنانشل ڈسپلن)بھی نہیں قائم کرسکتا۔ اس لیے  آئی ایم ایف اس سے معاہدہ نہیں کرسکتا۔اس لیے عالمی مالیاتی ادارہ چاہتا ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل یہ وعدہ کرے۔ یعنی وفاقی حکومت جو معاہدہ کر رہی ہے اس کی تصدیق کرے۔
 آئی ایم ایف کے نئے شرائط میں مالی ڈسپلن، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، صوبوں کو اپنے  مالی وسائل پیدا کرنا، فضول اخراجات اور کم ترجیح والے منصوبے ختم کرنا اور وسائل کی عدم مرکزیت کے لیے مضبوط فریم ورک جوڑنا شامل ہے۔ 
اس آپشن  کے وکیل کہتے ہیں کہ ساتویں این ایف سی یوارڈ کی بڑی خامی یہ ہے کہ یہ بڑے سطح پر معاشی استحکام نہیں لاسکتا۔چونکہ مرکز کے پاس وسائل کم  ہیں  تو اسکا  رول مالی استحکام  میں بھی کم بنتا ہے۔ آئی ایم ایف کا پروگرام تب تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک مالی استحکام نہیں قائم ہوگا۔مالیاتی کنٹرول درست نہیں ہوگا۔
 تعجب کی بات ہے کہ کبھی عالمی ادارے کہتے ہیں کہ اختیارات اور وسائل  کی مرکزیت ختم کرو۔ اور یہ دونوں چیزیں بلکل نچلی سطح پر منتقل کرو۔اس کے لیے لمبے چوڑے دلائل دیئے جاتے رہے ہیں اور متعلقہ اداروں کے افسران کی ٹریننگز بھی کی جاتی رہی ہیں اور ان کی سوچ  بھی تبدیل کی جاتی رہی ہے۔ اب کہا جارہاہے کہ واپس مرکزیت لے آؤ۔ اور یہ بھی کہ وسائل کی منتقلی بہت زیادہ اور بہت تیز ہوئی ہے۔  آئیڈیا یہ ہے کہ مجموعی طور پر مالی خسارہ کم کیا جائے اور مالی ضابطہ نافذ کیا جائے۔ صوبوں کو فیصلے میں شامل کرنا  اس لیے بھی ضروری کہ واسئل  ان کے پاس ہی ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تومرکز اکیلاکچھ نہیں کرسکے گا۔
یہ دلیل بھی دی جاتی رہی ہے کہ موجودہ مالیاتی ایوارڈ کی موجودگی میں ملک میں مالی ڈسپلن قائم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا آئی ایم کی شرائط پوری کرنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے ورنہ قرضہ نہیں ملے گا۔
2010ع سے لاگو این ایف سی ایوارڈ  کے بعد بڑی لیول پر معاشی استحکام صوبوں کی ذمہ داری بن گئی ہے۔چونکہ وسائل ان  کو منتقل کردیئے گئے ہیں۔ اب صوبائی حکومت کی مدد اور حمایت کے بغیروفاقی حکومت روینیو کا ٹارگیٹ حاصل نہیں کرسکتا۔ اس لیے آئی ایم ایف کے معاہدے کی مشترکہ مفادت کی کونسل سے منظوری ضروری ہے۔ دوسرے لفظوں میں صوبوں کی منظوری یا رضامندی ضروری ہے۔ 
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت2010میں صوبوں کو   56 فیصد اور 2011-12 میں 57.5فیصد وسائل ملے۔  
صوبوں پر یہ بھی الزام ہے کہ اتنے وسائل انکو دیئے گئے ہیں ان وسائل کو سنبھالنا اور ٹھیک سے استعمال کرنے کی ان میں اہلیت اور صلاحیت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ صوبوں کے پاس مالی ڈسپلن قائم کرنے کا مکینزم بھی مضبوط نہیں۔ لہٰذا وسائل کے زیاں کا اندیشہ ہے۔
اہلیت، صلاحیت یا مالی ڈسپلن کی بات صحیح بھی ہوسکتی ہے۔ اگر سندھ کا تجربہ سامنے رکھیں۔ صوبائی بیوروکریسی میں حکومت نے سفارشی اور اقربا پروری  کی بنیاد پر ایسے  افسران فیصلہ سازی اور عمل درآمد کی  کلیدی پوزیشنوں پربٹھائے ہیں جن میں نہ پروفیشنلزم ہے، نہ تجربہ اور اہلیت۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ چارون چیزیں سیکھنے  یا حاصل کرنے کا جذبہ بھی نہیں۔ اس کے برعکس یہ صرف مال سمیٹنے کے لیے آئے ہیں۔ صوبائی حکومت سیاسی مصلحت کے بے وزن دلیل کا شکار ہے۔ جس نے  پورے صوبے کے عوام کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے آؤٹ آف ٹرن ترقیاں، تقرر، نان کیدر کو کیڈر میں ضم کرنے اور سندھ سول سروسز رولز میں تبدیلی اس بات کی گواہی دیتی ہے۔ 
گزشتہ تین سال کے دوران سندھ حکومت وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سالنہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص رقم کا پچاس فیصد بھی خرچ نہ کرسکی۔دیکھا جائے تو حکومت  کے دوستیاں نبھانے اور میرٹ کو کچلنے  کے اقدامات اب صوبائی خودمختاری، اور صوبوں کے وسائل کی منتقلی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انیس بیس دوسرے صوبوں میں بھی یہ صورتحال ہوگی۔
معیشت دانوں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بے پناہ وسائل ملنے سے صوبوں میں اپنے وسائل پیدا کرنے اور مالیاتی ضابطہ قائم کرنے کی خواہش اور مجبوری دونوں ختم ہو گئی ہیں۔ اب صوبے اپنے وسائل پیدا نہیں کر رہے ہیں۔اور وفاق سے ملنے والے حصے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ 
 منصوبہ بندی کے وفاقی ماہرین کا خیال ہے کہاین ایف سی ایوارڈ مالی  بے ضابطگیوں اورmacroلیول کے معاشی عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ جس کو سنبھالنا مشکل ہ و رہا ہے۔ممکن ہے کہ ایسا ہو۔ مگر یہ سب عبوری دور ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرے کا اس کا میکنزم پیدا ہوگا۔ جب وسائل آئیں گے تواس کو استعمال کرنے یا سنبھالنے کی اہلیت  اور تجربہ آئے گا۔دیکھاجائے تو یہ معاملہ گورننس سے منسلک ہے۔چونکہ مجموعی طور پر گورننس کی حالت خراب ہے اس مالیاتی شعبہ بھی  اس کی لپیٹ میں ہے۔ لہٰذا یہ قرار دینا غلط ہوگا کہ این ایف سی ایوارڈ  معاشی ضابطے یا معاشی استحکام سے ٹکراؤ میں ہے۔ 
لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کے ضمانت والے قرضے کی آڑ میں اٹھارہویں ترمیم سے پیچھے ہٹنے اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل کرنے کے جتن  کئے جارہے ہیں اور ایک بار پھر غیر محسوس طریقے سے مرکزیت کو بحال کیا جارہا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آئی ایم ایف کی فرمائش نہ ہو اور وفاقی بیوروکریسی نے آئی ایم ایف کو اس طرح کی تصویر دکھائی ہو، جس کے بعد اس معاملے کو اٹھایا جارہا ہے۔ 
اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ صوبوں کے پاس capacity  نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب ان کو وسائل ملیں گے تو اپنے پاس گنجائش اور صلاحیت دونوں پیدا ہونگی۔ اس صورتحال کی آڑ میں صوبوں سے وسائل اور اختیارات  چھیننا  پہیئے کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔

لیاری سے انتقال آبادی - Jul 14, 2013

Sun, Jul 14, 2013 at 11:19 PM
لیاری  سے انتقال آبادی
سہیل سانگی
پورے سندھ کونقل مکانی  درپیش ہے۔ تھر میں جب قحط پڑتا ہے تو چالیس فیصد سے زیادہ آبادی نقل مکانی کرتی ہے۔ گزشتہ دو سال کی بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے ساٹھ فیصد سے زائد آبادی کو نقل مکانی  کرنی پڑی۔ ان میں سے ہزاروں افراد آج تک  اپنے آبائی گاؤں نہیں لوٹ سکے ہیں۔ اب میٹروپولیٹن شہر کراچی میں کی قدیم بستی لیاری سے کچھی برادری کے ہزاروں افراد کو گینگ وار اور لاقانونیت سے تنگ آکر اپنے گھر چھوڑ کر ٹھٹہ، بدین، ٹنڈومحمد خان، جھڈو وغیرہ میں پناہ حاصل کرنی پڑی۔ عجب کہانی ہے۔ کراچی دنیا بھر کے بھگوڑوں اور بھٹکتے لوگوں اپنے اندر پناہ دیتا ہے۔ مگر آج اس شہر کے قدیمی باشندے زیر عتاب ہیں۔

سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کے گڑھ اس علاقے کی یہ بھی پہچان رہی ہے کہ نصف صدی تک قومی حقوق اور جمہوری تحریک میں بھرپور کردار ادا کرتا رہا  اور اسی بستی نے کئی نامور ترقی پسند دانشور اور سیاسی کارکن پیدا کئے۔ مگر اب لیاری کا پروفائل بدل رہا ہے۔جرائم، مار  ا ماری،  اور عدم برداشت  اسکی پہچان بن گئی ہے۔اب تو اس میں نقل مکانی کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔پیپلزپارٹی کی حکومت اس لیاری کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو سمجھنے اور اس کا احساس کرنے میں ناکام رہی۔کوئی سیاسی اور انتظامی اقدامات نہیں کئے گئے۔اب یہاں گینگ اور اور لاقانونیت کی وجہ سے لوگ خود کو سیاسی اور سماجی طور پر غیر محفوظ اور لاوارث سمجھنے لگے ہیں۔
لیاری بلوچوں، کچھیوں اور سندھیوں کی ملی جلی آبادی کا علاقہ رہا ہے جہاں بلوچوں کی اکثریت ہے۔مگر ان  کے درمیان نسلی یا لسانی ٹکراؤ نہیں ہوا۔ کبھی اگر کوئی چھوٹا موٹا ذاتی یا گروہی ٹکراؤ ہوا بھی توبرادریوں کے معززین  مل بیٹھ کر اسکو حل کرتے تھے اور متحارب گروپ واپس شیر وشکر ہوجاتے تھے۔ مگر  لاقانونیت  اور حکومت کی نااہلی ہی نہیں بلکہ کوتاہی اور ناکامی نے اس بستی کو مافیاؤں کی گود میں پھینک دیا ہے۔اب روایتی بندھن ٹوٹ چکے ہیں۔ جھگڑوں اور ٹکراؤ کو حل کرنے کے برادرانہ طریقے ختم ہو چکے ہیں۔ 

تاریخی طور پر سندھ اور کچھ کے علاقے کے  قدیمی تعلقات رہے ہیں۔ اور وہاں کی آبادی سندھ میں آکر آبادہوتی رہی ہے۔ کچھیوں کی بڑی آبادی1850 سے1940 کے درمیان سندھ میں آئی۔  اور سندھ کے مختلف شہروں میں آباد ہوئی۔ کچھی برادری کاایک حصہ قیام پاکستان کے بعد بھی آیا۔ان کی زبان اور ثقافت وہی ہے جو سندھ کی ہے۔آج بھی انڈیا کے کچھ بھوج کے علاقے  کے لوک گیت سندھی میں ہی ہیں۔کچھی برادری کی ذاتیں ہنگورو، سومرو، نہڑے، راہموں، کمبھر، وغیرہ ہیں۔ یہی سندھ کے زیرین علاقے  میں بھی ہیں۔ کراچی میں آباد کچھیوں کو شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری، سندھی لوک ادب اور کہانیاں اسی طرح یاد ہیں جس طرح سندھ کے کسی آدمی کو ہوسکتی ہیں۔ استاد محمد ابراہیم، عبداللہ کچھی اور دیگر گائکار سندھی کے بڑے فنکار بھی اسی کمیونٹی سے پیدا ہوئے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ادبی  خواہ سرکاری حلقوں نے کراچی میں رہنے والی اس لسانی آبادی کو سندھی ثقافت کا حصہ بنانے کی کئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔یہی صورتحال سیاسی، سماجی حوالے سے بھی رہی۔ 

 اس کے علاوہ کراچی میں رہائش، وہاں مارکیٹ کی زبان،  اور وہاں کے رہن سہن نے کچھی برادری کو سندھی ثقافت کا حصہ بننے میں رکاوٹ پیدا کردی۔مہاجر غیر مہاجر کی لسانی سیاست اور لیاری میں لاقانونیت  نے انکو مجبور کردیا کہ وہ اپنی الگ شناخت کرائیں۔کراچی جہاں فتح کرنے اور کنٹرول کرنے کی جو مسلح جنگ چل رہی تھی کچھی برادری بھی اس جنگ میں چلی گئی۔ 

کچھی برادری کی تنہائی نے کراچی میں ایک اور لسانی گروہ کو ابھارا۔ورنہ یہ گروہ سندھ اور بلوچ آبادی کا حصہ تھا۔شمالی سندھ قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے بٹا ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جو سیاسی، سماجی، انتظامی اور ترقی کے حوالے سے پیچیدگیوں سے ہرکوئی بخوبی واقف ہے۔مگر کراچی جو اس سے پہلے لسانی کی سیاست کی وجہ سے مہاجر اور غیر مہاجربنیاد پر بٹا ہوا تھا مگر بلوچ سندھی اور کچھی ایک مشترکہ فریق کے طور پر تھے۔ان میں تضاد پیدا ہوگیا ہے۔یہ تضاد کراچی کے پرانے باشندوں اور مجموعی طور پر سندھ  کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ یہ ایک اور بڑی تقسیم ہے،جو پرانے باشندوں کی صفوں میں ہورہی ہے۔لیاری کو سیاسی اور انتظامی طور سنبھالینے میں ناکامی کی وجہ ایم کیو ایم نے اپنی جگہ پیدا کی۔ اطلاعات کے مطابق کچھی برادری کے ایک حصہ کی ایم کیو ایم  سے قربت ہوگئی ہے۔

دراصل کراچی کے میٹروپولیٹن شہر سے ایک ہی لسانی گروہ  کے ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی حکومت کی ناکامی کا ثبوت تو ہے ہی مگر اسکے ساتھ ایک انسانی المیہ پیدا ہوگیا ہے۔

صوبائی حکومت اور پیپلز پارٹی جس کی حکومت ہے اور لیاری جس کا حلقہ انتخاب بھی ہے اس نے اس ضمن میں کوئی موثر اقدامات نہیں کئے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ حکومت اپنے سیاسی خواہ انتظامی و انٹیلیجنس نیٹ ورک کے باوجود اس امر سے بے خبر رہی کہ ہزاروں افراد ایک ہی علاقے سے ایک ہی کمیونٹی کے نقل مکانی کرنے والے ہیں۔پشیگی معلومات نہ رکھنا حکومت کی نااہلی پر ایک اور ٹھپہ ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایسے حالات کے باوجودپیپلز پارٹی کو اپنی صفوں میں نہ تین سال قبل اور نہ اب کوئی ایک شخص ایسا ملا جس کو محکمہ داخلہ کا قلمدان دیا جاسکے۔ 

 حال ہی میں جب نقل مکانی ہوئی توایسے افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا اس معاملے نہ تعلق ہے، نہ مہارت اور ویزن ہے۔وزیر قانون سکندر مندھرو کا کسی حد تک تعلق بنتا ہے کہ ان کی کچھی برادری سے تعلق داری ہے۔ باقی تین افراد کی نہ لیاری میں، نہ حکومت میں اور نہ ہی عام لوگوں میں کوئی  سے ہے۔ جس کو دیکھتے ہوئے لوگ ان کی بات مان لیں یا ان کی سفارشوں کو وزن مل سکے۔ لگتا ہے کہ حکومت نے خانہ پوری کے لیے کمیٹی بنائی ہے۔ 

