Tuesday, 10 March 2020

بہت دیر کے مہمان آتے آتے - May 28, 2012

Mon, May 28, 2012 at 11:56 AM
بہت دیر کے مہمان آتے آتے
میرے دل میرے مسافر  کالم سہیل سانگی 
 بالآخر پیپلز پارٹی کو احساس ہو ہی گیا کہ اسکے ووٹر  پارٹی کی پالیسی سے خوش نہیں۔ جس طرح سے حکومت میں رہتے ہوئے پارٹی اور قیادت معاملات کو دیکھ رہی ہے اور کر رہی ہے، وہ ا سکے حلقہ انتخا ب  کے خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں۔ اس بات کا احساس اچانک اوراتنی شدت سے  ہوا کہ  وفاقی کابینہ کینے خصوسی کمیٹی تشکیل دے دی۔ پاکستان میں عوام کو کمیٹیوں اور کمیشنوں کی تشکیل، ان کی کارکردگی کا ماضی میں تلخ تجربہ رہا ہے۔ عموما یہی کہا جاتا رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے کو حل نہ کرنا ہو یا کھٹائی میں ڈالنا ہو تو کمیٹی یا کمیشن بنادو۔لہذا کمیٹی سیاست میں ڈسٹ بن کا کام دیتی ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء  مخدوم امین فہیم، خورشید شاہ،  نوید قمر اور مولابخش چاندیو پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے سندھ پہنچ کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔کمیٹی مہاجرصوبے کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں اور اس کے میں سندھ کی وحدت  کے لیے نکالی گئی ریلی پر فائرنگ کے واقعات  کی تحقیقات کرے گی۔کمیٹی کے اراکین نے حیدرآباد سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آنے کے بعد  قوم پرستوں سے بات چیت کرے گی۔اس سے قبل اپوزیشن میں رہتے ہوئے پی پی کالاباغ ڈیم، گریٹر تھل کینال کی تعمیر وغیرہ کے اشوز پر قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے۔ لہٰذا قوم پرست اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے جانے پہچانے اور بعض معاملات میں اتحادی بھی رہے ہیں۔
 کئی مرتبہ یہ سولات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی دنیا جہان  کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر چل رہی ہے۔ ان کے ساتھ بات چیت بھی ہو رہی ہے، مطالبات سنے بھی جا رہے ہیں اور تسلیم بھی کئے جا رہے ہیں مگر یہ مفاہمت سندھ اور بلوچستان میں نظر نہیں آتی۔ بلوچستان کے لیڈروں کو تو پھر بھیسچے یا جھوٹے منہ دو تین مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔سند ھ جس کو پیپلز پارٹی کا گھر سمجھا جاتا ہے وہاں کے قوم پرستوں سے کبھی بھی بات کا عندیہ بھی نہیں دیا گیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان کی اہمیت کو سمجھا اور مانا ہے۔ حالانکہ اس عمل میں خاصی دیر ہو چکی ہے۔ درجنوں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں،۔چلو دیر آید درست آید۔
باتت چیت کا سلسلہ اس لیے بھی شروع کیا گیا کہ نواز شریف نے سندھ میں جارحانہ انداز میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ چند ماہ قبل تک پیپلز پارٹی کے گڑھ اس صوبے میں نواز شریف کی پارٹی کا تنظیمی سطح پر کوئی باقاعدہ وجود نہیں تھا۔اور نواز شریف کو اپنے جلسے کرنے کے لیے  پنجاب سے رہنما لا کر بندوبست کرنا پڑ رہا تھا۔اس کے علاوہ حالیہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے واقعات نے بھی خاصا اہم کردار ادا کیا۔ جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی کی پراسرار حالات میں موت اور ان کے جسم کے اجزاء کی میڈیکل رپورٹ نے کئے سوالات پیدا کردیئے۔جس کو تاحال حکومت واضح نہیں کر سکی ہے۔اس کے بعد کراچی میں سندھ کو تقسیم کرنے اور مہاجر صوبہ بنانے کے لیے مظاہرے ہوئے، وال چاکنگ کی گئی۔پوسٹر لگائے گئے۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں آپریشن کیا گیا۔ لیاری جو پیپلز پارٹی کا ذاتی حلقہ مجھا جاتا رہا ہے وہاں سے پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے لگے۔لوگوں نے احتجاج کیا۔ 22 مئی کو کراچی میں لیاری سے سندھ کی وحدت کے خلاف اٹھنے والے نعروں اور امکانی تحریک کے خلاف  لیاری کے قدیمی باشندوں، کچھی برادری اور سندھی آبادی نے عوامی تحریک اور بعض دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر جلوس نکالا جس پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک ہو گئے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی دن  سندھ کے ایک قوم پرست گروپ جیئے سندھ متحدہ محاذ کے جنرل سیکریٹری  مظفر بھٹو کی لاش ملی۔ جنہیں کوئی ایک سال قبل ایجنسیوں نے گرفتار کیا تھا۔ اور ان کی پارٹی اور لواحقین ان کی پراسرار گمشدگی پر احتجاج کر رہے تھے۔اور مطالبہ کر رہے تھے کہ انکو رہا کیا جائے اور اگر الزامات ہیں تو گرفتاری ظاہر کی جائے۔اور بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ اگرچہ سندھ سے سیاسی کارکنوں کی پراسرار گمشدگی گذشتہ دو تین سال سے جاری ہے۔ اور مختلف وقتوں میں ایک سو ے زائد کارکنان اس عمل سے گزر چکے ہیں۔ مگر اس طرح سے گرفاری کے بعد لاش ملنا سندھ میں پہلا واقعہ تھا۔
ماروی میمن کی شمولیت کے بعد مسلم لیگ (ن) کو  ایک سرگرم، موبائل لیڈر مل گیا ہے۔ یہ صورتحال اس سے پہلے کبھی بھی اس پارٹی کے ساتھ نہیں تھی۔ نواز شریف نے ممتاز بھٹو، رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ سے ملاقاتیں اور رابطے کئے اور بعد میں فالو اپ کے طور پر ماروی میمن ان رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔ ان رابطوں نے پیپلز پارٹی کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے لوگوں سے رجوع کرے۔
 پہلے مرحلے میں کمیٹی کے اراکین نے سندھ کے بعض دانشوروں سے مالاقات کی۔ ان دانشوروں میں سے زیادہ کا تعلق این جی او سیکٹر سے ہے۔ نہیں معلوم کہ کس طرح سے ان لوگوں کو دانشور بنا کر حکومتی ٹیم کے سامنے پیش کیا گیا۔اور یہ خود ایک سوال ہے کہ این جی اوز کا بھی کوئی سیاسی رول بنتا ہے؟ یا حکومت اس یکٹر کو یہ رول دینا چاہ رہی ہے جو کہ ا س سیکٹر کا مینڈیٹ نہیں۔
 کابینہ کی کمیٹی  کے اراکین کے مطابق صرف قوم پرستوں سے ہی نہیں ملے گی بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملے گی۔تعجب کی بات ہے کہ کمیٹی کا ابھی تک نہ ٹرم آف ریفرنس آیا ہے اور نہ ہی  یہ طے ہوا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کون کون ہو سکتے ہیں۔کمیٹی کے ممبران کے مطابق ایم کیو ایم سمیت دیگر پارٹیوں سے بھی ملاقاتیں کی جائینگی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کمیٹی اس نام نہاد مہاجر صوبہ تحریک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گی۔کیونکہ مہاجر صوبے کے اشو پر ایم کیو ایم نے بلاواسطہ یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کی شکایات ہیں انکو سنا جائے۔اگر ایسا کیا گیا تو کمیٹی جن مقاصد کے لیے بنی ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے بلکہ پیپلز پارٹی جو سیاسی فائدہ اس کمیٹی کے ذریعے لینا چاہ رہی ہے وہ بھی نہیں لے پائیگی۔
بعض قوم پرست  جماعتیں کمیٹی کے ممبران سے  ملاقات کو اس بات سے مشروط کر رہی ہیں کہ پہلے پیپلز پارٹی یا حکومت بعض اقدامات اٹھائے اور مذاکرات کا ماحول بنائے۔سندھ کے دانشوروں نے  وفاقی کابینہ کی کمیٹی کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں بالواسطہ  طور پر  پرانے بلدیاتی نظام کی بحالی، گورنر سندھ کی برطرفی اورحیدرآباد ضلع کی  پرانی شکل میں بحالی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ جن میں سے گورنر ندھ کو ہٹانا اور  حیدرآباد ضلع کی بحالی ایسے مطالبات ہیں جن کو چھیڑنے کا مطلب ایم کیو ایم  اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں دراڑیں ڈالنا ہے۔ 
ایسا لگتا ہے کہ کمیٹی کا کام سیاسی ماحول پیدا کرنا اورسندھ میں پیپلز پارٹی جس مشکل میں پھنسی ہے اس سے نکالنا ہے نہ کہ سندھ کے حقیقی اشوز اور شکایات کو دور کرنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کمیٹی مزید مذاکرات میں جانے سے پہلے اپنا ٹرم آف ریفرنس بناتی ہے اور یہ طے کرتی ہے کہ کون کون سے اسٹیک ہولڈرز ہیں اور کن کن ے ملنا ہے۔ اس طے کئے بغیر کمیٹی کی پوری کوشش  ایک سیاسی مشق سے زیادہ نہیں ہو گی۔