کمیٹی کے ممبران جب متاثرہ افراد سے ٹھٹہ اور بدین میں ملے تو  تو انہوں نے حکومت کی طرف سے جاری کردہ پانچ  پانچ  ہزار روپے فی خاندان کی امداد لوٹا دی۔وزیرقانون کے ضلع بدین میں چاول کی دیگیں پکا کر متاثرین کو دی گئیں تو انہوں نے کہا کہ ہمیں چاول نہیں چاہئے، امن چاہئے تاکہ ہم واپس گھروں کو جاسکیں۔ سکندر مندھرو کے ہی ضلع میں متاثرین نے ایک درگاہ کے پاس کیمپ لگا کر پانہ لینے والے متاثرین کو انتظامیہ  نے اٹھادیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کمیٹی کتنی موثر ثابت ہوگی۔ 

اس صورتحال میں وفاقی حکومت کو بھی موقعہ مل گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے وفاقی سیکریٹری داخلہ اور انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کو کراچی بھیجا کہ وہ صورتحال کے بارے میں رپورٹ پیش کریں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران وفاقی حکومت تین مرتبہ تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کہ چکے ہیں کہ اگرچہ امن وامان وبائی معاملہ ہے مگر انہیں موقعہ دیا جائے تو وہ حالات ٹھیک کرسکتے ہیں۔چوہدری نثار علی خان نے کیا سوچ کے یہ بات کہی ہے؟ کیا وفاق صوبائی حکومت کو ہٹاکر صوبے میں گورنر راج لاگو کرکے یا کسی دوسرے ایسے اقدام سے معاملات نمٹانا چاہ رہے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو درخواست کرے کہ وہ  اسکی مدد کے لیے آئے۔جیسا کہ نوے کے عشرے میں مظفر حسین شاہ کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔کیا چوہدری نثار وفاقی اداروں کو اس کا م میں ملوث کرنا چاہتے ہیں؟

سندھ کے معاملات خاص طور پر کراچی کے حوالے سے وفاق کی مداخلت کوئی نئی بات نہیں۔نواز شریف کی حکومت نے کراچی میں آپریشن کیا۔اس کے بعد بینظیر بھٹو کے وزیر داخلہ جنرل نصیراللہ بابر نے ڈنڈا گھمایا۔مشرف دور تو ویسے بھی وفاق کا ہی تھا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک وفاق کے نہیں بلکہ سندھ کے وزیرداخلہ تھے۔ ویسے بھی سندھ حکومت کو  توفیق نہیں ہوئی کی کسی کو وزیرداخلہ مقرر کرتی۔

 ان روایات کو دیکھتے ہوئے اگر نواز شریف حکومت ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے دو تین بار سوچنا چاہئے۔ کیونکہ کسی ایک صوبے میں عدم استحکام صرف اس صوبے تک محدود نہیں رہتا۔اگر زلزلے کا مرکز کراچی بنتا ہے تو اسلام آباد بھی اسکے جھٹکوں سے بچ نہیں سکے گا۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے گزشتہ حکومتوں میں یہ تجربے ہم دیکھ چکے ہیں۔ 

سیکیورٹی پالیسی - Jul 11, 2013

 Thu, Jul 11, 2013 at 11:29 AM
سیکیورٹی پالیسی 
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی  
ابھی قومی سلامتی پالیسی مرتب کرنے کے لیے حکومت مشاورت کر رہی تھی کہ میڈیا نے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ”لیک“ ہوگئی۔اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد نئی قومی سلامتی پالیسی بنانے کی  اہمیت اور بھی بڑھ گئی  ہے۔ نئی  قومی سلامتی پالیسی بنانا کوئی آج کی بات نہیں۔18 دسمبر 2008ع کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے مشیر برائے امور داخلہ  رحمان ملک نے ایوان کو بتایا تھا کہ حکومت نئی نیشنل سیکیورٹی پالیسی مرتب کرنے جارہی ہے۔ جو نئے چیلینجز کا مقابلہ کر سکے۔تب مسلم لیگ (ن) کے لیڈر احسن اقبال نے رائے دی کہ سعودی ماڈل  پر سیکیورٹی پالیسی بنائی جائے۔رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حکومت سری لنکا کی پالیسی کا بھی مطالعہ کر رہی ہے۔ اس بات کو پانچ سال ہو گئے۔ مگر کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی۔
 مسلم لیگ (ن) حکومت نئی قومی سلامتی پالیسی مرتب کرنے جا رہی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق  ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس پر سیاسی اور عسکری قوتوں سے مشاورت کی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ  چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ پارلیمان میں نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر بحث کی جائے گی اور اس اجلاس میں آرمی چیف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہوں اور چاروں وزراء اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ہے۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے یہ کہہ کر  اس اجلاس میں شرکت  سے معذوری ظاہر کی کہ وہ ان دنوں بیرون ملک ہونگے۔ تاہم ان کی غیر موجودگی میں  پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ان کی نمائندگی کریں گے۔ اب حکومت  نے قومی سلامتی پالیسی پر مجوزہ کل جماعتی کانفرنس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔
 حیرت کی بات ہے کہ ایک عرصے سے   جاری شدت پسندوں  کی کارروایوں نے ملک کومعاشی خواہ سیاسی حوالے سے تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے، ہماری سیکیورٹی کو درپیش ان سنگین چیلینجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی مربوط پالیسی نہیں۔ 
یہ اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت جاگ اٹھی ہے اور وہ نئی نیشنل سیکیورٹی کی پالیسی مرتب کرنا چاہ رہی ہے۔کیا یہ حکومت ایسی مربوط اور موثرپالیسی بنا پائے گی جو ملک کی سلامتی کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو اب گڈمڈ ہوگئے ہیں ان کا سدباب کرسکے؟ اس پالیسی میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز سیاسی، فوجی قوت کے علاوہ بعض خارجی یا بیرونی اثرات بھی رہے ہیں۔ان سب کی رائے کو کس طرح سے سمویا جائے گا یہ بہت بڑا چیلینج ہے۔
قیام پاکستان سے لیکر قومی سلامتی کا معاملہ فوجی اسٹبلشمنٹ کا دائرہ کار رہا ہے۔ اب تک  جو پالیسی یا حکمت عملی  رائج رہی ہے  اسکا بنیادی نقطہ بیرونی خطرات رہے ہیں۔اب بھی روایتی پالیسی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ جاری ہے۔ مخلف حلقوں میں  یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ نئی پالیسی کا فوکس بھی  اسی طرح سے رہے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا تبدیل شدہ حالات میں ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس کی وجہ سے بعض موقعوں پر سیکیورٹی سسٹم کی ناکامی سامنے آئی ہے۔
 ملک کو سیکیورٹی کے سے مختلف النوع مسائل درپیش ہیں جودراصل ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ دہشتگردی اور شدت پسندی کو امن امان کا مسئلہ قرار دے کر اس سے محدود طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ایک جامع حکمت عملی بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی جس میں دفاع، خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسیوں کا امتزاج ہو۔یہ تینوں اجزاء نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے انتہائی اہم ہیں۔ ملک کو دہشتگردی، بغاوت اور انتہاپسندی کے خطرات سامنا ہے۔ فاٹا،  خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟اس کے اسباب، محرکات اور طریقہ کار کو نظر میں رکھنا ہوگا۔
 اب ضروری ہوگیاہے کہ ایک موثر اور مربوط سیکیورٹی پالیسی بنائی جائے۔بیرونی خطرات اپنی جگہ پر پر معاشی بحران اور سیکیورٹی کے کمزور ہونے کے معاملات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔یہ حقائق بھیزیر نظر ہونے چاہئیں کہ متواتر عدم استحکام نے معاشی ترقی کو  توڑ کے رکھ دیا ہے۔ داخلی طور پر ہنگاموں کی وجہ سے قانون کی حکمرانی تیزی سے سکڑ رہی ہے۔کئی علاقوں پر حکومت کا کنٹرول کم ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر کراچی لاقانونیت کا شہر بنا ہوا ہے۔روز ایک درجن افراد کا قتل معمول ہے۔یہاں مسلح گروہ ا پنی  بالادستی  کے لیے لڑ رہے ہیں۔اور انہیں مختلف پارٹیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔دوسری طرف ملک  کی پہچان جہادیوں کی نرسری کے طور پرہوگئی ہے جس سے نہ صرف  خود ملک کو بلکہ علاقے کی  استحکام کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ہمارا ملک عرب  ممالک اور ایران  کے بیچ میں پراکسی جنگ کا ایک عرصے تک مرکز رہا۔ جس سے فرقہ واریت کو ہوا ملی۔ خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق بعض بنیاد پرست گروپ جہادی بھرتی کر رہے ہیں جو شامی باغیوں کے ساتھ ملکر لڑیں گے۔ یہ وہ علامات ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ریاست اپنا کنٹرول کھو رہی ہے۔  

پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت  نے تین  نکاتی غیر حقیقی فارمولا  ترقی، کچلنا اور مذاکرات متعارف کرایا۔ یعنی  الجھے ہوئے تضادات یا بحرانوں کو سمجھے بغیر کچلنا۔ یہ مشرف کی پالیسی کا تسلسل تھا۔ ہم اپنے ہاتھوں سے پیدا کئے ہوئے بحرانوں کو تسلیم کرنے کے عادی نہیں ہیں لہٰذا ہم غیرملکی علاج ڈھونڈتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت چینی اور ملائشیا کے ماڈل پر پانچ نکاتی پالیسی  بنانے جارہی ہے۔ 
زمینی حقائق یہ ہیں کہ معاشی طور پر کمزور سیاسی طور پر غیرمستحکم، لسانی طور پر بٹاہوا  ملک جہاں فرقہ واریت بھی  ہے۔حکمرانوں  یہ ماڈلز کاپی کرنے سے پہلے ان عوامل کو سوچنا چاہئے تھا۔پاکستان چین کی طرح معاشی طور پرطاقت نہیں۔ اور نہ ہی  معاشی طور پر  ملائشیا کی طرح خود کفیل۔ ان دونوں ممالک  میں نہ لسانی  جھگڑا ہے اور نہ سیاسی بحران اور نہ ہی انکو انتہا پسندانہ تشدد کا تجربہ ہے۔
 بعض معاملات ملک  میں بے چینی  اور تضادات کا باعث بنے رہے ہیں، اگرآج کے اندرونی تضادات کا جائزہ لیا جائے تو یہ  بنیادی نکات بنیں گے۔ انتہا درجے کی مرکزیت، صوبوں کے درمیان تضادات اور عدم مساوات، صوبوں کے وسائل پر انکا حق ملکیت تسلیم نہ کرنا، فیصلہ سازی میں صوبوں کو دور رکھنا، مذہب کو سیاست اور حکومت کا دائرہ عمل میں رکھنا۔
 خیبر پختونخوا  اور فاٹا کے بحران اور بلوچستان کی بے چینی کومختلف پالیسی کی ضرورت ہے۔ جبکہ فرقہ واریت کو نمٹنے کے لیے  ملکی اور عالمی سطح پر کوشش لینے کی ضرورت ہے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہزاروں لوگوں کے قتل، املاک کے نقصان ہماری قیادت تسلیم نہیں کرتی کہ یہ موجودہ معاشی اور سیاسی تضاد ہے۔ 
 بلوچستان کے معاملے میں سیاسی و عسکری قوتوں کو  سب سے پہلے اس تصادم اور تضاد کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اس کو حل کرنے کے لیے بلوغت کا مظاہرہ تے ہوئے کھلے ذہن سے دیکھنا پڑے گا کہ کون کون سے آپشنز ہیں۔ اور مضبوط ارادہ کا مظاہرہ کرنا پڑے گا کہ اس کو حل کرنا ہے۔
 سندھ کا معاملہ کہیں مختلف  ہے۔ کراچی میں مختلف مافیاسرگرم ہیں، جن کے پاس اب صرف اسلح کی ہی طاقت نہیں ہے بلکہ سیاسی طاقت بھی ہے۔یہاں شدت پسندی اور سیاست آپس میں یوں گڈ مڈ ہوگئی ہیں کہ ان کو الگ کرنا اور سمجھنامسئلہ ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے صوبائی حقوق کا بھی معاملہ ہے۔
تصادم کے حل یا بحران کو حل کرنے کی دو شرائط ہیں۔ اس کومانا تسلیم کیا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ آپشنزپر غور کیا جائے۔  پالیسی  اور اپروچ میں جب اس کو سمجھنے اور اس کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا جائیگا تواس طویل بحران کو حل کرنے کی کوششیں رائگاں ثابت ہوگی۔گورننس اورترقی کے معاملات کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کی پالیسی میں یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ اس دائرے میں منتخب نمائندوں یعنی پارلیمان کی حیثیت اور بالادستی کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس حقیقت سے نہیں کترانا چاہئے کہ انتہا پسندی اور تشدد ہماری سیاسی وعسکری حکمت عملی کی غلطیوں کا شاخسانہ ہیں۔ تعمیری پالیسی یہ ہے کہ ماضی کی غلطیوں اور موجودہ بحران ساتھ ساتھ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو بھی تسلیم کیا جائے۔

دیوار سندھ: لاوارثی کی جیتی جاگتی تصویر- Jul 7, 2013

 Sun, Jul 7, 2013 at 10:52 PM
 دیوار سندھ:  لاوارثی کی جیتی جاگتی تصویر
سہیل سانگی
 یونیسکودیوار سندھ کے طور پر مشہور رنی کوٹ کو عالمی ورثہ قرار دینے کی تجویز رکھتا ہے مگردنیا کا سب سے بڑا قلعہ حکومت کی لاپروائی اور اہلکاروں کی کوتاہی کی وجہ سے لاوارثی کی  جیتی جاگتی تصویر  بنا ہواہے۔گزشتہ ہفتے اس عظیم ورثے کا دورہ کرنے  کے موقعہ ملا  تو چند چونکا دینے والے حقائق سامنے  آئے۔سیاحوں کے لیے  نہ کوئی گائیڈ اور نہ پینے کے پانی کی سہولت نہ  بیٹھنے کی جگہ موجود ہے۔ 
انڈس ہائی وے پر مشہور مقام سن سے جنوب مغرب میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے کے کارو جبل میں یہ قلعہ  ہے۔ آثارقدیمہ کے ماہرین کے مطابق  رنی کوٹ سوا بیس کلومیٹرپر پھیلا ہوا ہے دنیا کے ان قلعوں میں سے ہے جن کو ابھی تکپراسرار بناہوا ہے۔قلعہ تک رسائی کے لیے سن سے تیس کلومیٹرپختہ سڑک موجود ہے۔
اسلام سے پہلے ساسانی دور میں یہ جگہ موجود تھی۔ محمد بن قا سم کے سندھ پر حملے کے وقت یہاں بدھ مت والوں کی اکثریت تھی۔ خاص طور پر  نیرون کوٹ سیوستان۔ سیم کے قلعوں میں ان اثر تھا۔چونکہ وہ لوگ جنگ  سے نفرت کرتے تھے۔ اور برہمنوں کے تسلط  سے عاجز تھیاس لئے عربوں طرف ان کا رویہ مخالفانہ نہ تھا۔ یہاں تک کہ نیرون کوٹ کا ”شمنی“  محمد بن قاسم  کی آمد سے پہلے  ہی ابھرتی ہوئی نئی طاقت  بغداد سے پروانہ حاصل کر چکا تھا اور محمد بن قاسم کی آمد کے وقت اس پر قلعے کے دروازے کھول دیئے تھے۔
 دنیا کے اس عجیب قلعے  کے متعلق تھوڑا سا ذکر انگریزوں کی آمد   کے بعد ملتا ہے۔ بعض محققین کا اس کو ستھیوں  یا پارتھیوں کا کام قرار دییتے ہیں۔  نئی تحقیق کے مطابق  نیرون کوٹ  جس کا ذکر تاریخ میں اکثر ملتا  ہے وہ یہی قلعہ ہے۔
ساسانیوں کا یہ تعمیر کردہ یہ قلعہ فن تعمیر کا نمونہ  ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ  اور تہذیب کے کئی ادوار اپنے سینے میں چھپائے ہوئے  ہے۔ قبل مسیح کے دور کے بعد عرب فتح کا زمانہ، مغل دور اور تالپور دور میں بھی  وقت کے حکمرانوں  کے زیر استعمال رہاہے۔رنی کوٹ قلعے کے اندر  میری کوٹ اور  شیر گڑھ کے نام سے دو اورچھوٹے قلعے ہیں۔ ان دونوں چھوٹے قلعوں کے دروازے رنی کوٹ کے دروازوں جیسے ہیں۔۔ فوجی نقط نگاہ سے میری کوٹ محفوظ پناہ گاہ ہے۔ جہاں رہائشی حصہ زنان خانہ، کچھ فوج کے رکھنے کا بندوبست بھی ہے۔