سندھ کی ہاری تحریک کہاں کھو گئی؟۔2

سندھ کی ہاری تحریک کہاں کھو گئی؟۔2
 سہیل سانگی
طبقاتی کردار:
کمیونسٹ پارٹی کے موجودہ سیکریٹری جنرل امدا د قاضی کا کہنا ہے کہ 50ع کے عشرے میں ہاری کمیٹی نے بطور طبقاتی تنظیم کے بھرپورکردار ادا کرنا شروع کیا۔جاگیرداری ختم کرنے اور پیداوار پر  برابر ملکیت کے نعرے گونجنے لگے۔ اور اسی حکمت عملی پر کام کیا گیا۔ انڈیا سے آکر یہاں آباد ہونیوالے صاحب جائداد طبقے میں یہان کی جائداد دی جانے لگی۔ قوم پرستوں کا نعرہ تھا کہ جعلی کلیم رد کئے جائیں۔ جبکہ کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ  کامریڈ جتوئی کاموقف تھا کہ ہر طرح کے کلیم کوتسلیم نہ کیا جائے۔ سندھ ہاری کمیٹی نے شاہ عنایت صوفی کے اس  نعرے کو دوبارہ زندہ کیا ’جو کھیڑے سو کھائے‘  یعنی کو کھیت پر کام کرے وہی اس کی پیداوار کا مالک ہو۔ اس معاملے پر جی ایم سید اور کامریڈ جتوئی کے درمیان دوری پیدا ہوگئی۔ 
گروہ بندی کا آغاز:
ساٹھ کی دہائی  میں جب سوویت یونین اور چین کے درمیان فکری اختلافات پیدا ہوئے تودنیا بھر کے کمیونسٹوں کی طرح سندھ ہاری کمیٹی میں بھی دوگروپ ہوگئے۔ کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ہاری فرنٹ کی رہنمائی کرنے والے رہما کامریڈ عزیز سلام بخاری چین نواز لائن اختیار کی۔ نتیجۃ ہاری کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گروپ میں شامل ہوگئی۔اس گروپ کی جانب سے چمبڑ ہاری تحریک چلائی گئی۔ جس میں کامریڈ احمد اور دیگر رہنماؤں نے حصہ لیا۔

کامریڈ جتوئی کے بعد:
چوتھا دور کامریڈ جتوئی کی وفات کے بعد کا ہے۔ کامریڈ جتوئی کی زندگی میں ہی شاگرد، ہاری مزدور رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔ ان دنوں میں سندھ میں طلباء تحریک زوروں پر تھی۔ اور مزدور تحریک میں بھی ابھار آیا ہوا تھا۔ اس اتحاد کا مقصد یہ تھا کہ تمام مظلوم طبقات مشترکہ جدوجہد کریں۔ دوسرا یہ کہ ہاریوں کوطلباء اور مزدور تحریک سے فائدہ ملے۔ 
کامریڈ جتوئی کی زندگی میں ہی سکرنڈ ہاری کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر ان کی وفات کے بعث یہ کانفرنس ملتوی کردی گئی۔ چند ماہ کے وقفے کے بعد یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔اس کانفرنس میں ہاری کمیٹی کو منظم کرنے کے لیے کامریڈ جام ساقی کو آرگنائزر مقرر کیا گیا۔
کمیونسٹ پارٹی کے موجودہ سیکریٹری جنرل امداد قاضی کا کہنا ہے کہ جام ساقی کی شمولیت سے اگرچہ ہاری تنظیم کا رنگ زیادہ ریڈیکل ہوا  مگر یہ تنظیمی طور سکڑ گئی۔ان کے مطابق جام ساقی  ہاری لیڈر کے بجائے پارٹی  لیڈر کے طور پر کام کرتے رہے۔ انہوں نے نظریاتی پہلو پر زیادہ توجہ دی۔ اور ہاری کمیٹی ماس موومنٹ نہ بن سکی۔
اگرچہ بڑے پیمانے پر تحریک نہیں چل سکی تاہم  چھوٹی چھوٹی کئی تحریکیں چلیں۔ہاری کمیٹی کے کچھ پاکٹس بنے جس میں بلہڑیجی، شہدادکوٹ، لاڑکانہ، ڈہرکی کے علاقے کھروہی کے سیکٹر زیادہ سرگرم رہے  اور کئی معاملات میں رہنمایانہ کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ ہاری کمیٹی نے اپنے رہنما عرس سیلرو کو نادر مگسی کے مقابلے میں کھڑا کیا۔
کھروہی میں کامریڈ ماندھل شر کی قیادت میں ہاریوں کا ایک مضبوط مرکزقائم ہوا۔نواب شاہ میں پیر شہاب  اور ٹنڈوالہیار میں پہاڑ لغای کے علاقے میں ہاریوں کے موثر مرکز قائم ہوئے۔ 
جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ کامریڈ جتوئی کے بعد عملا ہاری تحریک ختم ہو گئی۔یہ زرعی معاشرے کا المیہ ہے کہ کوئی بڑاآدمی موجود ہے تو تنظیم اور تحریک بنتی ہے۔جتوئی کے بعد کوئی بڑاآدمی ہاری کمیٹی میں نہیں آیا۔ 
رسول بخش پلیجو کی رہنمائی میں عوامی تحریک نے ”سندھی ہاری تحریک“ کے نام سے تنظیم بنائی۔ جامی چانڈیو کے مطابق اس ہاری تنظیم نے بھی ضیا دور میں کام بند کردیا۔زیادہ تر رجحان قومی سوال کی طرف ہوگیا۔

ستر کی دہائی سے لیکر اسی اور نوے کی دہائی میں مختلف شکلیوں میں ہاری تنظیمیں بنیں مگر کوئی بھی نئی تنظیم  فعال تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے نہیں آئی۔ ضیا مارشل لا میں ہاری تحریک ختم ہونے کی وجہ قومی سوال اور جمہوری سال کا اولین ترجیح بننا تھا۔جس کو اٹھانا وقت کی ضرورت بھی تھی اور سیاسی جماعتیں ان دو سوالوں کو ہی ترجیح دے رہی تھی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہاری تنظیموں نے ضیا مارشل کے خلاف بھر پور جدوجہد کی اور ایم آرڈی تحریک میں بھی حصہ لیا۔

سیاسی کلچر اور ماحول میں تبدیلی: 
جی ایم سید ہاری کمیٹی کے شروع کے دو ادوار میں بھرپور طریقے سے شامل رہے، مگر ساٹھ کی دہائی اور خاص کر سترکے انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی۔ اور پھر ہاریوں کے مسائل کبھی نہیں اٹھائے۔ 
40کے عشرے سے لیکر 70 کے عشرے تک ہاری سوال پر سیاسی جماعتوں میں کوئی مسابقت نہیں تھی۔ بلکہ وہ سب  اس نقطے پر ایک ساتھ تھے۔کہیں اگر ہاریوں کا مسئلہ ہوتا تھا تو سب ملکر جدوجہد کرتے تھے۔بعد میں ہر سیاسی گروپ نے اپنی الگ سے ہاری تنظیم بنالی۔

دوسرا  ابھار:
سندھ ہاری کمیٹی کے سابق جنرل سیکریٹری صوفی حضور بخش،  جامی چانڈیو کی اس رائے سے متفق نہیں کہ ضیا  دور میں ہاری تحریک ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس ان کا کہنا ہے کہ 80 کے عشرے میں سندھ ہاری کمیٹی نے ایک چھال دی تھی جس سے ہاری تحریک کو ایک بار پھر عروج مل گیا۔اس کی وجہ ہاریوں میں کام کرنے والے مختلف گروپوں کا مل کر کام کرنا تھا۔اس دور میں سینکڑوں جلسے جلوس ہوئے۔ ہاری جدوجہدیں بھی ہوئیں  جس میں سے بیشتر کامیاب بھی ہوئیں۔ بعد میں ان گروپوں کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے  خاص طور پر سگیوں کانفرنس کے بعد تنظیم میں توڑپھوڑ ہوگئی اور ہاری کمیٹی ایک بار پھر کمزور ہوگئی۔

صوفی حضور بخش کا کہنا ہے کہ اگر کاز کے ساتھ وقف کرنے والی لیڈرشپ اور کارکن موجودہوں  اور ہاریوں میں کام کرنے والے بائیں بازو کے مختلف گروپوں کی حمایت حاصل ہو تو ایک بار پھر ہاری کمیٹی فعال اور سرگرم ہوسکتی ہے۔

ہاری کمیٹی کی حاصلات: 
 ون یونٹ مخالف تحریک کو دیہی علاقوں تک پہنچانا، روشن خیال فکر  پھیلانا اور سیاسی شعورپیدا کرنا، تنظیم کاری اوردیہی علاقوں میں چھوٹی چھوٹی جدوجہدیں کرنا  ہاری کمیٹی کی اہم حاصلات ہیں۔جس سے مجموعی طور پر سندھ کے دیہی علاقوں میں یاسی جاگرتا پیدا ہوئی۔ اس جاگرتا کا فائدہ ذوالفقار علی بھٹو نے اٹھایا۔ 
اس کے علاوہ پانچ ٹھوس حاصلات ہیں جن کو یکھا اور ناپا جاسکتا ہے:
1۔ سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری 
2۔ بیراج کی زمینیں باہر کے لوگوں کوانعام اور نیلام میں دینے کے بجائے مقامی ہاریوں میں تقسیم کرنا
3۔ بوگس کلیموں کو روکنا
4۔ زرعی پیداوار میں ہاری کا  آدھا حصہ قانونی طور پر تسلیم کرانا اور اس پر عمل درآمد کرانا 
5۔ ہاریوں کی بے دخلیاں روکنا۔
ان پانچ حاصلات کے لیے  سندھ ہاری کمیٹی نے کامریڈ حیدربخش جتوئی ن کی رہنمائی میں جامع حکمت عملی کے ساتھ متواتر جدوجہد کی۔دراصل ہر حاصلات کی ایک الگ الگ تحریک ہے جس نے سندھ کے زمینداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ 
کامریڈ  جتوئی ایک برجستہ اور بہادر رہنما تھے۔ان کی جدوجہد کثیرجہتی تھی۔یعنی قانونی جنگ بھی لڑتے تھے۔ احتجاج اور جلسے جلوس بھی کرتے تھے تو دوسری پارٹیوں کے ساتھ لابنگ بھی کرتے تھے تاکہ ان کے مطالبے کودوسری حلقوں سے بھی حمایت حاصل ہو۔ 