 اس تاریخی مقام سے کئی تاریخی واقعات منسوب ہیں جن میں سے بیشتر پر ابھی مستند تحقیق ہونا باقی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھاس قلعہ کے اندر مختلف مقامات  سے کئی دیومالائی کہانیاں بھی منسوب ہیں۔  قلعے کے اندر مغربی  حصے سے پھوٹنے والا چشمہ ہے جس کو پریوں کا چشمہ کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ  پونم رات یعنی چاند کی 14 تاریخ کو یہاں  پریاں  نہانے آتی ہیں۔

صدیوں پرانے اس تاریخی مقام کے لیے محکمہ آثار قدیمہ خواہ سیاحت کی جانب سے کوئی بندوبست نہیں۔ بلکہ کوئی  ایک ملازم بھی مقرر نہیں جو اس قلعہ کی حفاظت تو دور کی بات نظرداری کرے۔

قلعہ اب محکمہ ثقافت کے ماتحت ہے مگر یہ محکمہ بھی اس کی وارثی نہیں کر رہا۔اتنے بڑے ورثے کی رکھوالی کے لیے محکمے کے پاس ایک بھی ملازم نہیں ہے اور یہ لاوارث بنا ہوا ہے۔ جب محکمہ آثار قدیمہ وفاقی حکومت کے ماتحت تھاتب ایک چوکیدار مقرر تھا۔ اس کے ریٹائر ہونے کے بعد کسی کو بطور چوکیدار مقرر نہیں کیا گیا۔قلعہ کا دورہ کرنے کے دوران ایسا لگ رہا تھا کہ محکمہ ثقافت کی نہ اس تاریخی مقام سے دلچسپی ہے اور نہ کوئی افسریہاں آتا ہے۔ 

مختلف دیواریں جو پہلے ہی خستہ اور زبون حالت میں تھیں ان کو گزشتہ دو سال کی بارشوں نے مزید زبون کردیا ہے۔  میری کوٹ، شیر گڑھ اور خود اصل قلعہ کی جنوبی دیوار بہت کمزور ہو چکی ہے جو کہ پوری توجہ سے مسلسل مرمت کی طلبگار ہیں۔ 

 وزیٹرس کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ سیاحوں کے لیے کوئی گائیڈ موجود نہیں۔ کوئی شیڈ ہے نہ بیٹھنے کی جگہ اور نہ  ہی واش روم وغیرہ کی سہولت ہے۔80 کے عشرے میں میری کوٹ میں ضلع کونسل نے  ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا تھا۔ جو  اب زبون حال ہے، اس کی چھت گر چکی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس کے باوجود درجنوں سیاح آتے ہیں۔

رنی کوٹ کے اندر حکومت نے میری کوٹ تک پختہ سڑک تعمیر کرائی تھی۔ یہ روڈ تو ٹوٹ چکا ہے مگر اس پر  دو پلیں جو برساتی نالے کو کراس کرتی ہیں دس سال سے زیر تعمیر ہیں۔ اور باقی 80 یا 85 فٹ تعمیر باقی ہے جہاں پر یہ کام روک دیا گیا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار اور حکومت کے درمیان تنازع کے بعد معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔  نہ عدالت سے فیصلہ آرہا ہے۔ نہ  حکومت کوئی پیش رفت کر کے معاملے کو نمٹا رہی ہے۔ 

قلعہ کے اندرناجائز تجاوزات ہونے لگی ہیں۔مقامی آبادی ٹریکٹر گھما کر سائٹ کو نقصان پہنچا  رہی ہے۔  میری کوٹ کے قریب زیر تعمیر پل کے پاس بدھ دور کی سائٹ پر دو کمرے تعمیر کئے جارہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر ایک مقامی باثر شخص ہوٹل تعمیر کرنا چاہ رہا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے محکمہ کسی کو 500 فٹ زمین بھی دینے کے لیے تیار نہیں مگر غیرقانونی طور پر لوگ کئی ایکڑ پر قبضہ کر رہے ہیں۔

میری کوٹ سے مغرب میں گبول قبیلے کا ایک گاؤں قلعے کے اندر واقعہ ہے۔  یہ لوگ یہاں پر چھوٹی موٹی کاشتکاری بھی کرتے ہیں۔

میں نے نئے سال کے سندھ بجٹ کے صفحے پلٹ  کے دیکھا مگرسالانہ ترقیاتی پروگرام میں رنی کوٹ کا نام تک نہیں تھا۔حالانکہ صوبے میں تین محکمے ثقافت،  قومی ورثہ اور سیاحت ایک جیسا ایجنڈا لیے کام کر رہے ہیں۔ لیکن  ان محکموں کے ذمہ داران کو رنی کوٹ نظر نہیں آتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ  اس حیرت انگیز مقام  کو نیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست شامل کرنے کے لیے مطلوبہ چیزیں مکمل کی جائیں اور اس ورثے کو محفوظ کرنے اور اسے مزید نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کئے جائیں 

سندھ میں انتظامی افراتفری - Jul 4, 2013

Thu, Jul 4, 2013 at 7:40 AM
سندھ میں انتظامی افراتفری
میرے دل میرے مسافر 
 سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا پہلا مہینہ سخت گزرا اس سے لگ رہا ہے کہ گزشتہ دور  حکومت پارٹی کو گلے پڑا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مئی کو عہدے کا حلف اٹھایا۔ اور اس کے بعد سات رکنی کابینہ تو تشکیل دی مگروزراء کو قلمدان نہیں حوالے کئے گئے۔ تین ہفتے تک  ساتوں وزراء بے قلمدان رہے۔ اس بارے میں سندھ حکومت اور پارٹی دونوں کوئی قابل  فہم توضیح نہیں دے سکے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کا انتظار کر رہی تھی۔ بلکہ ابھی تک بھی کررہی ہے۔ جبکہ دوسری رائے یہ تھی کہ پارٹی اندرونی اختلافات کی وجہ سے نہ کابینہ مکمل کر سکی ہے اور نہ ہی کئی ہفتوں تک وزراء کو قلمدان دے سکی ہے۔ پارٹی نے کسی اندرونی اختلافات کی تردیدکی۔ اس عرصے کے دوران  پچاس سے زائد محکمے وزیر اعلیٰ  سندھ کی زیر نگرانی رہے۔ جس کی وجہ سے انتظامی امور اور روز مرہ کی فیصلہ سازی تعطل کا شکار رہی۔صوبے میں انتظامی افراتفری قابل دید تھی۔ یہ صورتحال بڑی حد ابھی بھی جاری ہے۔ صرف سات محکموں کو وزراء مل سکے ہیں باقی تمام محکمے بغیر وزیر کے چل رہے ہیں۔  
اگرچہ پیپلز پارٹی اکثریت میں تھی مگر اس کے باوجود  پہلے روز ہی سے پارٹی نے ایم کیو ایم  حکومت کو حکومت میں شمولیت دی۔ جس کا تاحال یہ جماعت کوئی مثبت جواب نہیں دے سکی ہے۔ سندھ حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو؟ متحدہ قومی موومنٹ ابھی تک یہ فیصلہ نہ کر سکی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ  ایم کیو ایم حکومت میں شمولیت سے متعلق فیصلہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے نہیں کر سکی ہے۔ اس حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو اس سوال پر ایم کیو ایم نے  پارٹی میں ریفرینڈم بھی کرایا۔ جس کے نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ سابق اتحادی جماعت نے معاملہ التوا میں ڈال دیا اور اسکے بجائے مسلم لیگ (ن) سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی۔خاص طور پر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات جس رخ میں جارہی تھی کہ اس میں پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کو ملوث کیا جا رہا  ہے، اس میں وہ حکومت پاکستان کی مدد چاہتی تھی۔ ایم کیو ایم قیادت کا خیال تھا  چونکہ نواز لیگ کو سنیٹ میں اکثریت حاصل نہیں اور سندھ میں وفاقی حکومت کو پیپلز پارٹی کی حکومت پر چیک رکھنے کے لیے کسی آلے کی ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا وہ یہ کام آسانی سے کر سکتی ہے۔ مزید یہ بھی کہ آئندہ چند ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھی  ایم کیو ایم  نواز لیگ کے کام آسکتی ہے۔ 
پیپلز پارٹی ابھی تکحکومت میں شمولیت کے لیے اپنی سابق اتحادی کی راہ دیکھ رہی ہے۔ اور گاہے بگاہیاپنی پیشکش کو دہرا رہی ہے۔ بلدیاتی نظام ایم کیو ایم  اپنے لیے زندگی اور موت کا معاملہ قرار دیتی رہی ہے۔دونوں اتحادی جماعتوں نے صوبے میں نیا بلدیاتی نظام دیاجس کی سندھ کے وسیع تر حلقوں نے شدید مخالفت کی۔ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی گیا۔ اس اثناء میں پیپلز پارٹی کا دور حکومت بھی ختم ہونے کو آیا۔ بالکل آخری دنوں میں  پیپلز پارٹی نے یہ نظام ختم کیا جس نے ایم کیو ایم کے لیے راہ بنائی کہ وہ اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھے۔ لہٰذا ایم کیو ایم نے آخری چند ہفتے اپوزیشن میں گزارے۔دوبارہ حکومت بنانے کے بعد پیپلز پارٹی نے مشرف کا بلدیاتی نظام  ختم کرکے 1979ع کا بلدیاتی نظام رائج کرنے کی بات کی لیکن اس کے ساتھ ایم کیو ایم کے لیے دروازہ کھلا رکھا کہ اس قانون میں اتحادی جماعت کی ایماء پر ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ اب گزشتہ ہفتے  باقاعدہ  1979 کا بلدیاتی نظام رائج کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم اس کے باوجود   صوبائی حکومت میں آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی اس پیشکش کا سیاسی جواب دینے کے بجائے اس حکومتی فیصلے کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ کے معاملات سیاسی طور پر خواہ انتظامی طور پر تعطل کا شکار ہیں۔ نہ ایم کیو ایم حکومت میں آئی ہے اور نہ کابینہ مکمل ہو سکی ہے۔
بعض وفاقی وزراء کے بیانات  سے یہ تاثر ملا کہ وفاقی حکومت امن و امان  کی آڑ میں صوبے میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ ان بیانات نے صوبائی حکومت کی سیاسی طور پر پوزیشن مضبوط کی۔اس کے علاوہ  سندھ ہائی کورٹ کے ایک بینچ کے ریمارکس  نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا۔ اور پیپلز پارٹی یہ کہنے لگی کہ گورنرراج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں  اور ابھی پارٹی نے حکومت بنائی ہے تو ابھی سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ وفاق کا یہ رویہ کسی طور پر بھی قابل تحسین نہیں تھا۔ جس کو سندھ کے مختلف حلقے تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبے میں پانی کی شدید قلت رہی۔ پنجاب اس قلت کے باوجود چشمہ جہلم لنک کینال  سے پانی لیات رہا۔ جبکہ  معاہدے کے مطابق یہ کینال صرف مون سون میں تب چلانا ہے جب سیلابی صورتحال ہوگی اور سندھ  کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ صوبائی حکومت اس معاملے کو موثر طور پر  پانی کی تقسیم کے ذمہ دار ادارے ارسا اور وفاقی حکومت کے پاس نہیں اٹھا سکی۔ 
 وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں  حکومت کا ایجنڈا دیتے ہوئے کہا تھا کہکشمور سے لیکر کراچی تک امن قائم کیا جائے گا۔ بدامنی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ جبکہ صحت اور تعلیم حکومت کی ترجیحات ہیں۔ امن وامان  کی یہ صورتحال ہے کہ کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز جاری ہیں،اندرون سندھ ڈاکے، اغوا کی وارداتیں عام ہیں۔ بلکہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ان وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 
صوبائی بجٹ بھی قابل ستائش نہیں۔ اس بجٹ میں غیر مساوی ترقیاتی منصوبے رکھنے کی وجہ سے پسماندہ علاقے نظرانداز کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اتنے بڑے ترقیاتی پروگرام کے لیے  صوبے کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی صوبائی مشنری میں صلاحیت۔ صوابئی مشنری کی صلاحیت کایہ عالم ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران سلانہ ترقیاتی منصوبوں کی نصف رقم بھی خرچ نہیں ہوپائی۔
ؓپیپلز پارٹی نے گزشتہ دور حکومت کے آخری ایام میں  نئی بھرتیوں کی دیگ چڑھائی تھی۔ چالیس ہزار بھرتیاں قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی تھیں۔ اب حکومت کے پاس  ان ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے ہی نہیں۔گزشتہ مرتبہ صوبائی حکومت نے نہ صرف بڑے پیمانے پر اور غیر قانونی طریقے سے بھرتیاں کیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آؤٹ آف ٹرن  ترقیاں بھی دیں۔ نان کیڈر افسران کو کیڈر میں ضم کیا گیا۔  وزراء اور اسمبلی ممبران کے رشتہ داروں کو ضوابط توڑ کر اچھے محکموں میں ملازمتیں دی گئیں۔ اب یہ دونوں معاملات  سپریم کورٹ کے پاس زیر سماعت ہیں۔ جہاں حکومت سندھ کچھ وقت کی مہلت مانگ رہی ہے۔ 
 اعلیٰ عدلیہ  کی جاب سے صوبے کے انتظامی امور یعنی گزشتہ دور کی بھرتیوں، ترقیوں اور تقرریوں پر احکامات اور ریمارکس پر سندھ حکومت پریشان ہے۔۔اس  عدالتی کارروائی سے ایک تاثر یہ ملتا ہے کہ عدلیہ پہلے وفاق میں اور اب سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف  فیصلے سنا رہی ہے۔  لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ  پیپلز پارٹی  کے گزشتہ دور حکومت کے فیصلے ایسے تھے جو میرٹ پر پورے نہیں اترتے تھے۔ اب حکومت سندھ اپنا پورا  وقت  ان غلط فیصلوں کا تحفظ کرنے میں صرف کر رہی ہے۔ اور صوبے کے عوام کو تاحال کچھ نہیں مل سکا ہے۔ 

نئے چلینجز اور پرانی ٹیم نواز شریف - Jul 2, 2013



Tue, Jul 2, 2013 at 11:11 AM
نئے حقائق اور نواز حکومت
میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی 
انتخابات سے پہلے میاں نواز شریف ملک کی معیشت، معاشی و سیاسی صورتحال، خارجہ پالیسی وغیرہ کے بارے میں  بلند بانگ دعوے ک کئے تھے۔ کچھ وعدے کئے تھے۔ کچھ کرنے کچھ نہ کرنے کی بات کی تھی۔ مگر جو بجٹ دیا وہ عوام کی توقعات سے بالکل برعکس تھا۔اس بجٹ میں نواز شریف نہیں،وزیر خزانہ ہی  نظر آرہے تھے۔ یہی صورتحال سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے ہے۔ ان دو  اہم معاملات کے مطالعے سے پت دو باتیں عیاں ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ حکومتی پالیسیوں پر نواز شریف کی کمانڈ نہیں۔ کوئی اور ان معاملات کو دیکھ رہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ بحران  کا تعلق ملک کے معاشی حالات اور دہشتگردی  یا سیکیورٹی کے معاملات  جو خارجہ پالیسی سے ہے۔ جن پر ہے۔گورننس کا اشو اہم ہے لیکن اسکا نمبر ان دو کے بعد آتا ہے۔ اگر حکومت ان دو معاملات کو ٹھیک کر لیتی ہے تو عام لوگوں کو رلیف مل جاتا ہے۔صرف گورننس کے ذریعے بہت کم رلیف مل سکتا ہے۔ 
دوسری بات یہ نظر آئے کہ میاں صاحب کو ملک کی موجودہ صورتحال کا  صحیح ادراک نہیں۔ وہ ملکی حالات کو12اکتوبر1999ع پر ہی دیکھ رہے ہیں۔ یعنی جہاں انہوں نے ملک کو چھوڑا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان 14 برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ علاقے کی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔میاں صاحب کے زمانے میں پاکستان امریکہ کے لیے غیر اہم بن چکا تھا۔ لیکن اس کے بعد نائین الیون کا واقعہ ہوا۔افغانستان اور عراق میں بہت کچھ تبدیل ہوا۔ پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا ساتھی بنا اور اس نے امریکہ کی ایماء پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان سے واپس جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد اگرچہ افغانستان  اور علاقے میں پاکستان کا اہم رول بنتا ہے مگر امریکہ پاکستان کو یہ رول دینا نہیں چاہ رہا۔اس کے بجائے بھارت کو اہمیت دینا چاہ رہا ہے۔ افغانستان کے اندر امریکی کارروایوں کے نتیجے میں شدت پسندپاکستان کی طرف آگئے۔جہاں پر ن کے نصف درج گروپ کام کررہے ہیں۔ انکا ٹارگٹ اب صرف امریکہ ہی نہیں پاکستان بھی بن چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے واقعات میں پھنسا ہوا ہے۔ اور آئے دن کسی نہ کسی شہر میں واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک کی اندرونی سیکیورٹی کا معاملہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ 14 سال کا عرصہ بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں ہمارے پڑوسی ممالک بھارت، چین، اور ایران کی پالسیوں اور ترجیحات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔پاکستان  دس گیارہ سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔ لیکن اب یہ جنگ دلدل بن چکی ہے جس میں ہم پھنس چکے ہیں۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ویزن، چاہئے اور اتنی جرئت بھی۔مزید یہ کہ فیصلے کی قوت بھی۔اس صورتحال میں سیاست بازی نہیں چلے گی۔ بلکہ اس طرح کے فیصلے کی قوت جو برطانوی رہنماچرچل اور  فرینچ لیڈرڈیگال نیدکھائی تھی۔انہوں نے اپنا یا اپنی پارٹی کا سیاسی فائدہ دیکھے بغیر فیصلے کئے تھے۔ 
ملک کے اندر بھی سیاسی خواہمعاشی اور سماجی حوالے سے کئی نئے مظاہرسامنے آئے ہیں۔نئے حقائق نے جنم لیا ہے۔ اب نئے دور کے نئے چلینج ہیں۔ ملک کی اندرونی حالات کے حوالے یہ امر اہم ہے کہ صوبوں کی صورتحال وہ نہیں جو نواز حکومت کے پہلے دور میں تھی۔ بلوچستان بہت زیادہ گرم ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اسکے علاوہ قوم پرستی کی تحریک  نیا رخ اختیار کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں ان صوبوں کو اب مزید محرومیوں میں نہیں رکھا جاسکتا۔ان کو نہ صرف ان کے وسائل اور ذرائع  کا حق دینا پڑے گا بلکہ ان کو ہر سطح پر اور ہر حوالے سے فیصلہ سازی میں شامل رکھنا پڑے گا۔اب صورتحال کو  تیکنکی طور پر ہینڈل کرنے کا زمانہ نہیں رہا۔ 
مجموعی طور پرضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی ازسرنو تعریف بنائی جائے۔ یہ لگ بھگ اس طرح کی صورتحال ہے جومشرقی پاکستان کی علحدگی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔اور ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کی از سرنو تعریف پیش کی اور اسکو دنیا میں منوایا بھی۔ بھٹو یہ سب کچھ اس وجہ سے بھی کر پائے کہ ان کے ساتھ پنجاب تھا۔ نواز شریف کو بھی یہ سنہری موقعہ حاصل ہے۔ پنجاب  ان کے ساتھ ہے۔ اس لیے نواز حکومت ملکی سطح پر خواہ خارجہ پالیسی میں اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ 
ملک میں دو ادارے بہت ہی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ صورتحال آج سے 14 سال پہلے نہیں تھی۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا طاقتور بن چکے ہیں۔نواز شریف کو پرنٹ میڈیا کنٹرول کرنے کا تو تجربہ ہے۔پرنٹ میڈیا  لیکن الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو کیسے ہینڈل کیا جائے یہ بہت بڑا سوال ہے۔ سوشل میڈیا نیپرویز مشرف اور الطاف حسین کے حوالے سے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا وسیع اور کثیر جہتی ہوگیا ہے۔ جس کو سیاسی مقبولیت کے بغیر کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ جب تک اس میڈیا میں کسی سیاسی جماعت کے اپنے کارکن موجود نہیں ہونگے تب تک اس کو نہیں سنبھالا جا سکتا۔ یہ کام کرایے کے لوگوں سے نہیں ہوسکتا۔ میڈیا کی طرح عدلیہ کا رول بھی بڑھ گیا ہے۔ س کی حیثیت مانیٹرنگ والی ہوگئی ہے۔ جو ہر حکومتی عمل پر نظر رکھے ہوئے ہے یہ عمل گورننس کا ہو یا پالیسی سازی ای قانون سازی کا ہو یا انتظامی وغیرہ۔ پہلے عدلیہ کی ایکٹوازم اس طرح سے نہیں تھی۔ نواز حکومت کا نوے والا دور تو ایسا تھا کہ عدلیہ پر حملہ کیا گیا تھا۔ اب عدلیہ ریاست کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ہے۔ اب تو ہر چیز کے لیے عدلیہ کے سامنے جواب دینا پڑتا ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے پاس ایسی ٹیم موجود ہے جو ان نئے حقائق سے آگاہ ہو ان کو سمجھ سکتی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بناسکتی ہو؟ فی الحال تو یہی لگ رہا ہے کہ ان کے پاس وہی پرانی ٹیم ہے جس کے ساتھ انہوں نے دو مرتبہ حکومت کی تھی۔

نئے حقائق اور نواز حکومت - Jul 2, 2013

Tue, Jul 2, 2013 at 11:09 AM
نئے حقائق اور نواز حکومت
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی 

انتخابات سے پہلے میاں نواز شریف ملک کی معیشت، معاشی و سیاسی صورتحال، خارجہ پالیسی وغیرہ کے بارے میں  بلند بانگ دعوے ک کئے تھے۔ کچھ وعدے کئے تھے۔ کچھ کرنے کچھ نہ کرنے کی بات کی تھی۔ مگر جو بجٹ دیا وہ عوام کی توقعات سے بالکل برعکس تھا۔اس بجٹ میں نواز شریف نہیں،وزیر خزانہ ہی  نظر آرہے تھے۔ یہی صورتحال سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے ہے۔ ان دو  اہم معاملات کے مطالعے سے پت دو باتیں عیاں ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ حکومتی پالیسیوں پر نواز شریف کی کمانڈ نہیں۔ کوئی اور ان معاملات کو دیکھ رہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ بحران  کا تعلق ملک کے معاشی حالات اور دہشتگردی  یا سیکیورٹی کے معاملات  جو خارجہ پالیسی سے ہے۔ جن پر ہے۔گورننس کا اشو اہم ہے لیکن اسکا نمبر ان دو کے بعد آتا ہے۔ اگر حکومت ان دو معاملات کو ٹھیک کر لیتی ہے تو عام لوگوں کو رلیف مل جاتا ہے۔صرف گورننس کے ذریعے بہت کم رلیف مل سکتا ہے۔ 
دوسری بات یہ نظر آئے کہ میاں صاحب کو ملک کی موجودہ صورتحال کا  صحیح ادراک نہیں۔ وہ ملکی حالات کو12اکتوبر1999ع پر ہی دیکھ رہے ہیں۔ یعنی جہاں انہوں نے ملک کو چھوڑا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان 14 برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ علاقے کی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔میاں صاحب کے زمانے میں پاکستان امریکہ کے لیے غیر اہم بن چکا تھا۔ لیکن اس کے بعد نائین الیون کا واقعہ ہوا۔افغانستان اور عراق میں بہت کچھ تبدیل ہوا۔ پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا ساتھی بنا اور اس نے امریکہ کی ایماء پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان سے واپس جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد اگرچہ افغانستان  اور علاقے میں پاکستان کا اہم رول بنتا ہے مگر امریکہ پاکستان کو یہ رول دینا نہیں چاہ رہا۔اس کے بجائے بھارت کو اہمیت دینا چاہ رہا ہے۔ افغانستان کے اندر امریکی کارروایوں کے نتیجے میں شدت پسندپاکستان کی طرف آگئے۔جہاں پر ن کے نصف درج گروپ کام کررہے ہیں۔ انکا ٹارگٹ اب صرف امریکہ ہی نہیں پاکستان بھی بن چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے واقعات میں پھنسا ہوا ہے۔ اور آئے دن کسی نہ کسی شہر میں واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک کی اندرونی سیکیورٹی کا معاملہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ 14 سال کا عرصہ بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں ہمارے پڑوسی ممالک بھارت، چین، اور ایران کی پالسیوں اور ترجیحات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔پاکستان  دس گیارہ سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔ لیکن اب یہ جنگ دلدل بن چکی ہے جس میں ہم پھنس چکے ہیں۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ویزن، چاہئے اور اتنی جرئت بھی۔مزید یہ کہ فیصلے کی قوت بھی۔اس صورتحال میں سیاست بازی نہیں چلے گی۔ بلکہ اس طرح کے فیصلے کی قوت جو برطانوی رہنماچرچل اور  فرینچ لیڈرڈیگال نیدکھائی تھی۔انہوں نے اپنا یا اپنی پارٹی کا سیاسی فائدہ دیکھے بغیر فیصلے کئے تھے۔ 
ملک کے اندر بھی سیاسی خواہمعاشی اور سماجی حوالے سے کئی نئے مظاہرسامنے آئے ہیں۔نئے حقائق نے جنم لیا ہے۔ اب نئے دور کے نئے چلینج ہیں۔ ملک کی اندرونی حالات کے حوالے یہ امر اہم ہے کہ صوبوں کی صورتحال وہ نہیں جو نواز حکومت کے پہلے دور میں تھی۔ بلوچستان بہت زیادہ گرم ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اسکے علاوہ قوم پرستی کی تحریک  نیا رخ اختیار کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں ان صوبوں کو اب مزید محرومیوں میں نہیں رکھا جاسکتا۔ان کو نہ صرف ان کے وسائل اور ذرائع  کا حق دینا پڑے گا بلکہ ان کو ہر سطح پر اور ہر حوالے سے فیصلہ سازی میں شامل رکھنا پڑے گا۔اب صورتحال کو  تیکنکی طور پر ہینڈل کرنے کا زمانہ نہیں رہا۔ 
مجموعی طور پرضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی ازسرنو تعریف بنائی جائے۔ یہ لگ بھگ اس طرح کی صورتحال ہے جومشرقی پاکستان کی علحدگی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔اور ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کی از سرنو تعریف پیش کی اور اسکو دنیا میں منوایا بھی۔ بھٹو یہ سب کچھ اس وجہ سے بھی کر پائے کہ ان کے ساتھ پنجاب تھا۔ نواز شریف کو بھی یہ سنہری موقعہ حاصل ہے۔ پنجاب  ان کے ساتھ ہے۔ اس لیے نواز حکومت ملکی سطح پر خواہ خارجہ پالیسی میں اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ 
ملک میں دو ادارے بہت ہی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ صورتحال آج سے 14 سال پہلے نہیں تھی۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا طاقتور بن چکے ہیں۔نواز شریف کو پرنٹ میڈیا کنٹرول کرنے کا تو تجربہ ہے۔پرنٹ میڈیا  لیکن الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو کیسے ہینڈل کیا جائے یہ بہت بڑا سوال ہے۔ سوشل میڈیا نیپرویز مشرف اور الطاف حسین کے حوالے سے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا وسیع اور کثیر جہتی ہوگیا ہے۔ جس کو سیاسی مقبولیت کے بغیر کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ جب تک اس میڈیا میں کسی سیاسی جماعت کے اپنے کارکن موجود نہیں ہونگے تب تک اس کو نہیں سنبھالا جا سکتا۔ یہ کام کرایے کے لوگوں سے نہیں ہوسکتا۔ میڈیا کی طرح عدلیہ کا رول بھی بڑھ گیا ہے۔ س کی حیثیت مانیٹرنگ والی ہوگئی ہے۔ جو ہر حکومتی عمل پر نظر رکھے ہوئے ہے یہ عمل گورننس کا ہو یا پالیسی سازی ای قانون سازی کا ہو یا انتظامی وغیرہ۔ پہلے عدلیہ کی ایکٹوازم اس طرح سے نہیں تھی۔ نواز حکومت کا نوے والا دور تو ایسا تھا کہ عدلیہ پر حملہ کیا گیا تھا۔ اب عدلیہ ریاست کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ہے۔ اب تو ہر چیز کے لیے عدلیہ کے سامنے جواب دینا پڑتا ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے پاس ایسی ٹیم موجود ہے جو ان نئے حقائق سے آگاہ ہو ان کو سمجھ سکتی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بناسکتی ہو؟ فی الحال تو یہی لگ رہا ہے کہ ان کے پاس وہی پرانی ٹیم ہے جس کے ساتھ انہوں نے دو مرتبہ حکومت کی تھی۔