گزشتہ تین چار دہائیوں پیداوار کے ذرئع میں تبدیلی آئی ہے  لوئر سندھ میں گنے اور دوسرے نقد فصل کے عام ہونے سے بڑے پیمانے پر زرعی مزدور پیدا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اس نیم ہاری نیم مزدور کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔لیکن باقی علاقوں میں ہاری روایتی انداز میں موجود ہے۔اور اسکی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہے۔بھٹو دور کے بعد مسلسل زمیندار طبقہ سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہوا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ میں اثررسوخ کی وجہ سے مکمل طور پر ہاری اور دیہی آبادی پر حاوی ہے۔ دوسری طرف ہاری تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مزاحمت نہیں۔ نتیجے میں ہاری معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ پس رہا ہے۔

مارکیٹ  اکونومی کی وجہ سے معاشی طور پر تمام نزلہ ہاری پر گرتا ہے۔کارخانیدار، بڑا تاجر، چھوٹا دکاندار اور سرکاری خواہ نجی ملازم  اپنا تمام معاشی وزن عام حالات میں اور خاص طور پر معاشی بحران کی صورت میں ہاری پر ہی ڈال دیتے ہیں۔ملکی ترقی، سائنس اور ٹیکنالاجی کی ترقی  سے ہاری کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی وہی کسمپرسی والی حالت ہے۔ 

کسی منظم اور فعال تنظیم کی عدم موجودگی میں ہاری سوال سیاست اور ریاست دونوں کے ایجنڈا سے غائب ہے۔ 
گزشتہ پندرہ سال  کے دوران بعض این جی اوزہاریوں کے مسائل اٹھاتی رہی ہیں۔لیکن یہ حقیقی ہاری تنظیمیں نہیں۔یہ بعض واقعات کے
 بعد ان کو اشو کیانسانی حقوق یا لیبر اشو کے طور پر اٹھاتی ہیں۔جس سے صرف  وقتی طور پر تورلیف ملتا ہے۔ 
دراصل یہ سماج کا طبقاتی اور سیاسی سوال ہے۔ معاشی اور سماجی نابرابری کا سوال ہے۔این جی اوز کا نہ ویزن ہے نہ ان میں صلاحیت اورنہ ارادہ۔یہ ایک طبقاتی سوال ہے جسے سیاسی جماعتوں کو ہی اٹھانا چاہئے۔  

سندھ کی ہاری تحریک کہاں کھو گئی؟۔1 May 30, 2013

Thu, May 30, 2013 at 10:02 AM
سندھ کی ہاری تحریک کہاں کھو گئی؟۔1
 سہیل سانگی
ملک  میں نئے انتخابات ہوئے۔نہ کوئی ہاری تنظیم نظر آئی، اور نہ کوئی کسان کا نعرہ اور مطالبہ۔ یہ کل ہی کی بات ہے کہ تقریبا چالیس برس تک یہ ایک مضبوط تحریک کے طور پر  موجود تھی جو سیاسی عمل اور فکر پر بھرپور طریقے سے اثرانداز ہوتی تھی۔ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، آرائیں، مدیجی۔ اور سکرنڈ کسان کانفرنسیں ملک کے دیہی اور پچھڑے ہوئے طبقے کی جدوجہد کے سنگ میل ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے بدل گیا؟ ہاری تحریک کے کمزور ہونے کے معروضی خواہ موضوعی دونوں اسباب ہیں۔ 

سندھ  میں کسان تحریک کی صورتحال کچھ اس طرح سے رہی۔ ہاری کمیٹی برصغیر میں ترقی پسند تحریک کے تسلسل اور آل انڈیا کسان سبھا کے حصے کو طور پروجود میں آئی۔ جس کے قیام میں کمیونسٹوں کے علاوہ  اس وقت کے روشن خیال اور حقیقی جمہوریت پسندوں  جی ایم سید، جمشید نرسوانجی  اور دیگر رہنماؤں نے اپنا کردار ادا کیا۔ 
سندھ کی ہاری جدوجہد کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیاجا سکتا ہے۔ پہلا دور 1930کا عشرہ ہے جس میں ابتدائی طور پر تنظیم سازی، فکری بحث اور اجلاس ہوتے رہے۔ ہاری کمیٹی کے پہلے اور دوسرے دور میں روشن خیال اور جمہوریت پسند حلقوں کا اثر نمایاں تھا جس کی وجہ سے  اس کے مطالبے میں سرکاری زمینیں کسانوں میں تقسیم کرنے اور کسانوں سے منصفانہ رویہ رکھنے پر زور تھا۔ جبکہ کمیونسٹوں کی جانب سے جاگیرداری ختم کرنے کا مطالبہ تھا۔ یہ دونوں رجحان ہاری کمیٹی آخر تک چلتے رہے۔ 

دوسرا دور 1940کا ہے۔جس میں جیٹھمل پرسرام اور قادر بخش نظامانی جیسی شخصیات نے ہاریوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔  1946 میں ٹنڈوالیہار میں ہاریوں نے تالپوروں اور لغاریوں کی زمینوں پر قبضہ کیا۔جس کا ذکر آل انڈیا کسان سبھا کے رکارڈ سے ملتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے لگتا ہے کہ ہاری تحریک میں شدت پسندی اور ہیروازم آگئی تھی۔ 

کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے سرکاری ملازمت چھوڑکر ہاری کمیٹی میں شمولیت اختیار کی تو اس تنظیم میں نیا جوش اورولولہ آگیا۔ کامریڈ جتوئی مارکسسٹ تھے۔ انہوں نے ہاری کمیٹی کو ایک طبقاتی تنظیم کے طورپر منظم کیا۔ یہ ہاری کمیٹی کی کئی پہلوؤں سے ترقی کا دور تھا۔
پرانے ہاری ورکر، شاعر اور صحافی منصور میرانی کامریڈ جتوئی کے ساتھی کامریڈ رمضان شیخ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس دور میں ضلع سطح پر ہاری حقدار کے نام سے دفاتر ہوا کرتے تھے، جہاں باقاعدگی سے ہاری کارکن ڈیوٹی دیتے تھے۔ ان دفاتر میں ہاریوں کی بے دخلیوں، زمینداروں  اور پولیس کی زیادتیوں  کے بارے میں شکایات نوٹ کی جاتی تھیں۔ اور اس ضمن میں متعلقہ حکام سے خط و کتابت کی جاتی تھی۔ اور عوامی سطح پر یہ مسئلہ اٹھایا جاتا تھا۔ 
تیسرے دور میں سب سے بڑا کام سندھ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری تھا۔1950 میں سندھ ہاری کمیٹی کے پلیٹ فارم پر صوبے بھر سے کسانوں نے کراچی پہنچ کر سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کیا۔ یہ دھرنا اتنا مضبوط تھا کہ اسمبلی ممبران ایوان کے اندر ہی محصور ہو کر رہ گئے۔ یہاں تک کہ باہر سے ان تک کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں پہنچ پارہی تھیں۔ سندھ ٹیننسی ایکٹ بہت برا کارنامہ تھا  کیونکہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسان اور زمیندار کو زراعت میں برابر کا حصہ دار تسلیم کیا گیاتھا۔ بیج، کھاد، زرعی اشیاے اور پیداوارمیں دونوں فریقین میں پچاس پچاس فیصد تقسیم کا فارمولا دیا گیاتھا۔

اسی دور میں سندھ ہاری کمیٹی نے کامریڈ حیدربخش جتوئی کو نواب سلطان احمد خان چانڈٰیو کے مقابے میں الیکشن میں کھڑا کیا۔  اس الیکشن ورک میں ممتاز انقلابی شاعر حبیب جالب سمیت ملک بھر کے ترقی پسند کارکنوں نے شرکت کی۔ جالب نے کامریڈ جتوئی کی انتخابی مہم کے لیے خصوصی نظمیں بھی لکھیں۔سردار چانڈیو کے لوگوں نے ہاری کارکنوں پر کتے چھوڑے جس میں کامریڈ رمضان شیخ اور دیگر کارکن بری طرح زخمی ہوئے۔ کتوں کے کاٹنے کے نشانات کامریڈ رمضان کی ٹانگ پر مرتے دم تک رہے۔
جرئتمندانہ جدوجہد کی وجہ سے ہاری سوال سیاسی بحث کا حصہ بنا۔ اس دور میں چینی وزیراعظم چو این لائی پاکستان کے دورے پر ّآئے تو انہوں نے پاکستان حکومت سے فرمائش کی کہ ان کی ملاقات کامریڈ حیدربخش جتوئی سے کرائی جائے۔ 

1957 میں اپر سندھ میں پہلی ہاری کانفرنس تحصیل گرھی یاسین کے گاؤں آرائیں میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس تاریخ میں آرائیں کانفرنس  کہلاتی ہے۔ اس کانفرنس میں شیخ ایاز اور کراچی میں اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے زیر تعلیم طالب علموں نے شرکت کی۔ اس دور میں مختلف اضلاع میں دفاتر اور کارکنوں کا نیٹ ورک سوائے ہاری کمیٹی کے کسی اور پارٹی کے پاس نہیں تھا۔

اس دور کے ہاری لیڈرپڑھے لکھے اور عالم فاضل تھے، ہاری کمیٹی میں مذہبی پس منظر والے کمیونسٹ اور کانگریس کے حامی سب لوگ تھے۔لیکن سب ملکر اس طرح کام کرتے تھے کہ ان کی سیاسی وابستگی یا فکر کبھی بھی آڑے نہیں آیا۔ کئی کا پس منظر مذہبی تھا اور وہ مولانا عبیداللہ سندھی کے فکر سے متاثر ہوکر ہاری کمیٹی میں شامل ہوئے تھے۔ کامریڈ مولوی نذیرحسین جتوئی، حافظ نیک محمد فضلی،  عبدالرحمان عیسانی، محمد عالم مگریو اس دور کے اہم لیڈر تھے جوبالائی سندھ میں ہر وقت گھومتے رہتے تھے اور ہاری جدوجہد کی نگرانی کرتے رہتے تھے۔ 
 دوسری اہم بات یہ تھی کہ سندھ ہاری کمیٹی صوبے میں کام کرنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ مورچہ تھی۔ جی ایم سید ہوں یا اللہ بخش سومرو سب ہاری کمیٹی کے مدگار تھے۔ 
پچاس کی دہائی میں جو بھی ہاری کانفرنس ہوئی وہ سندھ میں سیاسی ہلچل کے حوالے سنگ میل ثابت ہوئی۔ ایسی ہی ایک کانفرنس میں  کامریڈ جام ساقی (جو بعد میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بنے) کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ  صوبے میں طلباء تنظیم منظم کریں۔ 
کسان تحریک کے جان نثار:
یہ وہ دور تھا جب زمیندار ہاریوں اور ہاری کارکنوں پر تشدد کرتے تھے۔ زمینداروں کی ننگی زیادتیوں کا کئی ہاری کارکن شکار ہوئے۔ ان پر قاتلانہ حملے ہوئے جس میں ایک درجن کارکن شہید بھی ہوئے۔ قتل کے زیادہ تر واقعات بٹائی تحریک کے دوران ہوئے جب قانون منظور ہرنے کے بعد بھی زمیندار عمل نہیں کر رہے تھے۔ ٹنڈو باگو کے ہاری پٹھائی انڑ کو اس وجہ سے قتل کردیا گیا کہ انہوں نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے قانون کی مدد لی۔ انہوں نے بٹائی میں اپنا  قانونی حصہ تو لے لیا مگر دو دن بعد وہ اپنے بیٹے سمیت زمیندار کے لوگوں نے قتل کردیا۔ٹنڈوالہیار کے قریب ہار کارکنوں کے ایک گروپ پر زمیندار نے حملہ کردیا کیونکہ یہ کراکن کسانوں کو پچاس فیصد بتائی پر منظم کر رہے تھے اور اس ضمن میں قانونی چارہ جوئی کر رہے تھے۔ اس حملے میں سات ہاری کارکن زخمی وہئے جن میں خمیسو خاصخیلی زخموں تاب نہ لا کر انتقال کر گیا۔ غلام مسطفےٰ عباسی اور بالاچ بروہی کو نوابشاہ میں قتل کیا گیا۔ ہاری رہنما اور شاعر عزیزاللہ مجروح کو گڑھی یاسین کے علاقے میں قتل کیا گیا۔ ہاری رہنماؤں کے لیے ان کے ساتھ عزیزاللہ مجروھ کا قتل ناقابل برداشت تھا، ان کے ساتھیوں مولوی نذیرحسین جتوئی، حافظ نیک محمد فضلی اور دیگر نے ان کی تدفین کے بعد قبر پر عہد کیا کہ وہ  ہاری لیڈر کا پلاند کریں گے۔ اور بعد میں انہوں نے پلاند کیا اور قاتلوں کو قتل کیا۔شہید بختاور کو کنری کے پاس  زمینداروں نے قتل کای جب مرد ہاری جھڈو میں منعقدہ ہاری کانفرنس میں گئے ہوئے تھے اور  وہ گندم کے ڈھیر کی حفاظت کر رہی تھی۔
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کارکن منصور میرانی کا کہناہے کہ جس طرح سے ہاری کمیٹی کے کامریڈوں نے سخت محنت کی، کٹھن زندگی گزاری، اپنی زندگیاں وقف کر کیاپنے مشن کو آگے بڑھایا اس لحاظ سے اگر وہ کسی بیماری کی وجہ سے بھی فوت ہوئے، ان کے بزدیک وہ بھی شہید ہیں۔
 خود کو وقف کرنے والے: 
ہاری کارکنوں کی ایک  لمبی لسٹ ہے جنہوں نے اپنی زندگی اور جوانی ہاری کاز کے لیے وقف کی۔مختلف ادوار میں کام کرنے والوں بڑے بڑے نام بھی ہیں۔جیٹھمل پرسرام، قادربخش نظامانی، کامریڈ غلام محمد لغاری،مولوی عزیزاللہ جروار، کامریڈ میر محمد تالپور، عبدالرحمان عیسانی، محمدعالم مگریو، عبدالقادر کھوکھر، کامریڈ رمضان شیخ،  رئیس بروہی، عبدالقادر انڈہڑ، قاسم پتھر،  باقر سنائی، عنایت دھمچر،علامہ شامہ محمد امروٹی، صوفی جنن چن،سلیمان لاکھو،  محمدخان لاکھو، غلام حسین سومرو، جام ساقی، ماندھل شر، حسین مگسی،مولوی شاہ محمد بنگلانی، غلام حیدر لغاری اور دیگر شامل ہیں۔
1980 کے بعد جن کارکنوں اور رہنماؤں نے نمایاں کردار ادا کیا ان میں لالا شاہ محمد درانی،  صوفی حضوربخش، غلام رسول سہتو،عثمان لغاری، احمدخان لغاری،  پھوٹو رستمانی،محب نظامانی، صالح بلو، گلاب پیرزادو، محب پیرزادو، اسماعیل قریشی، تاج مری، یارمحمد جلالانی، غلام قادر مرڑانی، منصور میرانی، غلام حسین شر، مراد چانڈیو، خادم چانڈیو، قاضی عبدلاخالق، شاہمیر بھنگوار، حسین بخش جج، محمدعثمان شیدی، بقا بروہی، پیر شہاب الدین،  حاجی حسین جونیجو، ولی محمد انڑ، دین محمد انڑ،  اسماعیل کھوسو،  شامل ہیں۔ 
رسول بخش پلیجو کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک نے ستر کے عشرے میں الگ سے ہاری تنظیم سندھی ہاری تحریک کے نام سے بنائی۔ اس تنظیم میں فضل راہو نے بڑا اہم کردار داد کیا۔اس تنظیم کے دوسرے اہم لیڈروں میں علی سوڈھو، قادر رانٹو، وشنو مل، شیرخان لنڈ اور گل حسن کیڑانو اہم رہنما تھے۔  (جاری ہے)

سیاسی خواہشات کی آڑ میں احتجاج - May 20, 2013

Mon, May 20, 2013 at 8:25 AM
سیاسی خواہشات اور دھاندلیوں کی آڑ میں احتجاج
سہیل سانگی
 سندھ سراپا احتجاج ہے۔شہری علاقوں میں برسہا برس سے جاری دہشتگرد کارروایوں، لاقانونیت، اغوا برائے تاوان  اور دیگر جرائم  میں پھنسے اس صوبے میں اب سڑکوں پر دھرنے اور مظاہرے ہیں،اور کاروباربند ہیں اور شہروں میں ہڑتال ہے۔اس کے برعکس پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاق میں حکومت سازی کی تیاری ہے اور مستقبل کی پالیسیوں پر بحث ہورہی ہے۔
 انتخابات کے بعد قوم پرستوں اور فنکشنل لیگ نے  ایک ایک دن ہڑتال کرائی۔اب 22 فروری کو فنکشنل لیگ اور دس جماعتی اتحاد نے دوبارہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔نوز لیگ نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ کراچی میں کلفٹن والی قومی اسمبلی کی نشست کا معاملہ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیاں شدید تنازع کا باعث بناہوا ہے۔ یہاں پر  43 پولنگ اسٹیشنوں پردوبارہ پولنگ کے خلاف ایم کیوایم آخری پتہ بھی کھیل چکی۔ 

فنکشنل لیگ کی پہلی ہڑتال میں خیرپور میں تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے کے واقعات میں نوابشاہ اور جیکب آباد میں ایک مرحلے پر فوج اور رینجرز کی مدد لینے پڑی۔ بعض نشستوں پر پیپلز پارٹی بھی دوبارہ گنتی کرا رہی ہے۔ یہ احتجاج انتخابات میں دھاندلیوں کے نام پر کیا جارہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نہ دھاندلیاں کرنے والے اور نہ کرنے والے سب برابر ہوگئے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ  جس گروپ کا جہاں پر بس چلا اس نے اتنی دھاندلی کی۔

پاکستان میں کوئی بھی الیکشن اور کوئی بھی حلقہ دھاندلی سے مبرا نہیں رہا۔لیکن گیارہ مئی کے انتخابات پر کچھ زیادہ ہی شور ہے۔ اور وہ بھی سندھ میں۔ اس صوبے میں نتائج پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں کی خواہشات سے میل نہیں کھاتے۔لہٰذا احتجاج اور انتشارہے۔ 

سندھ میں مخالفین چاہ رہے ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرح اس صوبے میں بھی پیپلز پارٹی کو شکست ہونی چاہئے۔ ان کی خواہش ہے کہ دو صوبوں میں دوسری پارٹیوں کو حکومت کرنے کا موقعہ ملا ہے تو یہاں پر انہیں موقعہ ملناچاہئے۔ مطلب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو”بھگانے“ کے بعد اقتدار میں اپنا حصہ تلاش کر رہی ہیں۔اور مطالبہ کر رہی ہیں کہ”لاؤ ہمارا حصہ کہاں ہے؟“ یہ جماعتیں صرف پیپلز پارٹی کی جیت کو ہی نہیں انتخابات کو ماننے کو تیار نہیں۔ اندرون سند ھ سے میڈیا رپورٹس  کے مطابق وہ گروپ زیادہ بڑھ چڑھ کر احتجاج کر رہے ہیں جو خود بری طرح سے دھاندلی میں ملوث تھے۔انہوں نے بھی دھاندلیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اگر پیپلز پارٹی منصوبہ بندی کے تحت دھاندلی کرتی تو تھر میں ارباب اور ٹھٹہ میں شیرازی گروپ نے جو کچھ کیا وہ یہ نہیں کرپاتے۔  