آخری آ مر - مشرف پر مقدمہ - Jun 27, 2013

Thu, Jun 27, 2013 at 12:00 PM
آخری آ مر   مشرف پر مقدمہ 
میرے دل میرے مسافر       سہیل سانگی 
جنرل مشرف کا احتساب اور انکے اعمال کی سزا ملنے کی کوشش پر جمہوریت پسند لوف خوش ہیں۔ یہ ان کی پرانی خواہش تھی۔اب وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت کس طرح سے مقدمہ بناتی ہے اور لڑتی ہے اور عدلیہ اپنا رول کس طرح سے ادا کرتی ہے۔ 
اس ضمن میں حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا ایک  موقف ہے کہ ڈکٹیٹر کا احتساب ہونا چاہئے۔ پیپلز پارٹی تمام آمروں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وقت بہت ظالم ہے۔ آج جہاں مشرف کھڑا  ہیں کل وہاں نواز شریف کھڑے تھے۔ایک حوالے سے مشرف کی حالت  نواز شریف کی حالت سے زیادہ خراب ہے، کیونکہ نواز شریف کے سیاسی خواہ سماجی طور پر حامی موجود تھے۔ لیکن مشرف کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ نواز شریف پر مقدمہ چلانے کو ملک کے عوام اور سیاسی قوتیں غلط سمجھ رہی تھیں، لیکن مشرف پر مقدمہ چلانے پر سیاسی قوتیں متفق ہیں۔ نواز شریف کی  مدد کے لیے سعودی عرب آگیا تھا جو ان کو  رہا کراکے لے گیا۔ لیکن مشرف جس کی اہمیت صرف تب تھی جب وہ آرمی چیف تھا اور آرمی اس کے ساتھ تھی۔  نواز شریف ایک سیاستدان ہیں۔اگر اقتدار میں نہیں تو بھی عوام میں کم یا زیادہ حمایت موجود رہے گی، اور یہ کہ وہ کسی بھی وقت اقتدار میں آسکتے ہیں۔ لیکن مشرف دوبارہ آرمی چیف نہیں بن سکتے۔ 
 مشرف کو واپس وطن آنے کا مشورہ کس نے دیا؟ شاید یہ انکا اپنا فیصلہ ہو۔ وہ اتنے خود سر تھے کہ ان کے ذہن سے یہ جملہ نہیں نکل سکا کہ ”میں نے کہہ دیا وہ کہہ دیا“۔وہ  ملک میں موجود صورتحال کو نہیں سمجھ سکے کہ ان کے بیرون ملک جانے کے بعد ملک میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ نئی سیاسی صف بندیاں وجود میں آگئی ہیں۔ ان نئی صف بندیوں میں ان کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ بلکہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ وہ ان صف بندیوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے لہٰذا انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عام تاثر یہ تھا کہ مشرف نے بعض دوست ملکوں سے  یقین دہانیاں حاصل کیں تھیں کہ وطن واپسی پر ان کے ساتھ خراب سلوک نہیں کیا جائے گا۔انتخابات سے پہلے جب  یہ فیصلہ ہوا کہ حکومت نواز شریف کی ہی بن رہی ہے، تو نواز شریف نے مقتدرہ حلقوں کو بتا دیا تھا کہ اگر مشرف کو بچانا چاہتے ہیں تو ان کو نگراں دور میں ہی ملک سے باہر بھیج دیا جائے۔مگر یہ سب کچھ نگراں دور حکومت میں نہیں ہوسکا۔کیونکہ عدلیہ بیچ میں آگئی تھی۔ 
 مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کے حوالے سے دو  اور اہم باتیں سیاسی مارکیٹ میں گشت کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ایسا کرنے سے پینڈورا باکس کھل جائے گا۔ جس کی لپیٹ میں بہت سارے سابق جنرل اور سیاستدان وغیرہ بھی آسکتے ہیں۔ لہٰذا اس کو قومی مصلحت اور مفاہمت کے لیے نہ چھیڑا جائے۔ یہ عجیب پینڈورا باکس ہے جو ہر مرتبہ کسی کے خلاف کوئی کارروائی کرتے وقت کھلنے کا خوف دلایا جاتا ہے۔اور ہر مرتبہ اس میں کوئی نئی چیز ڈال کر بند کردیا جاتا ہے۔ نواز شریف کو یہ بھی مشورہ دیا جارہا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو  اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی عمل درآمد کا معاملہ سر اٹھائے گا جس میں نوے کی دہائی میں انتخابات چرانے کا الزام  نواز شریف پر بھی آتا ہے۔ دراصل ایسا وہ لوگ کر رہے ہیں جو یہ خوف دلا کر ایک تاریخی قدم اٹھانے سے روکنا چاہ رہے ہیں۔ اور بلواسطہ طور پر مشرف کی حمایت کر رہے ہیں۔ بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 1958 سے لیکر2007 تک آئین اور منتخب حکومتیں توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بظاہر یہ بات اچھی لگتی ہے۔ مگر اس کا عملی پہلو کیا ہے؟ اگر 1958سے لیکر 2007 تک کے آمروں اور ان کے ساتھیوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سوائے مشرف اور اس کے ساتھیوں کے باقی چند ایک ہی زندہ ہونگے۔باقی واقعات کے بڑے کردار پاکستان کے عوام اور عدلیہ کے دائرہ کار سے باہر جاچکے ہیں۔ 
ماضی میں ہوتا یہ رہا ہے کہ جمہوریت پر شب خوں مارنے والوں کو یہ سب کچھ ہضم ہوتا رہا ہے۔ لہٰذا ایسے طالع آزما وقتا فوقتا پیدا ہوتے رہے ہیں اگر اس طرح کا احتساب ایوب خان کے خلاف بھی ہو جاتا تو آج  ملک کے سیاسی اور معاشی ھالات مختلف ہوتے۔ کیونکہ اس کے بعد کسی بھی طالع آزما کو یہ جرئت نہیں ہوتی کہ منتخب حکومت کو یا آئین کو توڑتا۔ 
اس پورے قصے میں دو باتیں اور بھی اہم ہیں۔ ایک  امریکہ کا رول جس نے پچاس کی دہائی میں پاکستان کی سیاست، حکمرانی اور خارجہ پالیسی کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔  یہی کھیل دوبارہ1977ع میں کھیلا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔ ضیا کا مارشل لاء دراصل افغانستان میں پاکستان کو رول دینے کے لیے تھا۔  اور اس کے پیچھے امریکی ہی تھے۔ پاکستان میں لگنے والے مارشل لاؤں  کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ براہ راست یا بلواسطہ طور پر امریکہ کی آشیرواد حاصل رہی ہے۔ 
  جمہوریت کو لپیٹنے  میں دوسرا عنصر خود سیاسی قوتوں کا بھی رہا ہے۔ایک عرصے تک یہ ہوتا رہا کہ  جمہوریت کے دعویدار سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے ہیں۔ اور لڑتے رہے ہیں جس سے تیسری قوت کو موقعہ ملتا رہا۔ لہٰذا ان آمروں کی نیت اور مہم جوئی اپنی جگہ پر مگر انکو موقعہ اور سازگار حالات سیاسی قوتوں نے ہی فراہم کئے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات  فوج کو باقاعدہ دعوت بھی دی جاتی رہی کہ  وہ مداخلت کرے یا اقتدار سنبھالے۔اور بعد میں فوج کی آجیاں بھی کرتے رہے ہیں۔یوں یہ سیاستداں فوج کی سیاست میں مداخلت کے ذمہ دار رہے ہیں۔ 
جب تک یہ رویے تبدیل نہیں ہونگے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گے تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکے گی۔ اس لیے جہاں یہ رویت قائم کی جارہی ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ توڑنے والے سزا کے مستحق ہونگے وہاں یہ بھی روایت قائم ہونی چاہیئے کہ سیاسی جماعتیں ذمہ دارانہ کرادر ادا کریں گی۔ملک میں دوسرے صوبے بھی ہیں۔مختلف الخیال لوگ بھی ہیں، جو کہ سب کے سب پاکستانی ہیں۔ لہٰذا سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں دونوں صورتوں  میں قانون اور آئین کی پاسداری کرینگی اور اسکے ساتھ ساتھ ملکی معاملاتباہمی مشورے سے چلائیں گی تاکہ کسی تیسری قوت کی دور کی بات تیسری سوچ بھی کسی کے ذہن میں نہ آئے۔اگر یہ اس طڑھ سے کیا گیا تو یقیننا مشرف آخری آمر ہوگا جو سزا بھی بھگتنے لگے گا۔

نامعلوم افراد - Jun 24, 2013

Mon, Jun 24, 2013 at 12:10 PM
نامعلوم افراد 
میرے دل میرے مسافر     سہیل سانگی 
ملک کے مختلف شہروں میں بشمول کراچی دہشتگردی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں میں کراچی میں چالیس سے زائد افراد  مارے جا چکے ہیں جن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔پولیس، خفیہ ایجنسیاں برسہا برس سے کراچی میں جاری اس قتل و غارت کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔دہشتگردی کے سبب کراچی میں بڑے پیمانے پر رینجرز بھی تعینات ہے۔ جس پر حکومت ایک بڑی رقم خرچ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال نو ارب روپے سے زائد رقم امن و امان پر خرچ کی گئی۔ مگر ٹاگیٹ کلنگز اور دہشتگردی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی۔ کوئٹہ میں یونیورسٹی پر حملہ کر کے طالبات کو قتل کردیا گیا۔پشاور میں مسجد پر حملہ کرکیپندرہ افراد کو قتل کردیا گیا۔ نانگا پربت  میں دس غیرملکی سیاح  دہشتگردوں کے حملے میں مارے گئے۔
روز میڈیا پر دیکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے کراچی یا حیدرآباد میں دکانیں اور کاروبار بند کرا دیا۔ نامعلوم افراد  نے روڈ بلاک کردیا۔ گاڑیوں کو نزرآتش کردیا۔نامعلوم افراد منٹوں میں شہر بند کرادیتے ہیں۔قتل کردیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ مطلب کچھ بھی کر لیتے ہیں وہ بھی آرام سے۔ ان کو نہ ریاستی اداروں کا اور نہ ہی عام لوگوں کا ڈر ہے۔ نہ گرفتاری کا خطرہ۔ ہنگامی حالات میں فائر برگیڈ یا ایمبولنس  بھی اتنی جلدی نہیں پہنچتی ہوگی۔ وہ ان سے بھی زیادہ سبک رفتاری سے نمودار ہوتے ہیں اور کاروائی کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ حکومت، پولیس اور میڈیا پھر بھی ان نامعلوم افراد کو ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔اور پتہ نہیں چل سکا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نامعوملوم مقام سے نامعلوم طاقتیں نامعلوم افراد کے گروہ  کارروائی کے لیے بھیجتے ہیں۔

حکومت، پولیس اور ایجنسیاں یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالیتی ہیں کہ یہ سب کچھ نامعلوم افراد کر رہے ہیں۔ ٹارگیٹ کلنگز ہوں یا دہشتگردگی کے واقعات، فائرنگ ہو یا کوئی اور جرم سب کچھ  نامعلوم افراد  کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ شکر ہے کہ بعض واقعات کی ذمہ داری شدت پسند تنظیمیں قبول کر لیتی ہیں۔ تو قانون نافذ کرنے والے بھی اس دعوے  کے پیچھے چلتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ واقعی بعض واقعات  یہ شدت پسند کرتے بھی ہیں یا نہیں، مگر ذمہ داری قبول کرکے  اپنا رعب جمالیتے ہیں۔ اس سے پولیس بھی خوش اور یہ شدت پسند بھی خوش۔ اگر یہ تنظیمیں ذمہ داری نہ قبول کریں تویہ واقعات بھی نامعلوم افراد کے کھاتے میں چلے جاتے۔ 
قاتل صوبے کو تباہ و برباد کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا  بھی صرف  مرنے والوں کی تعداد یا جاے وقوعہ وغیرہ کو فوکس کرتی ہے۔ میڈیا یہ نہیں بتا پارہی کہ قاتل کون تھے؟ تحقیقاتی صحافت  ختم ہو چکی ہےَ روز مرہ کے واقعات  اور روز کا نیا ایجنڈا کل کے واقعات پر حاوی ہو جاتا ہے۔ کراچی عجیب شہر ہے۔ یہاں  چاہے کتنا ہی بڑا واقعہ ہو ایک ہفتے کے بعد سب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔ 
نامعلوم کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوتا ہے۔
فائرنگ کی لائیو کوریج ہوتی ہے۔
انتخابات کے موقعہ پرنیم سنجیدہ  بحث سوشل میڈیا پر بھی چلی۔ وہ یہ تھی کہ ”ہم کو چاہئے کہ ہم نامعلوم افراد کو ووٹ دیں۔ کیونکہ نامعلوم افراد  نے فائرنگ کردی۔ نامعلوم افراد خود کش حملے کرتے ہیں۔نامعلوم افراد نے گاڑی کو آگ لگا دی۔ نامعلوم افراد نے موبائل چھین لیا۔ جب نامعلوم افراد اتنا کچھ کر سکتے ہیں تو ملک کو کیوں نہیں بچا سکتے؟“ بعض مقامات سے یہ اطلاعات بھی آئیں کہ نامعلوم افراد نے حالیہ انتخابات میں ٹھپے لگائے اور اپنی مرضی کے امیدواروں کو کامیاب کرایا۔ 
نامعلوم افراد کی اصطلاح پولیس کی ایجاد کی ہوئی ہے۔جو اپنی نااہلی چھپانے یا پھر کسی کو بچانے کے لیے جرائم میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ در ج کرتی تھی۔آگے چل کر حکومت اور خفیہ اداروں نے بھی اس اصطلاح کو اپنا لیا۔اور ایک بڑا سا کھاتہ کھول دیا یوں خود کو مزید کارروائی اور تفتیش سے بچا لیا۔ 
لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ نامعلوم افراد کون ہیں جو سب کچھ کر جاتے ہیں؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان حملہ آوروں کے خلاف  عوام میں آگہی کی مہم چلائی جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ کون ہیں کیا چاہتے ہیں۔ لوگ ابھی تک ان دہشتگردوں کے چہرے پہچان نہیں پارہے ہیں جو اتنی بڑی تباہی پھیلائے ہوئے ہیں۔ آخر کون کون سے گروپ ہیں؟ ابھی تو کبھی کس گروپ پر عوام غصے کا اظہار کر رہے ہیں تو کبھی کس پر۔ اگر حکومت ”نامعلوم  افراد“ کی اصطلاح سے باہرنکلے اور ان کی نشاندہی کرے تو ان دہشتگردوں اور ملزمان کو ایکسپوز کرنے میں آسانی ہو۔
ان نامعلوم افراد کو  نہ میڈیا، نہ حکومتی ادارے اور نہ ہی عینی گواہ بیان کر پاتے ہیں۔ 
میڈیا اور حکومت اس طرح سے معاملات بیان کرتی ہے جیسے ہمیں پتہ ہو کہ قاتل اور حملہ آور کون ہیں۔حکومت اور میڈیا ان نامعلوم افراد کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کر رہے ہیں َ عوام تک آگہی نہیں پہنچاپارہے ہیں۔ اس کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں خوف،  لاعلمی یا فیصلہ نہ کرسکنے کی صلاحیت؟ خوف کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔اس کے لیے حکومتی ادارے اور سماج میں موجود مزاحمت کا ہونا ضروری ہے۔ مگر لاعلمی اور فیصلہ نہ کرسکنے کی بات ناقابل فہم اور ناقابل برداشت بھی ہے۔ 
اگر یہ لاعلمی ہے اسکا مطلب یہ کہ حکومت اور میڈیا دوں اپنے فرائض نبھانیسے قاصر ہیں۔ وہ یا تو عوام کو آگہی دینے کی اہمیت سے ناواقف ہیں یا وہ ان گروپوں کے بارے میں خود لاعلم ہیں۔ اور ان گروپوں کو سمجھنے اور پہچاننے میں مطلوبہ کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ فیصلہ نہ کرسکنے کی بات اور خطرناک ہے۔یہ دونوں جھجک کا شکار ہیں کہ کرین کہ نا کریں؟
 ہمارا تفتیشی نظام اور پھر عدلیہ اپنا اپنا کام کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ شاید باتیں کرنا آسان ہوتا ہے کچھ کرنے کے مقابلے میں۔ سیاسی پارٹیوں کا معاملہ کچھ عجیب ہے۔ اگرچہ وہ ان نامعلوم افراد کی مذمت کرتی ہیں۔  مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کا الزام مخالف پارٹیوں پر عائد کرتی ہیں۔ اس پر مکالمے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر خفیہ ادارے موجود ہیں جن کی یہ ذمہ داری بھی ہے اور ان کا دعوا بھی ہے کہ وہ ان واقعات  کی تحقیقات کرتے ہیں۔حکومت شاید ان نامعلوم افراد  کے معاملے کی تفتیش اور تحقیقات نہیں کرتی۔ لہٰذا ہم نامعلوم افراد کے حوالے ہیں۔