 دو منٹ کے لیے دھاندلی کے الزامات کو ایک طرف رکھ کر ٹھنڈے دل سے صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنی شکست کو چھپانے  اور اپنا سیاسی قد برقرار رکھنے کے چکر میں تمام زور  دھاندلیوں پردیا جارہا ہے؟
 صورتحال کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی حقائق کوذہن میں رکھنا ضروری ہے:  
۱۔ قوم پرستوں کی جدوجہد کا رخ متنازع بلدیاتی نظام اور بعض دیگر معاملات کی وجہ سے ایم کیو ایم کے خلاف تھا۔انہوں نے عملی طور پر کہیں بھی ایم کیو ایم کا مقابلہ نہیں کیا۔ تحریک انصاف  اور جماعت اسلامی تک نے ایم کیو ایم کے گڑھ کراچی اور حیدرآبادمیں امیدوار کھڑے کئے۔ لیکن نہ قوم پرستوں نے اور نہ ہی اتحاد کی قیادت کرنے والی جماعت فنکشنل لیگ نے   اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ 
۲۔ متبادل کے دعویدار قوم پرستوں اور دس جماعتی اتحاد سندھ بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی کل  190نشستوں کے بجائے صرف 98 نشتستوں پر امیدوار کھڑے پائے۔ یعنی نصف سے زائد نشستیں خالی چھوڑیں۔ یوں متبادل ہونے کا خاکہ بھی بن نہ سکا۔ 
۳۔ قوم پرستوں  اور دس جماعتی اتحاد نے نہ مشترکہ انتخابی نشان لیا نہ منشور دیا اور نہ ہی مشترکہ انتخابی مہم نہیں چلائی۔ جس پارٹی کا جہاں امیدوار تھا اس پارٹی نے وہاں مہم چلائی۔ 
۴۔ انتخابی مہم کے آخری تین ہفتے کے دوران یہ اتحاد عملی طور پر منتشر ہو چکا تھا۔ اور صرف نام کے لیے تھا۔ 
۵۔ پیپلز پارٹی کی قیادت دہشتگردی کے خطرے یا دیگر معاملات کی وجہ سے انتخابی مہم چلا نہ سکی۔ اس صورت میں قوم پرستوں اور دس جماعتی اتحاد کو میدان ملا تھا۔وہ اس جنگل میں اکیلے شیر تھے۔ مگر اس اتحاد کی قیادت نے کوئی مہم نہیں چلائی۔پیر پاگارا جو اس اتحاد کے”بڑے“ تھے انہوں نے کوئی انتخابی جلسہ نہیں کیا۔ 

۶۔ان وجوہات کی بناء پر سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف جو جذبات اور احساسات تھے ان کو متحرک کر کے ووٹ میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے جن وزراء کو بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک کے دوران شدیدتنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے حلقوں میں جا کر کسی بھی پارٹی نے نہ چیلینج کیا اور نہ ہی کوئی جلسہ کیا۔ 
۷۔جب امیدوار سامنے آئے تو یہ بات واضح ہوگئی کہ جو امیدوارمتبادل کے طور پر  پیش کئے جا رہے ہیں وہ بھی روایتی وڈیرے ہی ہیں۔ جو پیپلز پارٹی مشرف اور نوازشریف کے دور میں بھی حکومت یا اسمبلیوں میں موجود تھے۔ تب انہوں نے کیا کردار ادا کیا اس سے ان کی سندھ دوستی واضح تھی۔
۸۔ممکن ہے کہ بعض قوم پرست گروپ واقعتا  تبدیلی کے خوہان ہوں۔ مگر ان کی حکمت عملی  کسی بھی موقعے پر اس بات کی غمازی نہیں کرتی۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ نئے ووٹر اور نئے طبقے کو اپیل کرتے۔ مگر ان گروپوں نے پرانے ووٹر اور پرانے طبقے تک ہی خود کو محدود رکھا۔
 پیپلز پارٹی کی انتخابی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ ہر بااثر بندے پر اثرانداز ہو۔ اس نے چھوٹے خواہ بڑے وڈیروں کو اپروچ کیا اور پارٹی کے فولڈ میں لانے کی کوشش کی۔ یہ وہ پالیسی تھی جس پر مختلف تجزیہ نگار اور کارکن نے تنقید کر رہے تھے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں ہر پولنگ پر کوئی نہ کوئی بااثر شخص مل گیا جس نے ووٹ ڈلوائے۔ پیپلزپارٹی اور اس کے مخالفین کی حکمت عملی کا موازنہ کرنے کے بعد صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ 

حکمت عملی سے متعلق ان نکات کے علاوہ  سیاسی طور پر بھی  پیپلزپارٹی کو سندھ میں اکھاڑ کر پھینکا نہیں جاسکا۔ سندھ کے لوگ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں نواز شریف کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کی مخالفت سیاسی طور پر متحرک حلقوں میں یقیننا تھی، لیکن عام آدمی اور علاقے کے بااثر لوگ ابھی تک پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے،لہٰذا ان انتخابات کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ 
  ماسوائے بلوچستان کے  ملک بھر میں ووٹ خواہ بگڑی ہوئی شکل میں مگر قوم پرستی یا لسانی بنیاد پر پڑا ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ کی شناخت پنجاب کی پارٹی کے طور پر ہے۔، خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی پختون قوم پرستی کے حوالے سے طویل
 جدوجہد ہے۔اس کی جگہ پر تحریک انصاف کو اسی لسانی بنیاد پر ووٹ ملا۔ سندھ میں قوم پرست متبادل کے طور پریا الگ شناخت کے ساتھ موجود نہیں تھے۔شاید پاگارا نے ایسا تاثر دینے کی ادھوری کوشش کی تھی۔مگر بیل مونڈے نہیں چڑھی۔اب پیپلز پارٹی ہی میدان میں تھی اور لوگوں نے اس کو بطور سندھ پارٹی کے ووٹ دیا۔ ایکٹوازم میں مصروف دوست کی یہ خواہش تو ہوسکتی  ہے کہ پیپلز پارٹی کامیاب نہ ہوتی یا سندھ میں حکومت نہیں بنا سکے۔ مگرسیاست دنیا خواہشات پر نہیں چلتی۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ حالیہ انتخابات افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی، صوبوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان نئی مساوات اور تعلقات  بنانے اور شہری علقوں کو  بالادستی دینے کے پس منظر میں ہورہے ہیں۔ 
اس وقت سندھ کو احتجاجوں کی لپیٹ میں لینے کا مطلب یہ ہوگا کہ الیکشنی دشمنیاں ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہوں جو سندھ کے بنیادی مسائل ہیں ان  بدلتے ہوئے منظرنامے  میں آگے بڑھانے کے بجائے سیاست بازی میں  وقت گنوادیں۔ جو فیصلہ عوام نے دیا ہے اس کااحترام کرنا چاہئے۔ اپنی کمزوریوں کوتاہیوں اور غلطیوں کا جائزہ لے کر نئے سرے سے تیاری کرنا چاہئے۔ 

حکومت سازی کے آپشن - May 16, 2013

 Thu, May 16, 2013 at 1:25 AM
حکومت سازی کے  آپشن
سہیل سانگی
 ”ہنگ پارلیمنٹ“  تو نہیں آئے جس کا بڑا چرچہ تھامگرصوبوں کا مینڈیٹ مختلف ہے۔جس کی وجہ سے معاملات الجھ رہے ہیں۔ وفاق مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر اور تحریک انصاف تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ کی اکثیرت ہے تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں بنیں گی۔ جبکہ یہ جماعتیں وفاق میں اپوزیشن میں ہونگی۔ اس صورتحال میں حکومت سازی کااور اپوزیشن کی قیادت کا فیصلہ کرنا امتحان بن گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کو ایک نئی رلیشن شپ بنانی پڑے گی۔ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورکنگ انڈر اسٹینڈنگ پیدا کرنی پڑے گی۔ 

 مسلم لیگ نون کو قومی اسمبلی میں برتری حاصل ہے، اس کے سامنے مختلف آپشن ہیں۔ 
پہلا آپشن: نون لیگ آزاد اراکین کو ملا کر حکومت بنا لے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نواز شریف بمقابلہ باقی تمام سیاسی جماعتیں۔ یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ جے یوآئی کے مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو ساتھ دینے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم بعض بڑے اور اہم پارلیمانی گروپ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔اس صورت میں ایک مضبوط اپوزیشن بنے گی۔ سنیٹ میں اکثریت نہ ہونے اور اتنی مضبوط اپوزیشن  جس کے ساتھ دو صوبوں میں حکومتیں بھی ہوں نون لیگ کو ایسی صورتحال سے ڈیل کرنا مشکل کام  ہوجائے گا۔

 مزید یہ کہ نواز شریف کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ ان کی حکومت کو چاروں صوبوں میں حمایت حاصل ہو۔ 

دوسرا آپشن: نواز شریف  پیپلز پارٹی کو وفاقی حکومت میں شامل کرے اور قانون سازی وغیرہ میں  سنیٹ میں موجود اس کی اکثریت کی  مدد لے۔ اس آپشن کے نتیجے میں تجربیکار پارٹیاں ایک طرف ہو جائیں گی اور ناتجربیکار پارٹی تحریک انصاف دوسری طرف چلی جائے گی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف پانچ سال تک اپوزیشن میں رہے گی  تو وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی۔ جبکہ دوسروں کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کامیاب حکومت کرنے اور قومی اسمبلی میں موثر رول ادا کرنے کے بعد وہ ایک مضبوط پارٹی کے طور پر بھی ابھر سکتی ہے۔ اور مستقبل میں اپنے لیے راستہ بنا سکتی ہے۔ 

تیسرا آپشن: تحریک انصاف کے ساتھ ملکر حکومت بنائی جائے۔ لیکن اس صورت میں حساس صوبہ سندھ اقتدار کے دائرے سے باہر رہ جاتا ہے جبکہ اس صوبے کی جماعت کو سنیٹ میں بھی اکثریت حاصل ہے۔ بہرحال خیبر پختونخوا کی حمایت کے لیے وہاں کی اکثریتی پارٹی تحریک انصاف سے بھی دوستانہ تعلقات رکھنا ضروری ہیں۔
حیران کن بات ہے کہ  باقی تمام صوبے حکومت سازی کے حوالے سے زیر غور ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ گرم صوبے بلوچستان کو اس مرحلے پر کوئی ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں۔
جس طرح سے حکومت سازی میں دقت ہو رہی ہے اسی طرح سے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں بھی مسائل سامنے آرہے ہیں۔کیا تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی قیادت میں اپوزیشن کا رول ادا کرنے کے لیے تیار ہوگی؟ بظاہر تو نہیں لگتا لیکن یہ تاریخ کی مجبوری ہوگی کیونکہ پی پی اور ایم کیو ایم کے بعد تحریک انصاف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔یہاں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیاں تازہ ابھری ہوئی رقابت آڑے آسکتی ہے۔ 

 سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت بنا سکتی ہے۔ یہ بات ایم کیو ایم کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ لیکن سندھ کے عوام ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد سے شاکی ہیں۔ایک مرتبہ پھرایم کیو ایم سیاسی تنہائی کے دہانے کھڑی ہے۔ ایسے میں اگر اس کی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا اور سندھ  سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہ کی توتنہائی کی طرف چلی جائے گی۔ 

یہ صحیح ہے کہ الطاف حسین نے انتخابات کی جیت پر نواز شریف کو مبارکباد کا پیگام بھیجا ہے۔ مگران دو جماعتوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ خوشگوار نہیں رہی۔ ماضی قریب میں نواز شریف ایم کیو ایم کے خلاف بولتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گے۔چند سال قبل نواز شریف کی لندن میں طلب کردہ منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں قراداد منظور کی گئی تھی کہ ایم کیوا یم کے ساتھ کوئی جماعت اتحاد نہیں کرے گی۔ 

 بارہ مئی کی تقریر میں الطاف حسین  نے تحریک انصاف کو نشانہ بنایا۔ حالانکہ نواب شاہ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن الطاف حسین نے اس معاملے کو جان بوجھ کر نہیں چھوا۔ ایم کیو ایم اورپی ٹی آئی کی اس وجہ سے بھی نہیں بن پائے گی کہ تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کے ووٹ بنک میں گھسنے کی کوشش کی ہے۔ تین تلوار کا دھرنا  ایم کیوایم کے لیے دوسرا چیلینج تھا۔

نتائج  بتاتے ہیں کہ ایم کیوایم کے گڑھ میں تحریک انصاف کوپندرہ سے پچاس ہزار ووٹ تک ملے ہیں۔ بعض حلقوں میں دوسری اور تیسری پوزیشن بھی ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ لوگ نہ امیدوار کو جانتے تھے نہ کوئی انتخابی مہم چلائی گئی۔ کراچی میں ایم کیوایم مخالف ووٹ جماعت اسلامی کو نہیں بلکہ تحریک انصاف کو ہی پڑ رہا تھا۔ اس صورتحال کو پولنگ کے دوران ہی جماعت اسلامی نے بھانپ لیا تھا اور خود کو پولنگ کے بائکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔ لہٰذا الطاف حسین عمران خان کو اپنے لیے پوٹینشل خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الطاف حسین کا تحریک انصاف کی طرف لہجہ جارحانہ تھا۔

وفاق میں جب نوز شریف کی حکومت بن جائے گی تو لازمی طور  پر وہ گورنر سندھ کو بھی تبدیل کریں گے۔ کیاایم کیو ایم اپنا گورنر برقرار رکھنے کے لیے  نون لیگ کے ساتھ اتحاد کر لے گی؟ بظاہر اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ 

 زیادہ بری فکشنل لیگ کے ساتھ ہوئی ہے جو سندھ میں پیپلز پارٹی کے متبادل ہونے کا دعوا کر رہی تھی۔لیکن وہ ماضی کے مقابلے میں صرف ایک نشست زیادہ حاصل کر پائی ہے۔ اب حکومت میں شامل و ہ نہیں ہوسکتی اور  طویل عرصے تک اپوزیشن میں بیٹھنا اس کی طبیعت میں شامل نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اپنی اس اتحادی جماعت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں جس کے ذریعے انہوں نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ وفاق میں فنکشنل کو  دی جا سکتی ہے۔
سندھ میں حکومت سازی: 
 گزشتہ دور حکومت میں پیپلز پارٹی کو ایم کیوایم کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے مشکل وقت دیکھنا پڑا تھا۔لیکن صدر آصف زرداری نے سندھ میں حکومت  بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔  مبصرین کے مطابق ایم کیوا یم کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ وہ  پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سندھ میں حکومت بنائے اور قومی اسمبلی میں بھی پیپلز پارٹی کا ساتھ دے۔اس صورت میں پیپلز پارٹی کا لیڈر آف اپوزیشن بن جائے گا اور ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کو ڈپٹی لیڈرآف اپوزیشن کی سیٹ مل جائے۔  

سندھ میں پیپلز پارٹی کو مضبوط وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے۔ وزارت اعلیٰ کے لیے  سید مراد علی شاہ موسٹ فیوریٹ امیدوار تھے لیکن دہری شہریت کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔دوسر ے امکانی امیدوار خورشید شاہ اور پیر مظہرالحق ہوسکتے تھے۔ لیکن یہ دونوں صاحبان میدان میں نہیں۔ پیر مظہر انتخاب ہی نہیں لڑے۔ سیدخورشید شاہ  صوبائی اسمبلی کے نہیں بلکہ قومی اسمبلی  کے رکن ہیں۔  

اس وقت  نثار کھڑو،  میر ہزار خان بجارانی، مخدوم رفیق، نادر مگسی، اویس مظفر ٹپی، خورشید جونیجو کے نام وزارت اعلیٰ کے لیے زیر غور ہیں ہیں۔ اویس مظفرٹپی وقت سے پہلے  سیاسی حلقوں اور پارٹی میں متنازع ہوگئے ہیں۔ ہزار خان بجارانی ایم آرڈی تحریک کے بعد پیپلز پارٹی سندھ کے صدر تھے لیکن اچانک انہوں نے وزیر اعظم جونیجو سے دوستی کرلی اورلیگ میں شمولیت اختیارکر کے سنیٹر ہو گئے تھے۔ اس وجہ سے پارٹی شاید ان کو قبول نہ کرے۔ خورشیدجونیجو  بینظیر بھٹو کے قریبی لوگوں میں سے ہیں۔ لیکن پارلیمانی سیاست میں نئے ہیں۔ 

نثار کھڑو 1988ع سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ لیڈر آف اپوزیشن بھی رہے ہیں۔ انہوں نے جام صادق علی کے کٹھن دور میں بھی  سندھ اسمبلی میں اہم کردار  ادا کیا تھا۔ اور بطور اسپیکر بھی معاملات کو احسن طریقے سے چلایا۔ ایسے وقت میں جب وفاق میں  مخالفانہ حکومت ہو وہ شاید بہتر طور پر معاملات چلا سکتے ہیں۔