سندھ بجٹ:نہ ویزن بدلا نہ منیجرز - Jun 21, 2013

Fri, Jun 21, 2013 at 12:15 PM
سندھ بجٹ:نہ ویزن بدلا نہ منیجرز
سہیل سانگی
نئے مالی سال کے لیے سندھ کے بجٹ سے ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ یہ ایک اسی پارٹی نے بجٹ پیش کیا ہے جو تین صوبوں میں انتخابات ہاری ہے۔ یا یہ کہ پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل رضا ربانی صاحب  کے اس دعوے کا بھی عکس نہیں ملتا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی سندھ کو مثالی حکومت بنائے گی۔اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرے گی۔ 
نہ ویزن میں تبدیلی ہے۔ نہ پروگرام میں۔ معیشت کے منیجرز اور پالیسی ساز بھی وہی ہیں اور ان پر عمل کرنے والی انتظامی مشنری میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ 
 ہر حکومت مالی سال کے اختتام پر اپنی معاشی کارکردگی کی رپورٹ اسمبلی میں اور عوام کے سامنے پیش کرتی ہے۔تاکہ پتہ چل سکے کہ حکومت کے اقدامات سے معاشی اور سماجی طور پر کیا فرق پڑا۔ کن کن شعبوں میں ترقی ہوئی؟ کیا کیا نقص اور کوتاہیاں رہیں۔مگر ایسا کوئی دستاویز اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ بجٹ پانچ  حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں آمدن کی تفصیل اور ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ یہ ایک پبلک دستاویز ہوتا ہے۔ لیکن  اسمبلی میں پانچ میں سے صرف تین حصے پیش کئے گئے۔
ویزن میں مجموعی طور پر ویزن کی فقدان نظر آتا ہے۔ اور وہی گھسی پٹی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ ضیاء الحق نے ایم پی ایز کو سیاسی رشوت کے طور پر  ترقیاتی اسکیمیں دی تھی۔  موجودہ حکومت نے اس روایت کو برقرار رکھا۔ اور اس مقصد کے لیے آٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ایم پی ایز کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایم پی ایز  اسمبلی کا حصہ نہیں جو بجٹ پاس کرتی ہے؟کیا وہ اپنی اسکیمیں پہلینہیں دے سکتے تاکہ ان کو منصوبہ بندی کا حصہ بنیاجا سکے؟ دراصل یہ اسکیمیں منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بنتی اور صوابدیدی ہوتی ہیں لہٰذا ان کا فائدہ اجتماعی نہیں ہوتا۔یوں ہرسال ایک خطیر رقم ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چھ ارب روپے بلاک الوکیشن صوابدیدی رکھی گئی ہے۔ اس رقم کا بھی  منصوبہ بندی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یعنی پندرہ ارب روپے کے لگ بھگ رقم منصوبہ بندی سے ہٹ کر خرچ ہو جاتی ہے۔ 
سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی موثر اقدام تجویز نہیں کیا ہے۔ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات کے لیے41 ارب روپیکی رقم رکھی گئی ہے یوں اس مد میں گیارہ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
ترقیاتی پروگرام سے ویزن کا نادازہ ہوتا ہے۔مختلف اضلاع اور علاقوں کے لیے جو منصوبے تجویز کئے گئے ہیں ان میں عدم مساوات عیان ہے۔ ایک بار پھر تین اضلاع جو کہ نسبتا ترقی یافتہ ہیں انہی کو ترجیح دی گئی ہے۔یعنی وزیراعلیٰ کے ضلع خیرپور، صدر آصف زرداری کے ضلع بنیظیرآباد اور کاڑکانہ کو مجموعی طور پر تیس فیصد سے زیادہ اسکیمیں یا ترقیاتی فنڈ دیئے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں صوبے کے پسماندہ ترین علاقے تھرپارکر  کو نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں  صرف ایک کالیج ہے۔تعلیم، صحت ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فنی تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں۔یہاں تک کہ یہاں پر پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ ہر دوسرے سال قحط کا شکار ہوتا ہے۔ایک درجن سے زائد محکموں میں تھرپارکر کا ذکر ہی نہیں کیونکہ کوئی ایک بھی اسکیم اس ضلع کو نہیں دی گئی ہے۔ حالانکہ یہ وہ ضلع ہے جس نے کے عوام نے حالیہ انتخابات میں ایک بہت بڑے بت ارباب غلام رحیم کو شکست دی اور بدترین  تشدد کے حالات اور دھاندلیوں میں بھی پیپلز پارٹی کوکامیاب کیا۔ اسی طرح سے دوسرے پسماندہ اضلاع سانگھڑ، عمرکوٹ، بدین اور ٹھٹہ کو بھی ترقیاتی پروگرام میں کم حصہ دیا گیا ہے۔ مطلب جو علاقے ترقی یافتہ ہیں وہ زیادہ ترقی کریں اور کو پسماندہ ہیں وہ مزید پسماندہ رہیں۔یہ صورتحال گزشتہ کئی برسوں سے چلی آرہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم جن کا تعلق تھرپارکر سے تھا وہ بھی اس پسماندہ علاقے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔
 اقلیتیں  ہر جگہ پر خصوصی توجہ کی طلبگار ہوتی ہیں۔ اوردنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ ان کے لیے خصوصی  منصوبے رکھے جاتے ہیں۔اقلیتوں  کے لیے اگرچہ 720 روپے رکھے گئے ہیں مگر یہ تمام رقم بندوں کے لیے نہیں بھگوان کے لیے رکھی گئی ہے۔ کیونکہ یہ تمام کی تمام رقم  مندروں اور دیگر  مذہبی مقامات کی تعمیر  پر خرچ کی جائے گی۔ اقلیتوں کی ضروریات یا ان کی ترقی کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ صوبے کے تنین اضلاع ایسے ہیں جہاں اقلیتوں کی آبادی چالیس فی صد سے زیادہ ہے۔ اور جنرل نشستوں یا مخصوص نشستوں پر دس کے قرب ممبران ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب اقلیتی ممبران دولتمند ہیں۔ نتیجتاان لوگوں کی ترجیحات وہ نہیں بنتیں جو اقلیت سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کی ہوتی ہیں۔  گزشتہ سال سولہ ہزار کی آبادی کے ایک شہر کو اقلیتی ممبران نے کروڑوں روپے کی اسکیمیں دیں جبکہ تھرپارکر، عمرکوٹ وغیرہ جہاں  لاکھوں کی تعداد میں اقلیتی بستے ہیں کوئی ایک بھی اسکیم نہیں دی گئی۔ لہٰذا یہ بجٹ بھی عدم مساوات اور علاقوں کے درمیاں فاصلہ بڑھانے کا بجٹ ہے۔ جس میں پسماندہ لوگوں اور علاقوں کو مزید نظرانداز کیا گیا ہے۔ 
جہاں تک  اچھی اور موثرحکمرانی کا تعلق ہے  اس کا اندازہ گزشتہ سال کی کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے۔ 
 گزشتہ سال وفاق سے رقومات کی منتقلی کا تخمینہ 382 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اور صوبائی ٹیکس  سے 96 ارب 63کروڑ روپے کی  رقم وصول ہونی تھی۔ مگریہ دونوں ہدف حاصل نہیں کئے ا سکے۔تنخواہوں اور انتظامی اخراجات 315ارب روپے ہونے تھے۔ مگر غلط فیصلوں اور ناقص پالیسیوں  اور خراب گورننس کی وجہ سے یہ اخراجات 342ارب روپے تک جا پہنچے۔ یہاں تک کہ ایک موقعہ پر اسٹیٹ بینک سے قرضہ لے کر تنخواہیں دینی پڑیں۔ 
گزشتہ سال ترقیاتی پروگرام کے 181ارب روپے رقم رکھی گئی تھی مگر 30 جون تک صرف 97ارب روپے خرچ کئے جا سکے۔تعجب کی بات ہے کہ انتظامی اخراجات پر رکھی گئی رقم سے زیادہ پیسے خرچ ہو جاتے ہیں مگر  ترقیاتی پروگرام  پر رکھی گئی رقم کا بمشکل پچاس فیصد ہی خرچ ہوتا ہےَ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صوبائی حکومت کے منیجروں اور انتظامیہ میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ منظور کی گئی ر قم ترقیاتی پروگراموں پر خرچ کر سکے۔یا حکومت کے پاس سیاسی فیصلہ سازی یا ارادے کی کمی ہے۔ 
اس صورتحال میں بہت کم امیدہے کہ سندھ کے لوگوں کے حالات تبدیل ہونگے۔

Tuesday, 10 March 2020

نواز لیگ اور نئے صوبے - Jun 17, 2013

Mon, Jun 17, 2013 at 12:40 PM
نواز لیگ اور نئے صوبے
میرے دل میرے  مسافر
نواز شریف حکومت کو جو فوری طور پر چیلینجز توانائی کا بحران، دہشتگردی، طالبان سے مذاکرات وغیرہ ہیں۔ مگر اس پورے قصے میں جو بات غائب ہے وہ  صوبوں  کے آپس میں تعلقات اور وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو پاکستان کی سیاست پر روز اول سے چھایا رہا ہے۔ اس سوال کو صحیح طریقے سے ایڈریس نہ کرنے کے نتیجے میں ہم ادھا ملک کھو چکے ہیں۔ بلوچستان کی کی آج جو صورتحال ہے وہ بھی اسی ک نتیجہ اور سندھ میں جو ناراضگی ہے اس کی بیناد بھی یہی ہے۔ کل تک خیبرپختونخوا بھی اس  وجہ سے خفا تھا۔  
پیپلز پارٹی کی حکومت اٹھارویں ترمیم  لے تو آئی مگر اس پر عمل درآمد کے لیے اسکو کئی مشکلات کا سامنا تھا۔ سب سے بڑی مشکل پنجاب میں موجود  نواز لیگ کی حکومت تھی۔ اور پیپلز پارٹی پنجاب اور نواز لیگ کے ڈر کے مارے اس پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔ بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوا کہ پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی حکومت کی بعض ایسی  تجاویز کی مخالفت کی جو اٹھارویں ترمیم  کی شقوں پر عمل درآمد سے متعلق تھیں۔ 
ابھی تک اٹھارویں ترمیم کے صرف الیکشن کمیشن یا نگران حکومت وغیرہ کی شقیں عمل میں لائی گئی ہیں۔ جبکہ اس کا بہت بڑاحصہ عمل میں لانا باقی ہے۔ اگرچہ بعض محکمے صوبوں کو منتقل کردیئے گئے ہیں لیکن ان محکموں کے بہت سارے معاملات ابھی تک بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 

اس پس منظر میں  اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نواز شریف کی پہلی حکومت ہے جس کو اس ترمیم پر عمل کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اب آئینی فریم ورک  موجود ہے کہ صوبوں کی شکایات، غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ اب معاملہ یہاں پر جا کے  پھنستا ہے کہ پنجاب صوبوں کو واقعاتا کیا دینا چاہ رہا ہے؟ صوبوں کے مطالبات اور ضروریات کو کس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے؟ یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ 
دراصل اٹھارویں ترمیم  ماضی کے تلخ تجربات اور ملک میں صوبوں اور جمہوریت کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر منظور کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر  سیاسی  طور پر اتفاق رائے تھا۔اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے پہلے اور اس کے بعد حالیہ برسوں میں بنیادی سوچ میں ایک تبدیلی محسوس کی گئی۔  ایک تاثر یہ دیا جانے لگا کہ نواز لیگ کا صوبوں کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔
اس ضمن میں اختر مینگل سے گزشتہ سال کے مذاکرات، سندھ کے قوم پرستوں سے رابطے اور سندھ کی ایک قوم پرست جماعت سندھ یونائٹیڈ پارٹی سے تحریری معاہدہ وغیرہ کا  خاص طور پر حوالہ دیا جاتا ہے۔ دوسرا مظہر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ خود بلوچستان اور سندھ کے قوم پرستوں کا رویہ بھی پنجاب اور پنجاب کی نمائندہ پارٹی کے بارے میں تبدیل ہوا۔ قوم پرستوں کا خیال تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے درمیان تعلقات یا ٹکراؤ کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب ان تعلقات کو از سرنو  ڈیفائین کرنے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے۔ 
اس صورتحال کے پس منظر میں بعض تجزیہ نگار  حالیہ انتخابی نتائج کی تشریح بھی اسی طرح سے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن ہار گئی مگر جمہوریت جیت گئی۔ ان کا اشارہ چاروں صوبوں میں مختلف قسم کے مینڈیٹ کا آنا ہے۔ اور کوئی بھی ایک یا ملک گیر پارٹی چاروں صوبوں میں نہیں جیت سکی۔ پناجب میں نواز لیگ جیتی جو پناجب کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی جیتی جو سندھ کی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف بطورپشتون پارٹی کے سامنے آئی۔ یہ مار خاصا دلچسپ ہے کہ  پناجب کو چوڑ کر باقی صوبوں میں روایتی قوم پرست ہار گئے۔ اور  نئے قسم کے قوم پرست سامنے آئے۔سوائے بلوچستان کے، جہاں پرروایتی قوم پرستوں نے میڈیٹ تقسیم ہو جانے کے باوجود اپنا  وجود کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھا۔اورڈاکٹر عبدالمالک  بلوچ کے بطور وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق کر کے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ ایسا کر کے انہوں نے تقسیم شدہ میڈیٹ کے نقصان کا ایک حد تک ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ 
اب جب  روایتی قوم پرست میدان میں نہیں ہیں، ایسے موقعہ پر  پنجاب کے لیے یہ زیادہ آسان ہو گیا ہے کہ وہ  صوبوں کے درمیان  تعلقات اپنی مرضی سے ریڈیفائین redefine کرے۔ 
اٹھارویں ترمیم  میں جہاں جمہوریت  اور اس عمل کی از سرنو  تعریف کی گئی ہے وہاں صوبوں کے تعلقات  کو بھی از سرنو  دیکھا گیا ہے۔ اس میں کئی چیزیں بطورآئینی شقوں کے موجود ہیں لیکن باقی چیزیں بطور اسپرٹ کے بھی موجود ہیں۔ مثلا ڈاکٹر عبدالماک بلوچ جنہوں نے اس ترمیم  کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ٹیم  نے جو سید خورشید شاہ اور سید نوید قمر پر مشتمل تھی، گوادر پر صوبے کا حق تسلیم کیا تھا، مگر بعد میں  مکر گئے۔ مطلب اس طرح کے  بعض نکات تھے جن پر اصولی طور پر اتفاق رائے موجود تھا  لیکن ان کو کسی وجہ سے اس ترمیم کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔ 
نواز شریف کی حکومت صوبوں کو کس حد تک حقیقی معنوں میں اختیارات منتقل کرتی ہے یہ اہم سوال ہے۔ اس پورے قصے میں بعض منفی اشارے بھی ملے ہیں۔ مثلا نواز شریف نے کراچی میں میٹرو بسیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ ٹرانسپورٹ پہلے بھی اور اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی مکمل طور پر صوبائی محکمہ ہے۔ جس  سے وفاق کا کسی طور پر بھی اختیار نہیں۔دوسری طرف حکومت سندھ نے کراچی میں  سرکیولر ریلوے چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے اس منصوبے کی حمایت کرتی اور اس کی مالی اعانت کرتی۔ مگر ایسا کرنے کے بجائے اس کے مقابلے میں اپنا منصوبہ لے آئی جس کا نہ آئینی اور نہ ہی منطقی جواز ہے۔
 جب اٹھارویں ترمیم پر عمل ہونے جارہا ہے اور صوبوں  کے درمیان آپس میں اور وفاق کے ساتھ تعلقات کو از سرنو  استوار کیا جا رہا ہے اس وقت ملک میں اداروں کی صورتحال پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر آج فیصلہ سازی اور اس پر عمل درآمد کے اداروں پر پنجاب کی بالادستی  hegemonyہے۔ پارلیامنٹ میں  نواز لیگ اب ہیوی مینڈیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عسکری ادارے اور بیورکریسی میں میں پنجاب حاوی ہے۔ یہی صورتحال عدلیہ کی بھی ہے۔ یہ چاروں ادارے  اختیارات کی منتقلی  اور ازسرنو تعلقات بننے کے اس عمل پر براہ راست اثرانداز ہونگے۔ 
اب دیکھنا یہ ہے کہ جب پنجاب  کے پاس ہر حوالے سے اختیار کل حاصل ہے  ملک اور قوم کی مفاد میں پنجاب  یا اس کی نمائندہ جماعت نواز لیگ صوبوں کو حقیقی معنوں میں کیا دیتی ہے۔