تبدیلی کا ڈھول - May 13, 2013

Mon, May 13, 2013 at 10:30 AM
تبدیلی کا ڈھول
سہیل سانگی 
صاف اور شفاف انتخابات پنجاب میں یا کسی حد تک خیبرپختونخوا میں ہوئے ہونگے۔ بلوچستان کا  ٹرن آؤٹ بتا رہا ہے کہ اس شورش زدہ صوبے میں اصل صورتحال کیا رہی۔ سندھ میں دھماکے،جھگڑے اور دھاندلیاں عام رہیں۔ انتخابات نے سندھ کو ایک اور بھی تحفہ دیا ہے۔ انتخابی رنجشوں اور تصادم کے بعد دیہی علاقوں میں برادریوں کے درمیان مزید نئی دشمنیاں پیدا  ہوگئی ہیں۔ کراچی میں صورتحال یہ ٹہری کہ کئی جماعتوں نے بائکاٹ کیا جبکہ باقی کو شکایت رہی کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھندلی اور ناانصافی ہوئی ہے۔ بہت لوگوں کوان انتخابات کے پرامن، شفاف اور منصفانہ ہونے پر شک رہے گا۔
 ٹی وی چینلز کے تجزیہ نگار یہ رٹ لگا ئے بیٹھے ہیں کہ تبدیلی آگئی ہے۔نہیں معلوم  یہ دوست کس کو تبدیلی کہتے ہیں۔کیا کوئی ایسی پارٹی نے بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کرلی ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ درست کردے گی؟ملک کو جنگی زون سے نکال دے گی؟ پڑوسیوں سے دوستی کرلے گی؟ یا پاکستان کے ریاستی اداروں کی حکومت سازی، پالیسی سازی میں مداخلت ختم کرادے گی؟ زمینیں کسانوں میں بانٹ دے گی۔ زرعی اصلاحات لے آئے گی؟ دراصل ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انتخابات کے نتیجے میں ابھر کر آنے والی تین بڑی جماعتوں کے پروگراموں، پالیسیوں اور حکمت عملی میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ جس سے بالائی طبقوں کے مفادات کو آنچ پہنچے۔ یا طاقتور اداروں کے اختیارات میں کوئی کمی آئے۔ ان تمام جماعتوں کے اعلانات اور باتیں انتظام کاری کو ٹھیک کرنے کی حد تک ہیں۔وہ دراصل پالیس سازی نہیں کر سکتے۔ بلکہ مئنیجری کے لیے آرہے ہیں۔ تبدیل چہرے یا منیجر ہوئے ہیں۔
 تبدیلی کے نعرے بلند کرنے کا مقصد لوگوں سے یہی منوانا ہے کہ یہی تبدیلی ہے۔ جو کچھ پنجاب میں ہواوہ الگ قصہ ہے۔ جو سندھ میں ہوا  اس میں کیا تبدیلی ہے؟ کراچی میں اور حیدرآباد یا تھرپارکر میں ہوا؟ جہاں 2008ع سے بھی بدترین دھاندلی کی اطلاعات ملی ہیں۔ کراچی میں ہر جماعت کو یہ شکوہ ہے کہ صاف اور آزادانہ انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ اگر سب پارٹیوں کو یہ شکایت ہے تو پھر گڑبڑ کہا ں سے ہوئی؟ کس نے کی؟ ٰہاں تو آزادانہ انتخابات کی نئی معنی نکل آئی تھی کہ جس کے بازو میں جتنا بل ہو وہ اتنی نشستیں لے لے۔
ناہموار انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹہرایا جا رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر مسلسل  نامکمل حفاظتی انتظامات کا گلا کرتے رہے۔پولنگ کے روزکو رکمانڈر، ڈی جی رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے رہے، ان کو بلاتے رہے، مگر کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا۔یہ سب ادارے نہیں آئے اب کیا فخرو بھائی خود ڈنڈا لے کر ہر پولنگ اسٹیشن پر پہنچ جاتے اور پولنگوں کی حفاظت کرتے؟
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اصل حکمراں دراصل یہی چاہ رہے تھے کہ اصل انتخابات صرف پنجاب میں ہوں جو ہر حوالے سے اقتدار کا مرکز ہے اور  وہاں کا فیصلہ باقی صوبوں پر مسلط کردیا جائے۔عجیب بات ہے کہ دھماکے، تشدد، دھاندلیوں اور دیگر ناانصافیوں کے واقعات صرف سندھ میں ہی کیوں ہوئے؟ سندھ میں انتخابات کا رنگ دوسرا کیوں؟ 
انتخابات نے سیاسی جماعتوں کے لیے کئی سوالات اور سبق چھوڑے ہیں۔پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہوگئی۔ کوئی پارٹی ملک گیر پارٹی نہیں رہی۔ عمران خان کا زور پنجاب میں زیادہ دکھایا جارہا تھا۔ مگر انہوں نے خیبرپختونخوا میں زیادہ نشستیں لیں۔
 پنجاب میں پیپلز پارٹی ستر اور اسی کی دہائی والی سوچ میں ہی پھنسی رہی۔اس نے اس کے بعد رونماہونے والے حقائق اور طبقوں یا گروہوں کو حساب میں نہیں لیا۔ نتیجے میں پہلا وار نواز شریف  کے ابھرنے سے ہوا۔ یوں پیپلز پارٹی شہروں سے نکل کر اور سکڑ کر دیہی علاقوں تک رہ گئی۔ اور اس نے جاگیرداروں پر انحصار کرنا شروع کردیا۔شہری علاقوں میں اکھڑتے ہوئے پیر مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ 
نوا شریف کا تمام زور کاروباری طبقے کے مفادات پر تھا۔دیہی علاقوں سے بھی پیر جمائے رکھے۔ان دونوں پارٹیوں متوسط طبقے اور ایسا طبقہ جو اپر کلاس میں شمار ہوتا ہے جس کو عام لفظوں میں ”پڑھا لکھا طبقہ“ کہا جاتا ہے، ان دو حصوں کو نظرانداز کیا۔ ان میں سے کوئی ایک یا دونوں پارٹیوں اس نئے طبقے سے رجوع نہیں کیا گیا۔ ان دونوں پارٹیوں نے خود کوپرانے طبقوں اور گروہوں تک محدود رکھا، اور ان کی حمایت حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے رہی تھیں۔ 
عمران خان نے اس طبقے کو آواز دی، اورمتحرک کرنے کی کوشش کی۔ دراصل عمران خان نے پوش علاقوں کے نوجوان کو سیاست دی۔ عام نوجوان جس طرح سے پوش علاقوں کے لوگوں کا فیشن وغیرہ کو بھی اپناتا ہے اسی طرح سے باقی نوجوانوں نے بھی اس رجحان کو اپنا لیا۔
 دونوں پرانی پارٹیاں یہ سمجھ رہی تھیں کہ خیر ہے۔ ان کے حامی عمران خان کی طرف نہیں جارہے ہیں۔ (ایک حد تک یہ درست بھی تھا) مگر نئے طبقے  میں جگہ پیدا کرنے سے عمران خان آگے آگئے۔ 
 تبدیلی کی خواہش نئے طبقے میں ہی ہوتی ہے۔ اور وہی تبدیلی کے نعرے کو فالو کرتا ہے۔ لہٰذا نئے طبقے کو متحرک کرنے سے ہی کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ کمال تھا کہ انہوں نے سماج کے ان طبقوں کو متحرک کیا  جن کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا، جن کا سیاست میں کوئی رول ہی نہیں سمجھا جاتا تھا،یا دیا جاتا تھا۔جب یہ طبقہ جاگ اٹھا تو اسٹبلشمنٹ کے لیے پی پی سے جان چھڑانا مشکل ہوگیا تھا۔ یہ طبقہ آج بھی پی پی کے ساتھ کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ 
انتخابات نے سندھ کے قوم پرستوں کے لیے ویسے تو بہت سبق چھوڑے ہیں۔ جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ مگر دو نقطے یہاں بیان کرنا ضروری ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر قوم پرست مل کر الگ شناخت سے انتخابات لڑتے تو  کوئی سیٹ جیت پاتے یا نہیں مگرآج سب کو بتا سکتے تھے کہ ہمارے چار یا پانچ لاکھ ووٹر موجود ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کچھ پتہ نہیں کتنے ووٹر قوم پرستوں کے ہیں۔ اس معاملے میں بلوچ اور پختون قوم پرست اپنا حساب کتاب ٹھیک رکھتے ہیں۔ وہ پارلیمانی سیاست اپنی الگ شناخت کے ساتھ کرتے ہیں اس لیے اسلام آباد ہو یا لاہور، یا پھر واشنگٹن یا کوئی اور، انہیں ایک فریق کے طور پر اور نمائندے کے طورپر تسلیم کیا جاتا ہے۔
سیاسی حکمت عملی میں یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ کن گروہوں یا طبقات کو آواز دی جائے اور متحرک کیا جائے۔ قوم پرستوں نے حالیہ دنوں میں پوری تحریک بلکہ پوری سیاست اس رخ  پر چلائی کہ وہ پرانے طبقات یا گروہوں کو آواز دیتے رہے انہی پر کام کرتے رہے۔ یہ سب لوگ پہلے سے سیاست میں تھے اور اپنا رول ادا کر چکے تھے یا کر رہے تھے یا کسی نہ کسی سیاسی وابستگی کے ساتھ تھے۔ اگر قوم پرست عمران خان کی حکمت عملی کو اختیار کرتے (اس سے مرادپوش علاقوں کے نوجوانوں کو متحرک کرنا نہ لیا جائے)  تو صورتحال مختلف ہوتی۔یعنی قوم پرستوں نے نہ صحیح طریقے سے متبادل دیا اور نہ صحیح حلقوں کو اپروچ کیا۔
پنجاب کے نتائج بتاتے ہیں کہ پنجاب اپنی نمائندگی یا پارٹی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔اگرچہ تحریک انصاف  بہت زیادہ نشستیں جیت نہیں پائی تاہم اکثر حلقوں میں دوسرے نمبر پر ہی۔ یہ بات قابل دید ہے کہ یہ تبدیلی وہ نہایت پرامن طریقے سے کر رہا ہے۔ پنجاب نواز لیگ سے ہٹ رہا ہے اور تحریک انصاف کی طرف جارہا ہے۔پنجاب یہ تبدیلی کیوں چاہ رہا ہے؟ بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ ”پڑھے لکھے طبقے یا نوجوان کا معاملہ ہے جو خود کو اکموڈیٹ نہیں سمجھتے یہ اپ سیٹ اس وجہ سے ہے۔ایسا نہیں اصل معاملہ اس سے آگے کا لگتا ہے۔ 
ابھی عمران خان کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور رپر خیبرپختونخوا دیا گیا ہے۔ جہاں آج کے دور میں متحدہ مجلس عمل تو نہیں بنائی جاسکتی تھی۔اگر یہ پروجیکٹ کامیابی سے چلا پائے تو مزید کچھ دینے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔
انتخابات ہو گئے کون جیتا کون ہارا، کس نے کتنے ووٹ لیے؟ یہ سب عارضی باتیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا انتخابات سے جمہوریت کو کوئی فائدہ پہنچے گا؟ کوئی ایسی راہ نکلے گی کہ ان انتخابات میں نہ سہی آنے والے وقت میں لوگوں کو اپنی مرضی سے نمائندے چننے کا اختیار مل جائے گا؟ کیا لوگوں کے دکھوں کا کوئی درمان ہوگا؟ پاکستان جس معاشی اور سیاسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اس میں سے نکل سکے گا۔ 
 جمہوریت کا مطب صرف انتخابات نہیں۔ انتخابات جمہوریت کا دروازہ ہیں۔ جس کا کھلا ہوا رہنا بہت ضروری ہے۔ پاکستا ن کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہ دروازہ ہی کھلا ہوا نہیں ہوتا۔ لہٰذا لوگ یا تو اس دروازے کو کھولنے پر اپنی تمام صلاحیتیں صرف کر رہے ہوتے ہیں یا پھر صرف
 دروازہ کھلنے کو ہی آخری منزل سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی۔