اور جب پی پی اپوزیشن میں ہے - Jun 13, 2013

Thu, Jun 13, 2013 at 10:58 AM
پی پی بطور اپوزیشن  اور سندھ
اور جب پی پی اپوزیشن میں ہے
میرے دل میرے مسافر     سہیل سانگی  
پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت  میں عدم موجودگی نے سندھ  کے لیے سہولت پیدا کردی ہے کہ پنجاب اور وفاق سے متعلق  متنازع معاملات زیادہ شدومد سے اٹھائے۔یہ صورتحال پہلی مرتبہ بنی ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبے میں تو حکومت ہے مگر وفاق میں نہیں۔ اور نوز لیگ کو بھی اس طرح کی صورتحال کا پہلی مرتبہ سامنا ہے۔ ورنہ ماضی میں جب نواز لیگ نے وفاق میں حکومت  بنائی تھی تو سندھ میں بھی توڑ پھوڑ کرکے اپنی پسند کی حکومت بنا لی تھی۔ 
 وفاق میں اپنی حکومت کی وجہ سے پیپلز پارٹی سندھ کے معاملات پر خاصی مصلحت پسندی اور مفاہمت کا مظاہرہ کرتی رہی، کیونکہ اس کو بہرحال ملک بھر میں حکومتی معاملات چلانے تھے۔ اب تبدیل شدہ صورتحال میں پارٹی نے نئی حکمت عملی بنائی ہے۔ سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس نئی حکمت عملی کا ماحول بنانے کی گواہی دیتا ہے۔ 
سندھ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس ہوا تو تین ماہ قبل والی حکومت اسی ایوان میں موجود تھی۔ اکثر ممبران اور وزراء بھی وہی تھے۔ اجلاس میں سندھ کے وسائل مثلا بجلی، گیس اور پانی سے متعلق بحث کی گئی۔اس حوالے سے سندھ کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ اس کو جائز حصہ نہیں ملتا۔چشمہ جہلم اور تونسہ لنک کینال جب سے تعمیر ہوئے ہیں متنازع رہے ہیں۔ پنجاب کے یہ دونوں کینالوں میں صرف سیلاب کے دنوں میں پانی چھوڑنا ہے اور وہ بھی سندھ کی منظوری سے مشروط ہے۔ عملا اس کے برعکس ہوتا رہا ہے۔ چاہے پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا جنرل ضیا کی اور پرویز مشرف کی یا نواز شریف کی یہ دونوں کینال معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلتے رہے ہیں۔ ان کینالوں کو سیلاب کے دس روز کے دوران پانی چھوڑنے کی بات کتابوں میں موجود ہے۔ مگر 1971ع میں چشمہ جہلم لنک کینال تعمیر ہونے کے بعد کبھی بھی ایسا نہیں ہواہے۔ 2010ع میں پنجاب نے یہ متنازع کینال کھولا تو اسوقت بھی وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ تھے جنہوں نے اس عمل کو افسوسناک قرار دیا تھا۔ پنجاب کے سینئر وزیر راجا ریاض نے فرمایاتھا کہ فی الوقت پنجاب کو پانی کی ضرورت ہے۔ سندھ کو بعد میں اتنا پانی دے کر حساب برابر کیا جائے گا۔ 40کلومیٹر لمبے اس کینال میں ایک سیکنڈ میں 21700کیوسک پانی اٹھانے کی گنجائش ہے۔ 
افتتاحی اجلاس میں ایوان نے قرارداد منظور کر کے چشمہ جہلم لنک کینال سمیت سیلابی کینالوں میں پانی چھوڑنے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایوان کو بتایا گیا کہ سندھ میں پانی موجود نہیں ہے۔ کاشتکاروں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے ارسا کے پاس احتجاج ریکارڈ کرایا گیاہے۔
ایوان میں موجود مرکزی حکومت کے اتحادیوں سے اپیل کی گئی کہ سندھ میں پانی کی قلت ہے لہٰذاوہ لنک کینال بند کرانے میں مدد دیں۔ 
ایوان میں موجود فنکشنل لیگ کے ممبران کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت پیپلز پارٹی کا تھا۔ تب یہ کینال بند کیوں نہیں کرایا گیا؟جبکہ نواز لیگ کے اسمبلی ممبر حاجی شفیع محمد جاموٹ نے بھی  ممبران کے اصرار پر قرارداد کی حمایت کی۔
سندھ میں پانی کی قلت  ہے جس کے خلاف مختلف علاقوں میں کاشتکار مظاہرے اور احتجاج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال پر قوم پرست کیوں خاموش ہیں۔وہ ابھی تک انتخابات  کے زخم چاٹ رہے ہیں۔
ملک میں سب سے زیادہ سندھ میں موجود توانائی کے وسائل یعنی گیس، تیل اور کوئلہ استعمال ہورہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 
 سندھ 70فیصد گیس فراہم کرتا ہے مگر اسکو 22 فیصد ملتا ہے۔ایوان میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ معاملہ بھی اٹھایا۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ صوبے قدرتی وسائل کامعاملہ اسمبلی میں اٹھایاگیا ہے۔اس سے پہلے پانی سے متعلق بحث اور قراردادیں مظور کی جاتی رہی ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعدگیس کی پیداوار، اس کا استعمال  متعلقہ صوبے کے استعمال کے بعد دوسرے صوبوں کو دینے کی بات کی گئی ہے۔ بجلی جو اس سے پہلے کنکتنٹ لسٹ میں شامل تھی اس کو فیڈرل لسٹ نمبر 2میں رکھا گیا ہے۔ یعنی اس سے متعلق تمام فیصلے وفاقی کابینہ کے بجائے مشترکہ مفادات کی کونسل کرے گی۔ 
ایوان نے کراچی کو بجلی کی رسد چھ سو میگاواٹ کم رنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اور سنیٹ کی کمیٹی کے اس فیصلے کوقانون اور آئین کے منافی قرار دیا گیا۔  
پانی کی منصفانہ تقسیم اور اور قدرتی وسائل پرحق ملکیت کا معاملہ سندھ  میں مقبول مطالبات رہے ہیں۔سندھ کے قوم پرست اور دیگر سیاسی حلقے وقت بوقت یہ اشوز اٹھاتے رہے ہیں۔ خود وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتیں بشمول نواز لیگ، جے یو آئی، جماعت اسلامی بھی ان مطالبات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اب یہ سب جماعتیں خاموش ہیں۔اور پیپلز پارٹی یہ مطالبات اٹھارہی ہے۔ اس کا سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی اٹھارہی ہے۔ 
وفاقی حکومت میں سندھ کی کم نمائندگی  اور ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظرانداز کرنے کی بھی شکایات آنے لگی ہیں۔ وہ حلقے جو پیپلز پارٹی کی مخالفت کر رہے تھے، وہ یا تو مصلتحتا خاموش ہیں یا دبے لفظوں میں اپنی غلطی کو تسلیم کر رہے ہیں۔سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ جنہوں نے نواز لیگ سے باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا تھا وہ  اب نواز لیگ پر تنقید کر رہے ہیں۔
 یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ موقف اس کی سندھ میں ساکھ بہتر بنانے میں مدد دے گا، لیکن یہ سب سیاسی معاملہ ہے۔ اصل معاملہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور گورننس کو عوام کی خواہشات کے مطابق بنانا ہے۔ اس پر صوبائی حکومت کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 
جس طرح کا موقف سندھ اسمبلی کے ایوان میں کیا گیا ہے یہ ایک زمانے سے سندھ کا مطالبہ رہا ہے۔ قررداد منظور کرنے کے بعدلوگوں میں پیپلز پارٹی کے لیے جگہ پیدا ہورہی ہے۔یوں سندھ میں سیاسی ماحولتبدیل ہورہا ہے۔ 
 اس موقعہ پر یہ بھی سوال اٹھایاجارہا ہے کہ سندھ کے نمانئدوں کا یہ موقف موسمی تو نہیں؟ نقادوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت گزشتہ پانچ سال کے دوران یہ حقوق حاصل نہیں کرسکی تھی۔کیا اب وہ واقعی سنجیدہ ہے؟اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ سندھ کے ان مطالبات پر جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل اور دیگر وفاقی فورموں میں پیش کئے جائیں۔ 

پیپلز پارٹی کی ازسرنو تنظیم کا سوال - Jun 10, 2013

Mon, Jun 10, 2013 at 11:23 AM
پیپلز پارٹی کی ازسرنو تنظیم کا سوال
سہیل سانگی
بعداز خرابی بسیار پیپلز پارٹی نے پارٹی  کو سرگرم اور فعال  کرنے کے لیے از سرنو تنظیم سازی کا اعلان کیا ہے۔ اچھا ہوتا  اگر یہ اعلان پارٹی کے چیئرمن بلاول بھٹو زرادری کرتے۔ مگر یہ اعلان رضا ربانی کی زبانی کرایا گیاہے۔وہ پارٹی کے سنیئر رہنما ہیں۔ ان کی ساکھ بطور اصول پرست اور پارٹی کے وفادار کے طور پر ہے۔ اچھا ہوا کہ پارٹی نے رضا ربانی کو اس مقصد کے لیے چنا اگر کوئی اور پارٹی رہنما کرتا تو شایداتنا سنجیدگی سے نہیں لیاجاتاور اسکو محض ایک سیاسی بیان ہی سمجھاجاتا۔ 
 نئی حکمت عملی میں سندھ حکومت مثالی اور رول ماڈل حکومت،  پارٹی کو نظریاتی بنیادوں پر استوارکرنا، انقلابی جوہر کو اجاگر کرنا،  وارڈ سطح پر پارٹی کی تنظیم سازی کرنا، کرپشن کامکمل خاتمہ، گڈ گورننس،  ٹریڈ یونین، نوجوانوں اور ہم خیال تنظیموں سے رابطے وغیرہ شامل ہیں۔ ایک نقطہ یہ بھی شامل ہے کہ  پارٹی کے ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو منایا جائے۔ سات ترجیحات کے کو بنیاد بنا کر پارٹی کا کھویا ہوا وقاربحال کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ 
اگرچہ رضا ربانی نے کھلے الفاظ میں تسلیم نہیں کیا کہ ماضی قریب میں پارٹی کی پالیسی ناکام رہی۔ تاہم جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان سے  ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی ان شعبوں اور پہلوؤں پر توجہ نہیں دے سکی۔پیپلز پارٹی کو یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑیگی کہ سندھ میں عوام نے اس کوووٹ کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ بحالت مجبوری دیا۔کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پیپلز پارٹی اپنا نیا پروفائل تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے؟ پارٹی کی قیادت کو از سرنو تنظیم سازی سے پہلے تھوڑا سا ماضی کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ نئی تنظیم سازی بہتر طور پر ہوسکے۔ اور نئے زمینی حقائق کو بھی دیکھنا  اور پرکھنا ہوگا۔
 پیپلز پارٹی  کے مختلف  حالات میں مختلف روپ ہوتے ہیں۔ جب اپوزیشن ایک روپ ہوتا ہے، انتخابات میں جاتی ہے تو دوسرا اور حکومت میں آتی ہے تو تیسرا روپ سامنے آتا ہے۔ 

ماضی قریب کی باتیں: 
حالیہ انتخابات کی سیاست اور حکومت کے دنوں میں وڈیروں اور بااثر لوگوں کی پارٹی میں شمولیت سے کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں وڈیرے ہو گئے ہیں۔
رضا ربانی صاحب نیگڈ گورننس  پر خاصا زور دیا ہے۔گڈ گورننس کا نعرہ بڑادلکش ہے۔ اس کا اصل مطلب  یہ ہے کہ حکومت اور حکومتی ادارے چند افراد یا مخصوص گروہوں کی نہیں بلکہ عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری نبھائیں۔حکومت اور شہریوں کے درمیان اضاکارانہ بندھن ہو، مختلف گروہ اور علاقوں کے لوگ حکومتی فیصلوں کو اپنا سمجھ کر ان پر عمل کریں۔سیاسیات  اور ترقیات کے ماہرین گڈ گورننس  کے لیے آٹھ نکات بتاتے ہیں۔ ۱) شراکت، برابری، اور شمولیت، ۲)قانون کی حکمرانی، ۳)اختیارات کی تقسیم، ۴) حکومت کی رٹ، احتساب، شفافیت، سیاست میں پیسے  کے مضمر اثرات کو محدود کرنا۔دیکھا جائے تو  یہ آٹھ نکات ہی جمہوریت کے بنیادی اقدار کی بنیاد بنتے ہیں۔ دراصل گڈ گورننس ایک ایسا مکینزم، پروسیس اور دارے ہیں جن کے ذریعے لوگ اور مختلف گروہ اپنے مفادات کا قانونی طور پر اظہار کرتے ہیں  اور جائز قانونی حقوق حاصل کرتے ہیں۔
گڈ گورننس میں حکومت  کاذمہ دارانہ رویہ ضروری ہیتاکہ  حکومتی ادارے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مساوی طور پر خدمت کریں۔ 
 اداروں اور پروسیس کا موثر ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے  نتائج دے سکیں۔ 
ریکارڈ  موجود ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی ایسا کچھ نہیں کر پائی۔سیاسی مصلحت پسندی اور مفاہمت  اپنی جگہ پر مگر عام آدمی کو بھی رلیف نہیں مل سکا۔ تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ اقرباپروری کے رکارڈ توڑدیئے۔ ترقیاتی منصوبوں میں اقربا پروری کی گئی اور مخصوص لوگوں اور گروہوں اور علاقوں کو ہی ترجیح دی گئی۔ لوگ تحفظ کے لیے ترس گئے۔ امن امان کی صورتحال بہتر نہ بن سکی۔ 
رضا ربانی صاحب نے  انقلابی پارٹی اور نظریاتی اساس کی بات کی ہے۔ 70ع  وہ زمانہ تھا جب میر، پیر اور وڈیرے ملامت کی علامت بنے ہوئے تھے۔ روٹی، کپڑا اور مکان مقبول نعرہ تھا۔ کسان، مزدور اور طلبا کے حقوق ترجیح بنے ہوئے تھے۔
؎پیپلز پارٹی کا عوامی رجحان تین عشروں تک ملکی سیاست خاص طور پر سندھ کی سیاست پر چھایا رہا۔ وڈیرے اور روایتی سیاستداں پیپلز پارٹی  کے دروازے قطار بنائے کھڑے رہتے تھے۔ شاید ہی کبھی پیپلز پارٹی نے میر،  پیر یا وڈیرے کے پاس چل کے گئی ہو کہ پارٹی میں آؤ وغیرہ۔پیپلز پارٹی ان وڈیروں سے بڑی تھی۔ اقتدار کے پیاسے پیپلز پارٹی کے پاس جاتے تھے۔ لیکن حالیہ دور میں پیپلز پارٹی ان میروں، پیروں اور وڈیروں کے پاس چل کر جاتی ہے۔وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔گویا پارٹی کوکارکنوں نہیں بلکہ وڈیرے معتبر ٹہرے۔