انتخابی مہم کا اختتام - May 9, 2013

Thu, May 9, 2013 at 11:45 AM
انتخابی مہم کا اختتام
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی 
خوف اور غیر یقینی فضا میں انتخابی مہم بلآخر اپنے اختتام کوپہنچی۔ انتخابی مہم کے دوران جو دہشتگردی اور تشدد  واقعات ہوئے سو ہوئے مگر پولنگ کے دن بھی ایسے واقعات کوخارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔انتخابات کے اعلان سے لیکر کاغذات نامزدگی کی چھان بین اور انتخابی مہم کے دروان بھی غیریقینی چھائی رہے کہ انتخابات ہونگے یا نہیں؟۔گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل کیانی کے بیان سے صورتحال بہتر ہوئی۔
 یہ انتخابات ایسے موقعے پر ہو رہے ہیں جس کے تقریبا ایک سال بعد افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی ہوگی۔مبصرین ان انتخابات کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اور طالبان کی انتخابی عمل میں مداخلت کو بھی اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ 
ملک میں دہشتگردگی اور انتہاپسندی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔مذہبی اور فرقہ وارانہ تضاد روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ امن امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔ ملک کے معاشی حب کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ انتخابات ایک میلے کا سماں ہوتے ہیں لیکن یہاں سوگ  جیسی صورتحال چھائی رہی۔ انتخابات میں بعض نئے رجحانات سامنے آئے جو نہ صرف ان انتخابات پر بلکہ ملک کی آئندہ سیاست پر بھی اثرانداز ہونگے۔ 
پنجاب میں روایتی جوش خروش ہے۔ باقی تین صوبوں میں امن امان کی صورتحال ہے۔ کیا یہ انتخابات متنازع تو نہیں ہو جائیں گے؟  یہ سوال بار بار اٹھایاجارہا ہے۔

تین اہم جماعتوں اتفاق سے انکا تعلق سابق حکمران اتحاد سے ہے، انکو پہلے دھمکیاں دی گئیں کہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔ بعد میں ان پر  دہشتگردوں کے حملے ہوئے۔ ان حملوں کی وجہ سے بدامنی کا مسئلہ بنا مگر اس کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کی ڈکٹیشن تھی کہ کس پارٹی کو آئندہ حکومت میں آنا چاہئے کس کو نہیں۔ 
بھٹو فیکٹر پاکستان کے انتخابات میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر 2008 تک اسٹبلشمنٹ اور پی پی مخالف  حلقے اس فیکٹر سے  تو کبھی اس کے شیڈو سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ بھٹو فیکٹر کے بغیر انتخابات ہو رہے ہیں۔ ذائقے کے طور پر بلاول بھٹو کے ویڈیو تقاریر کو آخری ایام میں شامل کیا گیا۔ اگر پیپلز پارٹی انتخابات جیت جاتی ہے  تو یہ واقعی ثابت ہو جائے گا کہ اب یہ زرداری کی پارٹی ہے۔ 
 انتخابات میں ملکی سطح پر کوئی اتحاد نہیں بن سکا۔جو کہ پاکستان کی انتخابی تاریخ کا ایک خاصہ رہا ہے حالانکہ ایک جیسی پالیسی اور پروگرام رکھنے والی جماعتیں میدان میں موجود تھیں۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون دونوں کا جھکاؤ دائیں بازو کی طرف ہے اوربہت ساری باتوں میں ایک جیسی ہیں۔دونوں کا حلقہ انتخاب پنجاب ہے۔ مگر اتحاد نہ کر سکیں۔ ان کے اتحاد نہ کرنے کی وجہ سے پنجاب میں پہلے دو فریقی مقابلہ ہوتا تھا وہ اب سہ فریقی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی مخالف ووٹ تقسیم ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی کوئی اتحاد نہیں بنایا۔یہ تینوں جماعتیں حکومت میں اتحادی رہی ہیں۔ دوران حکومت صدر زرداری بارہا یہ کہتے رہے کہ اتحادی الیکشن بھی ساتھ لڑیں گے۔ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد تینوں جماعتوں کو دہشتگردی مشترکہ  خطرے کا سامنا رہا۔ جس نے ان تینوں کو قریب تو کیا لیکن  یہ قربت انتخابی اتحاد میں تبدیل نہ ہوسکی۔نواز شریف نے بھی مختلف جماعتوں اور گروپوں کے ساتھ ورکنگ رلیشن شپ اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ بنائی گئی۔ یہی صورتحال دوسری پارٹیوں کی بھی رہی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ انتخابی نتائج کے بارے میں کوئی بھی قابل اعتماد پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا سیاسی گروہوں نے اپنے آپشن کھلے رکھے ہیں اور کوئی اتحاد نہیں بنایا۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم پرستوں کو میدان میں لایا گیا۔ ان کی سربراہی پیرپاگار کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ تاکہ صورتحال قابو میں ہی رہے۔ یہ اتحاد اور پاگارا کی فنکشنل لیگ انتخابات میں کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ 

یہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندوں کے کاررویوں کی وجہ سے تین صوبوں میں عوام کے وسیع تر حلقوں کو متحرک نہیں کیا جاسکا۔خیبر پختونخوا میں اے این پی  کے امیدوار اور قیادت خطرے میں تھی تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت۔بلوچستان میں علحدگی پسندوں نے  بلوچ رہنما کی انتخابی سرگرمیاں کو بلاک کئے رکھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ اب ان تینوں صوبوں کے سیاسی نہیں بلکہ انتظامی طور پر نمٹا جائے گا۔

پہلی مرتبہ ملک میں سیاسی ابلاغ  (پولیٹیکل کمیونیکشن) کا طریقہ کا ر تبدیل ہوا۔ اس کی ایک وجہ سیاسی مہم کو درپیش خطرات تھے تو دوسری طرف میڈیا اور کمیونیکیشن کی نئی ٹیکنالاجی کی دستیابی بھی تھا۔ ٹی وی پر ویڈیو ز، اخبارات میں اشتہارات، ویڈیو لنک سے خطاب عام رہا۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی نے اسکا بھرپور استعمال کیا۔ کیونکہ صدر زرداری کچھ خطرات کے پیش نظر تو کچھ عدلیہ کے دباؤ کے نتیجے میں انتخابی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پارہے تھے۔ بلاول بھٹو جن کو  پروگرام کے مطابق ان انتخابات میں بھرپور کردار ادا کرنا تھا مگر سلامتی کے خطرات کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکے۔انہوں نے مہم کے آخری ہفتے  میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا شروع کیا۔ زخمی ہونے کے بعد عمران خان نے بھی ہسپتال سے ویڈیو  کے ذریعے خطاب کیا۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف انتخابی گیم پر اثر انداز ہونے کے لیے تشریف لائے۔ مگر انہیں  اثراناداز نہیں ہونے دیا گیا۔ اگرچہ وہ قید ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ الیکشن کے بعد وہ رہا ہو جائیں گے۔ ان کو بند رکھنے کا مقصد انتخابت کی ایکوییشن پر اثرانداز ہونے سے روکنا تھا۔
عوام کی شرکت بہت ہی کم  رہی۔ بغیر ماس موبلائزیشن اور سیاسی کے نعرے کے یہ انتخابات غیر سیاسی لگ رہے تھے۔ ہر امیدوار اپنی اپنی مہم چلاتارہا۔ 

 تجزیہ نگاروں کی رائے کے برعکس عمران خان ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ سندھ  اور بلوچستان میں عمران خان  انتخابات کے حوالے سے غیرحاضر رہے۔ ان کی موجودگی نہ صرف پنجاب میں بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی محسوس کی گئی۔وہ واقعی کتنی نشستیں لیں گے اس بارے میں تجزیہ نگاروں کی آراء میں اتنا فرق ہے کہ آسانی سے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان میں انتخابی جیت کے لیے  ہمدردی کا ووٹ شاید لازمی ہوگیا ہے۔ عمران خان کو ان کے گرنے کے واقعے سے اب ان کو ہمدردی کا ووٹ مل سکتا ہے۔اگرچہ یہ ایک حادثہ یا اتفاقی واقعہ تھا۔اس سے مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن پر اثر پڑسکتا ہے۔ نواز شریف نے ان سے اظہار یکجہتی کے طور پر ایک روز کے لیے انتخابی مہم معطل کردی۔حالانکہ ملک کی تین بڑی پارٹیاں عملا انتخابی سرگرمیوں سے باہر رہی، لیکن نواز شریف نے ناہموار انتخابی مہم پر باقی پارٹیوں کے لیے ٹھیک سے مطالبہ بھی نہیں کیا۔  
روایتی ایلکٹ ایبل یعنی بااثر وڈیرے، چوہدری، سردار اور پیر جو عرف عام میں سیاسی خاندان کہلاتے ہیں وہی  امیدوار ہیں۔جو اس سے پہلے مختلف ادوار میں منتخب ہوتے رہے ہیں۔ 
عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ آسرا لگائے بیٹھے ہیں کہ انتخابات ان کی قسمت بدل دینگے۔ لیکن ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔سیاسی جماعتیں حکومت میں اپنی ایڈجسٹمنٹ چاہ رہی ہیں۔ بنیادی تبدیلی سے متعلق کوئی سیاسی نعرہ  فضاؤں میں نہیں گونجا۔ نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی بحث نہیں چھڑی۔ انتخابی منشوراگرچہ بہت ہی مبہم تھے اپنی جگہ پر رہے ان  منشوروں پر جلسوں بہت کم بات ہوئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دہشتگردی  کے خطرات  اور موجودہ صورتحال میں عوام کس حد تک پولنگ اسٹیشن تک پہنچتے ہیں۔ اور اندھوں میں کانا راجا  ہی سہی، پر اپنی مرضی سے منتخب کرنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