حالیہ دور میں سیاسی کھلاڑیوں، باثر افراد اور وڈیروں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یوں عوام اور پارٹی کارکن غیر اہم ٹہرے۔بااثر اور منتخب ہونے کے قابل افراد ضروری اور اہم ہوگئے۔وڈیروں کے خلاف نعرے دب گئے ہیں۔شاید  جو سیاست اور سیاسی کلچر جو ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کرائی تھی وہ آخری سانسیں لے چکا۔ اس کی جگہ روایتی یا مسلم لیگی سیاست جگہ لے رہی ہے۔یعنی سیاسی حمایت کے لیے وڈیرے، میر اور پیر ضروری ہیں۔پارٹی اس صورتحال کو صرف بیان بازی سے تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے  جامع حکمت عملی اور کرشماتی قیادت ضروری ہے۔ 

 جنرل ضیانے نیا سیاسی کلچرمتعارف کرایا۔ سیاست میں ذاتی تعلق اور ذاتی مفاد کو نچلی سطح تک متعارف کرایا گیا۔ اس کلچر نے انتخابی سیاست کا رنگ ہی بدل دیا۔ اور اسمبلی ممبر، ووٹر یا کارکن کے بیچ میں موجود سیاسی رشتہ ختم کرکے اس کو ذاتی تعلق یا ذاتی مفاد میں تبدیل کردیا گیا۔ جب ذاتی مفاد اور تعلق ہی اہم ٹھہرے تو پھر ووٹر اورپاور بروکرزکے لیے کئی آپشنز کھل گئے۔ 

ضیا ء کے متعارف کردہ اس نطام کو بے نظیر بھٹو بھی ختم نہ کر سکی بلکہ اسے اپنے دور حکومت میں جاری رکھا۔ترقیاتی  فنڈ، ملازمتیں،بجٹ وغیرہ اسمبلی ممبران کو ذاتی طور پر ملنے لگیں اورنچلی سطح پر ان کی تقسیم بھی ذاتی طور پر ہونے لگی۔ یہ ایک خطرناک  اور غیرسیاسی رجحان  تھا جس  کے  اثرات اب بھرپور انداز سے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس رجحان کو ختم کرنے کے بجائے خود اس کا شکار ہو گئی۔اب پیپلز پارٹی اس پچ پر آگئی جو عوامی نہیں بلکہ سیاسی خاندانوں یا سیاسی کھلاڑیوں کی روایتی پچ تھی۔

 پارٹی کی قیادت اور کارکنوں خواہ  ووٹروں کے درمیان خلاء نظرآتاہے۔ انتخابات کے موقعے پر یہ خلاء کھل کر سامنے آیا۔ماضی  میں ایسا نہیں تھا۔ذوالفقار علی بھٹو ہر ماہ کہیں نہ کہیں جلسہ کرتے تھے یا پارٹی کارکنوں کا ڈویزنل یا صوبائی کنوینشن بلاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے اس روایت کو برقرار رکھا۔جلسے، جلوس، کارکنوں سے رسمی و غیر رسمی ملاقاتیں، ان کو سننا،  ان کو اعتماد میں لینا جاری رکھا۔ بھٹو شملہ معاہدہ  کے مذاکرات اور بنگلہ دیش منظور کرنے کے معاملات کی بھی عوام سے منظوری لیتے ہوئے نظر آتے تھے۔ 

 اب نہ جلسے جلوس ہیں نہ ہی پارٹی قیادت کی کارکنوں سے ملاقاتیں اور ڈویزنل کنوینشن۔ نتیجۃ پارٹی قیادت کارکنوں  کے درمیان رشتہ کمزور ہوا ہے۔ اب  پارٹی کارکن اہم رہے نہیں بلکہ سیاسی کھلاڑی اور پاور بروکرز اہم ہیں۔ جن سے بند کمروں میں ملاقاتیں کرنا اور ان کو خوش رکھنا پی پی ضروری سمجھنے لگی ہے۔ اس  رجحان کے بعد اسمبلی ممبران پر کارکنوں کا چیک بھی ختم ہو گیا۔ اب شکایت کرنے کا دروازہ بھی نظرنہیں آتاہے۔کیا پارٹی نئی حکمت عملی میں یہ نیا بند توڑنے جا رہی ہے؟

نئے حقائق:  
پارٹی کو نئے حقائق سمجھنا ہونگے۔گزشتہ دو دہائیوں میں نئے معاشی اور سیاسی گروہ اور طبقات وجود میں آئے ہیں۔ شہری نیم شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔لوگوں کی ضروریات اور ترجیحات تبدیل ہوئی ہیں۔روزگار کے ذرائع  میں بھی تبدیلی آئی ہے۔پرانا کلاس جس کو بھٹو نے جگایا تھااور  پراناسیاسی کارکن خود بھی تبدیل ہوگیا ہے۔  ایک پورا نوجوانوں کا کلاس لاکھوں کی تعداد میں وجود میں آیا ہے۔ جس کا پرانی سیاسی تحریکوں اور سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ صرف آج میں زندہ رہنا چاہتا ہے۔  
اب روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ شاید اتنی مقبولیت نہیں رکھتا جتنا فوڈ سیکیورٹی کا معاملہ یا یہ کہ کس طرح سے ماحولیات تباہ ہوئی جس سے روزگار کے وسائل متاثر ہوئے۔ پینے کا صاف پانی نہیں۔جب بھی کوئی بیماری پھیلتی ہے تو ایکدم وبائی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مطلب جینے کے وسائل کی زنجیر ٹوٹ چکی ہے۔جمہوریت کی تعریف میں توسیع ہوگئی ہے۔ جس میں انسانی حقوق اور صحت، تعلیم وغیرہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ان سب کے لیے پرانی لفاظی کی نہیں ایک جامع اور انقلابی پروگرام کی ضرورت ہے۔

نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم اور سندھ -Jun 6, 2013

Thu, Jun 6, 2013 at 2:06 PM
نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم اور سندھ
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی 
نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم ہوگئے ہیں۔میاں صاحب یہ تیسری باری پیپلزپارٹی کی حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ملی ہے۔ پہلے دو اقتدار کے دور سندھ اور نواز شریف دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تلخ تجربہ رہا۔ سندھ میں وفاق نے ڈنڈے کے زور پر  جام صادق علی کی اقلیتی حکومت بنائی۔ شہری علاقوں میں ایم کیو ایم  کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں ڈاکوؤں کے نام پر آپریشن کیا گیا۔  پانی کا معاہدہ بھی نواز حکومت کے پہلے دور کی پیداور ہے جس پر سندھ کو شکایت رہی کہ پنجاب اپنے ہی بنائے ہوئے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا ہے۔ ماضی میں سندھ کے حوالے سے نواز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ متنازع کالاباغ ڈیم بنانا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ کے دو بڑے ترقیاتی منصوبے تھر کول اور کیٹی بندر ڈیپ سی پورٹ کو نواز شریف نے منسوخ کیا تھا۔
اس مرتبہ اگرچہ انہوں نے سندھ کی طرف بظاہر اپنا جھکاؤ رکھا۔ سندھ میں اپنی تنظیم سازی کے بجائے اتحادیوں پر بھروسہ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا۔ نہ اس کے اتحادی نشستیں حاصل کر سکے او نہ خود نوز لیگ۔ لیاقت جتوئی، ممتاز بھٹو، اسماعیل راہو،  غوث علی شاہ اپنی روایتی نشستیں ہار گئے۔ بلکہ راحیلہ مگسی بھی ہار گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اب جب  پنجاب اور وفاق میں  نواز لیگ کی حکومت قائم ہو چکی ہے تو کیا اب وہ سندھ پر توجہ دیں گے؟ سندھ  میں ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف کو  اس صوبے میں پراکسی سیاست کرنے کے بجائے براہ راست سیاست کرنی چاہئے۔اور سندھ میں تبدیلی تب ممکن ہے جب نواز شریف سندھ میں خود کو اسٹیک ہولڈر بنائیگا۔ یہ بات اس وجہ سے بھی کہی جارہی ہے کہ اگر مسقتل بنیادوں پر اور ملکی سطح کی سیاست کرنی ہے تو  نواز لیگ کو  اپنی پہچان پنجاب کی پارٹی سے تبدیل کر کے ملک گیر پارٹی کی شکل دینی ہوگی۔ جب نواز لیگ ایسا کرے گی تو ملک کی دوسری پارٹیاں بھی اس نقش قدم پر چل سکتی ہیں۔
 نواز لیگ کے ساتھ سندھ سمیت ملک کی چھوٹی پارٹیوں  اقتداری اتحاد  قائم ہو چکا ہے۔ آزاد امیدواروں نے بھی اپنی پناہ گاہ نواز لیگ کیپم میں قائم کرلی ہے۔ جس سے اس جماعت کی پوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ 
نواز شریف انتخابات سے پہلے سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ اور ان کو مختلف قسم کی یقین دہانیاں کرا رہے تھے، اب ایم کیو ایم کی طرف  اتحاد کے لیے بڑھ رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی وزیراعظم کے انتخاب میں نواز شریف کو ووٹ دے دیا۔ متحدہ دہری پالیسی چلنا چاہ رہی ہے۔ وہ صوبے میں اپنا  حصہ زبردستی  لینا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی اقتدار سے باہر رہنا نہیں چاہتی۔ متحدہ کو سندھ حکومت میں شمولیت کے بجائے گورنری اور پورٹ شپنگ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت میں زیادہ دلچسپی ہے۔ 

گزشتہ پانچ سال تک پیپلز پارٹی کی  سیاسی مصالحت کی  پالیسیوں کی وجہ سے سندھ میں سیاسی  بحران کی صورتحال رہی۔ اس کا رخ دہرے بلدیاتی نظام کی مخاالفت کی وجہ سے  ایم کیو ایم  کے خلاف رہا۔ خود نواز لیگ بھی اس پوری تحریک کی حمایت کرتی رہی جو سندھ میں قوم پرست اور فنکشنل لیگ چلا رہے تھے۔ نواز شریف اگر اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پرانے اتحادیوں کو بھول جاتے ہیں  تو یہ ایک اور سیاسی غلطی ہوگی۔ صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ 
میان صاحب کو  ایم کیو ایم  کے ساتھ تعلقات، بلدیاتی نظام وغیرہ کے بارے میں واضح موقف رکھنا پڑے گا  جو انہوں نے سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں کیا۔ پریس کانفرنسوں اور عام جلسوں میں سندھ کے عام آدمی کے خدشات کو دور رکنے کے لیے یقین دہانی کے طور پر کیا۔ 
اس وقت بھاری منڈیٹ کے ساتھ مسلم لیگ نوں وفاقی حکومت میں آئی ہے۔ اس کو سندھ کے بنیادی اشوز کو حل کا حل تلاش کرنا پڑے گا۔ سیاسی کارکنوں کی گمشدگی صرف  بلوچستان کا مسئلہ نہیں۔ سندھ میں بھی درجنوں کارکن  پراسرار طور پر گم ہوتے رہے ہیں اور بعد میں ان کی لاشیں ملی ہیں۔ یہ سندھ کا نارض نوجوان ہے جو ملک میں موجود  نظام میں اپنے لیے یا اپنے صوبے کے لیے جگہ نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس پر بھی سیاسی معنوں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  سندھ کا ناراض نسل بھی میاں صاحب کا ایجنڈا ہونا چاہئے۔ 

 سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید جلال محمود شاہ  نے نواز شریف کو  چھ نکات یاد دلائے ہیں۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی سندھ کی واحد جماعت ہے جس نے  نواز لیگ کے ساتھ باقائدہ تحریری معاہدہ کیا تھا۔  اگرچہ اس معاہدے پر سندھ کے مختلٖ حلقوں نے سخت تنقید کی تھی کہ اس میں پنجاب سے ٹھوس شکل میں یقین دہانی لینی چاہئے تھے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کو سیاسی اور اخلاقی طور پر کمزورکرنے میں قوم پرستوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔بعد میں  یہ پوری تحریک فنکشنل لیگ کی گود میں چلی گئی۔ اانتخابات کے بعد صورتحال یہ ہے کہ فنکشنل لیگ نے تو  وفاق میں ایک ادھ وزارت پکی کرلی ہے۔ سید جلال محمود شاہ  اور دوسرے قوم پرست بیچ چوراہے پر رہ گئے ہیں۔ سندھ کے قوم پرستوں کا کیا ہوگا؟ جلال شاہ نے اب جلسوں میں یہ بات کہنا شروع کردی ہے۔ نواز شریف کی ایک اور اتحادی جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ 
 معاملہ صرف سندھ کے سیاسی حلقوں یا قوم پرستوں کو  اکموڈیٹ کرنے کا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ  وہ اشوز جن پر وقتا بوقت سندھ میں احتجاج ہوتے رہے ہیں تحریکیں چلتی رہی ہیں ان پر  نواز شریف کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور کیا عمل کرتے ہیں۔
۱۔ دریائے سندھ کی پانی کی تقسیم کا معاملہ بنیادی نوعیت کا رہا ہے۔ 1991پانی کا معاہدہ میاں صاحب کے دور حکومت میں ہوا تھا۔ سندھ کو شکایت رہی کہ پنجاب اپنی پسند کے اس معاہدے پر بھی عمل درآمد کے لیے تیار نہیں۔ اس مرتبہ اس معاہدے پر عمل درآمد میاں صاحب کی ترجیح بننا چاہئے۔  
تمام حکومتیں صوبوں کی مرضی کے بنا کوئی کینال یا ڈیم نہ تعمیر کرنے کی یقین دہانیاں کراتی رہیں۔ مگر اس کے باوجود تھل کینال تعمیر ہوگیا۔ جبکہ کہ کچھ اور کینالوں کی تعمیر بھی حکومت کے ایجنڈے پر ہیں۔ 
۲۔سندھ کے معدنی و قدرتی وسائل پر حق ملکیت کا معاملہ سندھ کے لوگوں کی جدوجہد کا مرکزی نقطہ رہاہے۔ سندھ کے ساحل پر موجود دو جزائر کی فروخت کا معاملہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ دور حکومت میں اٹھا تھا۔ اس پر بھی نوز لیگ کو سوچ سمجھ کر موقف اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔
۴۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سارے محکمے صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ لیکن ان محکموں کے وسائل اور اثاثے صوبوں کو منتقل نہیں ہو سکے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ پنجاب کی جانب سے اس منتقلی کی مزاحمت کی گئی تھی۔نواز شریف حکومت کے لیے یہ چلینج ہوگا کہ  وہ صوبوں اور پنجاب کے درمیاں جو خیلج موجود ہے اور کو ختم کرنے کے لیے کیا سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں اور کس حد تک کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اگر ان کے دور حکومت میں یہ خلیج اور بڑھتی ہے تو مجموعی طور پر یہ نقصان کا سودا ہوگا۔